سہیل اصغر: ’وکھری ٹائپ‘ کے آدمی اور فنکار جو رائٹر کے سکرپٹ میں اپنا رنگ بھرنا جانتے تھے

،تصویر کا ذریعہFacebook/SohailAsghar
- مصنف, طاہر سرور میر
- عہدہ, صحافی، لاہور
’سہیل اصغر کی آواز میں موت کی آہٹ سنائی دے رہی تھی، انھوں نے سرائیکی لہجے میں کہا ’یار کہندے نیں بیمار نوں بیمار دی دعا لگدی اے، میں بیمار ہاں تینوں دعا دینا ہاں کہ پروردگار تینوں مکمل صحت یاب فرمائے۔‘
(کہتے ہیں بیمار کو بیمار کی دعا لگتی ہے، میں بیمار ہوں تمھیں دعا دیتا ہوں کہ پروردگار تمھیں صحت کاملہ عطا فرمائے)۔
یہ تھے وہ آخری الفاظ جو سہیل اصغر نے دنیا سے جاتے ہوئے اپنے جونیئر فنکار نورالحسن کو وٹس ایپ پر کہے تھے۔
سہیل اصغر کو جگر کا کینسر تھا اور گذشتہ سال ان کے معدے کی سرجری بھی ہوئی تھی۔ قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کا مرض جان لیوا تھا لیکن انھوں نے قریبی دوست اداکار عابد علی کی موت کے بعد زندہ رہنے کی امید ختم کر دی تھی۔
اداکار عابد علی بھی سنہ 2019 میں جگر کے کینسر کے باعث اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔
عابد علی پاکستان میں 'منی سکرین' کے پہلے سپرسٹار تسلیم کیے جاتے ہیں۔ سہیل اصغر یوں تو عابد علی کے جونیئر تھے لیکن ان کے فن کی پختگی، برجستگی اور تنوع نے عابد علی کے دل میں ان کے لیے بہت پیار اور احترام بھر دیا تھا۔
جب سہیل اصغر نے اداکاری چھوڑنے کا فیصلہ کیا
سہیل اصغر 15جون سنہ 1954 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ سہیل اصغر کہا کرتے تھے کہ وہ نہیں بتا سکتے کہ انھیں اداکاری کا شوق کیسے ہوا، لیکن انھیں اتنا یاد ہے کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں ہی دلیپ کمار، بلراج ساہنی اور اجمل خان جیسے عظیم فنکاروں سے متاثر تھے۔
ہیر رانجھا میں کیدو کا کردار ادا کرنے والے سینیئر اداکار اجمل خان کا سہیل اصغر کی زندگی بدلنے میں اہم کردار تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ قصہ سہیل اصغر یوں سنایا کرتے تھے کہ جب وہ اپنے شہر ملتان کے بعد لاہور منتقل ہوئے تو روزانہ لاہور ریڈیو کا چکر لگانا ان کا معمول تھا۔
ایک دن جب انھیں یہ احساس ہوا کہ وہ کبھی بھی فنکار نہیں بن پائیں گے کیونکہ ان کی کوئی سفارش نہیں ہے، کوئی پری پیکر ٹائپ کی شخصیت ان کی سرپرستی نہیں کر رہی، تو انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب فنکار بننے کا خیال دل سے نکال دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/SohailAsghar
سہیل اصغر بتاتے ہیں کہ ان کے دل میں 'سرنڈر' کرنے کا خیال آیا اور وہ لاہور ریڈیو کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ کر باہر نکلنے لگے تو کسی شخص نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ 'وہ ایک نحیف بوڑھا تھا لیکن اس کی آواز یوں گرج دار تھی جیسے وہ کوئی بہت بڑا فاتح ہو، وہ تفاخرانہ احساس سے لبریز تھا مگر عاجزی کا بھی پیکر تھا۔'
چند ساعتوں میں سہیل اصغر نے اس بوڑھے مہربان کو پہچان لیا تھا، وہ عظیم اداکار اجمل خان تھے جنھوں نے جھینپے بغیر سہیل اصغر سے کہا 'سنو جس دن تمھارا اندر تمہیں ہتھیار ڈالنے کو کہے، اور اندر سے یہ آواز آئے کہ اس رستے کو چھوڑ دو، منزل نہیں ملے گی، اس دن تم نے اگر اپنے آپ کو روک لیا تو پھر تمھاری زندگی میں وہ دن آئے گا کہ جب تم بادشاہ ہو گے۔'
'صدقے تھیواں، ہم آدمی ہیں ذرا وکھری ٹائپ کے'
سہیل اصغر کے قریبی دوست نامور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید کا ان کی زندگی میں بڑا اہم کردار رہا۔
یہ بھی پڑھیے
اصغر ندیم بتاتے ہیں کہ 'سنہ 85 میں وہ اور پروڈیوسر محمد عظیم ڈرامہ سیریل 'آسمان' بنا رہے تھے۔
اس کھیل کے لیے کاسٹنگ کر لی گئی تھی ایک چھوٹے سے کردار کے لیے میں نے سہیل اصغر کو ملتان ٹیلی فون کیا اور اس کی مہربانی کہ اس نے میری پیش کش کو مسترد نہ کیا اور وہ آ گیا۔
یہ تاریخ ہے کہ سہیل اصغر نے اس چھوٹے کردار میں بھی اپنے آپ کو بڑا کر کے دکھایا۔ اس کے بعد ڈرامہ سیریل 'پیاس' میں سہیل اصغر کا میچ عابد علی اور افضال احمد سے تھا۔ سہیل اصغر نے دونوں بڑے اداکاروں کے سامنے اپنے آپ کو پوری طرح منوایا جن کے سٹارڈم کا جادو اس وقت سر چڑھ کر بول رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/SohailAsghar
مذکورہ کھیل میں شکیلہ قریشی نے ایک طوائف جبکہ سہیل اصغر نے اس کے لاڈلے بھائی کا رول نبھایا تھا۔ یہ لاڈلا بھائی اپنی بہن کے حسن اور فن کو اپنی خوشحالی اور خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتا ہے اور بہن کے قدردانوں سے مال بٹورنا اس کا مشن ہے۔
اس ڈرامے میں سہیل اصغر کا تکیہ کلام تھا 'صدقے تھیواں، ہم آدمی ہیں ذرا وکھری ٹائپ کے۔' سہیل اصغر نے اپنی زندگی مسلسل جدوجہد اور اصولوں کے ساتھ گزار کر یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی وہ وکھری ٹائپ کے آدمی تھے ۔
عام طور پر سرکاری ٹی وی میں طوائف کا کردار دکھانے پر غیر اعلانیہ پابندی ہوا کرتی تھی مگر اصغر ندیم سید کے لکھے ان دو کرداروں یعنی طوائف اور اس کے لاڈلے بھائی کو جس انداز سے شکیلہ قریشی کے ساتھ سہیل اصغر نے نبھایا تھا وہ پاکستان کے کلچرل آرکائیو میں ہمیشہ ایک ریفرنس کے طور پر محفوظ رہے گا۔
سہیل اصغر نے ریڈیو، ٹی وی، تھیٹر اور فلم جیسے روایتی میڈیم میں معیاری کام کیا لیکن ٹیلی وژن ان کے محبوب میڈیم رہا۔
ان کے نمایاں ڈراموں میں اصغر ندیم سید کی ایک اور ڈرامہ سیریل 'خواہش' بھی شامل ہے۔
مذکورہ ڈرامہ میں انھوں نے سرکس سے وابستہ ایک کردار نبھایا تھا جس میں ان کے ساتھی فنکاروں میں رانی بیگم ، جاوید کوڈو، حنا شاہین اور سیمی راحیل شامل تھیں۔ سہیل اصغر کا یہ کردار بھی کئی سال تک لوگوں کے دل ودماغ پر چھایا رہا۔
مرحوم کے دیگر یاد گار ڈراموں میں چاند گرھن، آوازیں، منچلے کا سودا، آگ، تیری میری لو سٹوری، آپ کی کنیز، کیسی ہے دیوانگی، اوڑس پڑوس سمیت دیگر شامل رہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/SohailAsghar
اداکاری میں سہیل اصغر کا سکول آف تھاٹ ریئل ازم
ٹی وی میں غیر معمولی کامیابی کے بعد فلم والوں نے سہیل اصغر کی مقبولیت کو کیش کرانے کی غرض سے بعض فلموں میں کاسٹ کیا جن میں جنگجو گوریلے، اسلحہ، مراد اور ماہ نور شامل تھیں۔
اداکاری میں سہیل اصغر کا سکول آف تھاٹ ریئل ازم رہا۔ انھیں مارلن برانڈو ،ایل پچینو سمیت مغربی دنیا کے دیگر فنکار وں کا کام دیکھنا پسند تھا۔
دنیا کی مختلف فلموں میں کیا نئے تجربات ہو رہے ہیں انھیں ان کی خبر ہوتی تھی۔ 90 کی دہائی میں جب انڈین ہدایتکار ودھو ونود چوپڑہ نے 'پرندہ' بنائی جس کے اہم کرداروں میں نانا پاٹیکر، مادھوری ڈکشت، انیل کپور اور جیکی شیروف شامل تھے، سہیل اصغر نے راقم الحروف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'پرندہ بنا کر ودھو ونود چوپڑہ نے ثابت کر دیا ہے کہ انڈیا کبھی بھی ویسٹ سے اچھی فلم بنا سکتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہFacebook/SohailAsghar
مجھے یاد ہے کہ جب ممبئی میں میری ملاقات ودھو ونود چوپڑہ سے ہوئی تو میں نے انھیں سہیل اصغر کا یہ فیڈ بیک دیا تھا جس پر ودھوونود چوپڑہ نے سہیل اصغر کے لیے شکریہ کا پیغام بھیجا تھا۔
سہیل اصغر کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا تھا جو رائٹر کے لکھے سکرپٹ کے کردار میں رنگ بھرنے کے لیے اپنے پاس سے جو جزئیات شامل کرتے تھے ان کوششوں سے وہ کردار مزید نکھر جایا کرتا تھا۔
سہیل اصغر نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ 'صدقے تھیواں، ہم آدمی ہیں ذرا وکھری ٹائپ کے' یہ تکیہ کلام اصغر ندیم سید نے لکھا نہیں تھا لیکن سہیل اصغر نے جب یہ فقرہ اس کردار کا نفسیاتی لاحقہ بنانا چاہا تو انھوں نے بخوشی اس کی اجازت دی اور یوں یہ کردار یاد گار بن گیا۔












