وہ جنھیں معاشرے نے بھلا دیا، ان کی یاد دلانے والی تصویریں

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
- مصنف, سوامی ناتھن نٹراجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
ہیئر سٹائلسٹ سے فوٹوگرافی کی دنیا میں قدم رکھنے والی سلویا الیسی نے معاشرے میں نظر انداز کیے جانے والے افراد کی عکاسی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کام نے ان لوگوں کی خوبصورتی اور انھیں تسلیم کیے جانے کے خیالات کو بدلا ہے۔
سلویا نے ایسے افراد کی تصاویر بنائی ہیں جن پر یا تیزاب سے حملہ کیا گیا ہو، برص کے شکار ہوں یا پھر وہ کسی بھی معذوری کا شکار ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ایسے موضوعات اور افراد کو چنا جنھیں انڈسٹری میں روایتی طور پر نہیں لیا جاتا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ عورتیں میرے پاس (بالوں کے لیے) آتی تھیں وہ چاہتی تھیں کہ وہ اپنی خوبصورتی میں اضافہ کریں اور اس کے لیے میں ان کی مدد کروں۔
لیکن میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ خوبصورتی شناخت اور کبھی کبھی خود اعتمادی کے معاملے کو اپنے اندر گہرے انداز میں پہناں کیے ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اُنھیں عکس بند کرنا جنھیں معاشرہ خوبصورت نہیں کہتا

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
سلویا نے 17 برس کی عمر میں اٹلی میں ہیئر سٹائلسٹ کے طور پر کام شروع کیا۔ انھوں نے شروع میں فوٹوگرافی کو ایک مشغلے کے طور پر شروع کیا لیکن پھر یہ ان کا جنون بن گیا۔
ایتھوپیا میں سنہ 2010 میں ایک دورے کے موقع پر انھوں نے دریائے آمو میں آباد وادی نسلی گروہوں کی تصاویر بنائیں اور انھوں نے محسوس کیا کہ مغرب سے آنے والے سیاح ان لوگوں کو چڑیا گھر میں قید جانوروں جیسا سمجھتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ افریقہ جا کر انھوں نے یہ سیکھا کہ کسی کی عکس بندی سے پہلے اسے جاننا چاہیے۔
سلویا کے پہلے مرکزی پراجیکٹ کے موضوعات، خیالات اور جن مسائل کو وہ اجاگر کرنا چاہتی تھیں، وہ سنہ 2017 میں سامنے آئے اور اسی دھن میں وہ انڈیا پہنچ گئیں۔ انھوں نے ممبئی میں برص کے مرض میں مبتلا ایک عورت کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکھی تھیں۔ انھیں اس بارے میں موجود توہمات کا پتا چلا اور یہ کہ اس صورتحال کی وجہ سے ان لوگوں کو کتنا تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس مرض کی وجہ سے جلد کی رنگت پر اثر پڑتا ہے اور آنکھوں کی دیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افریقہ میں درجنوں افراد کو اس مرض کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا یا مار دیا گیا۔
انڈیا میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ بتائی جاتی ہے۔ تشدد تو کم ہوتا ہے لیکن نوجوان لڑکیوں کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ اس مرض کی وجہ سے ان کی کبھی بھی شادی نہیں ہو پائے گی۔

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
سلویا نے ایک ہی گھر میں برص سے متاثرہ تین بہن بھائیوں کی تصاویر بنانے کے بعد اپنے پروجیکٹ کا دائرکار ذرا وسیع کر لیا اور اسے جلد کا نام دیا۔ وہ آگرہ میں ایسی خواتین سے ملیں جن پر تیزاب سے حملے کیے گئے تھے اور وہ زندہ بچ گئی تھیں۔ ان میں سے بہت سی خواتین کو مردوں کو انکار کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
سلویا جن کی عمر اب 45 برس ہے، کہتی ہیں کہ وہ تیزاب کے حملے سے متاثر ہونے والی خاتون سے ملیں جو کہ ایک میک اپ آرٹسٹ تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے کام کے بارے میں بہت بات چیت کی اور یہ بالکل قدرتی بات تھی۔

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
ان سے ملاقات سے قبل میں کچھ فکر مند تھی کہ کہیں انھیں مجھ سے ملنے میں کوئی پریشانی نہ ہو لیکن جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ انتہائی پرسکون انداز میں ملیں اور ان کی پوری توجہ اپنے مقصد پر تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ ہمارا مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے لوگوں میں آگہی پیدا کرنا۔
سلویا نے دونوں موضوعات کو یکجا کر لیا تھا۔ تیزاب کے حملے کا شکار ہونے والی اور برص کے مرض میں متبلا خواتین کی تصاویر بنانا۔ ’میرا خیال تھا کہ میں ایک معاشرتی مسئلے کو اجاگر کروں کہ مختلف وجوہات سے چہرے کی کھال خراب ہو جانے والی دو خواتین کو معاشرے میں ایک جیسے رویے کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔ وہ دنوں خواتین اس بارے میں اضطراب کا شکار تھیں کہ میں ان کی تصاویر کیوں بنانا چاہتی ہوں۔‘
’فن ایک علاج ہے'

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
سلویا اپنے دوسرے پروجیکٹ کے لیے بھی انڈیا آئیں اور انھوں نے عراق، افغانستان اور جاپان میں بھی لوگوں کی عکس بندی کی ہے۔
انڈیا کے شہر بھوپال میں انھیں لوگوں کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ بھوپال دسمبر 1984میں اس وقت عالمی خبروں کا محور رہا تھا جب کیڑے مار ادویات بنانے والی کمپنی یونین کاربائیڈ سے زہریلی گیس کے اخراج سے بڑی تباہی پھیلی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi

انڈیا کی حکومت نے کہا تھا کہ اس حادثے کے چند دنوں میں ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ایک سال کے اندر زہریلی گیس کے اخراج سے پندرہ ہزار افراد مارے گئے تھے۔ جبکہ آزاد ذرائع کا کہنا تھا کہ اس حادثے میں کم از کم 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس زہریلی گیس کے اخراج کے اثرات آج تک مقامی آبادی پر پڑ رہے ہیں اور آج بھی بچے مختلف جسمانی معذوریوں کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔
سلویا جب سمیر نامی ایک بچے سے ملیں تو انھیں اندازہ ہوا کہ یہ کتنا بڑا حادثہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہSilvia Aless
وہ کہتی ہیں کہ سمیر کی تصاویر بنانے کے بعد وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فن ایک فنکار، اس کا موضوع بننے والے اور اس کو دیکھنے والوں کے لیے ایک مرہم کی طرح ہوتا ہے۔
’وہ خوف زدہ نہیں تھے‘
اپنے سفر کے دوران جن دوسرے لوگوں سے سلویا کی ملاقات ہوئی وہ ان کے لیے بہت حوصلہ بخش تھے۔
جنگ سے تباہ شدہ افغانستان میں جن کی تصاویر انھوں نے اتاریں ان میں وہ خانہ بدوش قبائل بھی شامل تھے جو ایک قدیم تجارتی راستے پر آباد ہیں جو چین اور تاجکستان کی سرحدوں کے قریب سے گزرتا ہے۔
جاپان میں وہ کوچی اومے کے مثبت رویے اور مستعدی سے بہت متاثر ہوئیں۔ کوچی اومے جب 23 برس کے تھے تو ایک حادثے میں ان کا ایک پیر ضائع ہو گیا تھا لیکن انھوں نے ایک ڈانسر کے طور پر اپنا سفر جاری رکھا اور برازیل میں ہونے والے پیرا اولمپکس کی اختتامی تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
عراق میں انھوں نے ایک مقامی گائیڈ کے انتباہ کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک ایسے پارک کا رخ کیا جس کے بارے میں انھیں معلوم تھا کہ وہاں ہم جنس پرست اکثرو بیشتر پہنچتے ہیں۔ وہاں انھوں نے ایک شخص کو اس بات کے لیے راضی کر لیا کہ وہ ان کے لیے اگلے دن پوز دے گا۔
انھوں نے کہا 'میں نے صحیح آدمی کو دیکھا اور میں نے اس سے بات چیت شروع کردی اور ہنس ہنس کر اس کا اعتماد حاصل کر لیا۔ وہ گھبریا ہوا تو تھا لیکن اپنی شناخت کے بارے میں خوفزدہ نہیں تھا۔'

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
چونکہ وبائی امراض نے بین الاقوامی سفر کو محدود کر دیا ہے اس لیے سلویا نے برگامو میں اپنے گھر پر اپنی ہی تصاویر تیار کرنے لگیں۔ لیکن اب وہ اپنے اگلے پروجیکٹ کا بھی منصوبہ بنا رہی ہیں جو کہ ان کی جڑوں سے وابستہ ہے یعنی یہ بالوں پر ہے جس کو ہم اس قدر اہمیت دیتے ہیں۔
وہ اپنے لوگوں سے رابطے میں رہتی ہیں۔ انھیں اپنے کام کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کرتی رہتی ہیں کہ وہ کب اور کہاں منظر عام پر آنے والے ہیں یعنی کسی نمائش میں نظر آئیں گی یا پھر ان کی ویب سائٹ پر اور اس کے متعلق انھیں جو آرا ملتی ہیں اسے بھی شیئر کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSilvia Alessi
وہ کہتی ہیں: 'میں جب بھی اٹلی اور اس کے بارے میں ثقافتی تقاریب میں یا تصویری نمائشوں میں اپنے منصوبوں کے بارے میں بات کرتی ہوں تو میں ہمیشہ تصویروں کے پیچھے کی کہانیاں سناتی ہوں اور ان لوگوں کے نام بتاتی ہوں جن کی میں نے تصویر کشی کی ہے۔
'ان کی مدد کرنے اور انھیں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں شعور اور بیداری پیدا کرنے کا یہی میرا طریقہ ہے۔'








