پاکستان کے 50 یادگار اور عہد ساز گانے، نغمے اور دھنیں: الزائمرز کے عالمی دن پر ڈیمینشیا کا شکار افراد کے لیے بی بی سی اردو کا تحفہ

بی بی سی اردو نے اپنے قارئین، موسیقی سے وابستہ افراد اور صحافیوں کی مدد سے ایسے 50 گانے جمع کیے ہیں جو ایک عالمی پلے لسٹ کا حصہ ہوں گے جنھیں بی بی سی ورلڈ سروس ’میوزک میموریز پراجیکٹ‘ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس پلے لسٹ کے لیے بی بی سی نے اپنے قارئین کو دعوت دی کہ وہ اُن یادگار اور عہد ساز گانوں اور دھنوں کے انتخاب میں ہماری مدد کریں جن کی مدد سے ڈیمینشیا سے متاثرہ افراد کی یادیں تازہ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
21 ستمبر کو الزائمرز کے عالمی دن کے موقع پر بی بی سی کی ’میوزک اینڈ ڈیمینشیا‘ مہم کے تحت بنائی گئی اس پلے لسٹ میں نصرت فتح علی خان کے ’دم مست قلندر‘، ملکہ ترنم نور جہاں کے ’سانوں نہر والے پُل تے بُلا کے‘ اور نازیہ حسن کے ’ڈسکو دیوانے‘ جیسے مشہور گانے شامل ہیں، اور یہ اس عالمی پلے لسٹ کا حصہ بن چکے ہیں جن میں دنیا کے کئی ممالک، تہذیبوں اور ثقافتوں کی ترجمانی کی گئی ہے۔
الزائمرز کے مریضوں کی عالمی تنظیم الزائمرز ڈیزیز انٹرنیشنل کے مطابق دنیا میں اس وقت پانچ کروڑ افراد ڈیمینشیا کا شکار ہیں اور سنہ 2050 تک یہ تعداد 15.2 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں ہر تین سیکنڈ بعد کسی نہ کسی کو ڈیمینشیا کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الزائمرز کے عالمی دن کے موقع پر بی بی سی ورلڈ سروس کی کوشش ہے کہ وہ بی بی سی میوزک میموریز کی بین الاقوامی موسیقی کی لائبریری کو وسعت دے سکے جس میں موجود گانوں، نغموں اور دھنوں کی مدد سے دنیا بھر کی ثقافتوں کا ملاپ ممکن ہو سکے گا۔
اس پلے لسٹ کو تیار کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان سے لے کر ارجنٹینا تک بی بی سی کے قارئین کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے اُن مشہور و معروف گانوں کا انتخاب کریں جو ان کی یادوں میں آج بھی نقش ہیں۔
سوشل میڈیا پر موجود بی بی سی اُردو کے قارئین اور ماہرین کی مدد سے چنے گئے یہ پاکستانی گانے ایک پلےلسٹ کا حصہ ہیں جو کہ ایک جانب بی بی سی میوزک میموریز کی ویب سائٹ پر موجود ہو گی اور دوسری طرف ڈیجیٹل میوزک سروسز مثلاً سپوٹی فائے اور ایپل میوزک کی مدد سے سنی جا سکے گی۔ صارفین ان گانوں کو اپنی پسند کی پلے لسٹس میں بھی شامل کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ بی بی سی کے میوزک میموریز پراجیکٹ کے تحت بی بی سی اُردو کی اسلام آباد اور لندن میں موجود ٹیموں نے مل کر پاکستانی گلوکار عالمگیر کا مشہور نغمہ ’دیکھا نہ تھا‘ کو ملک کے چند مقبول نوجوان گلوکاروں اور موسیقاروں کی مدد سے دوبارہ تشکیل دیا ہے۔ اس گانے کی ریکارڈنگ اور ویڈیو کی فلم بندی کورونا وائرس کی وجہ سے لگے لاک ڈاؤن کے دوران ہوئی اور تمام تر فنکاروں نے اپنے اپنے حصے خود گھر بیٹھے ریکارڈ کیے ہیں۔
یہ ویڈیو بی بی سی اُردو کے فیس بک اور یو ٹیوب صفحات پر پیر کی دوپہر ریلیز کی جائے گی۔
بی بی سی اُردو کی میوزک میموریز پلے لسٹ میں مندرجہ ذیل گانے، نغمے، غزلیں اور دھنیں شامل ہیں اور یہ فہرست کسی مخصوص ترتیب میں نہیں ہیں۔ چند موسیقار یقیناً ایسے ہیں جن کے ایک سے زیادہ گانے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
نور جہاں: چاندنی راتیں، مجھ سے پہلی سی محبت، سانوں نہر والے پُل تے بلا کے
فیض احمد فیض کی لکھی گئی ’نظم مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ جب نور جہاں نے گائی تو کہا جاتا ہے کہ فیض صاحب کو اتنی پسند آئی کہ انھوں نے کہا کہ ’بھئی یہ غزل تو ہم نے نور جہاں کو دے دی ہے۔‘ اس میں شاعر نے انسانی محبت کے جذبات سے لے کر معاشرے کی تلخ حقیقتوں تک کا جو احاطہ کیا ہے اس کی نظیر اُردو شاعری میں نہیں ملتی۔
نور جہاں کا گایا ہوا گانا ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے‘ کافی پُرلطف انداز میں محبوب سے شکوؤں پر مبنی ہے۔ کئی دہائیوں قبل فلمائے گئے اس گانے کو اگر آج بھی سنیں تو یہ کسی بھی محفلِ موسیقی میں رنگ بھر سکتا ہے۔ آج بھی کئی ایک ریڈیو سٹیشنز سے لوگ فرمائش کر کے یہ گانا چلواتے ہیں۔
نصرت فتح علی خان: دم مست قلندر، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
استاد نصرت فتح علی خان کی گائی ہوئی مشہور قوالی ’دم مست قلندر‘ ایسی قوالی ہے دنیا کے کئی موسیقاروں بشمول صوفی گلوکار سمیع یوسف نے بھی بعد میں گایا ہے۔ پنجابی زبان میں گائی گئی یہ قوالی جب بجتی ہے تو ایسا سماں باندھ دیتی ہے کہ سننے والے جھوم اٹھتے ہیں۔
’ہلکا ہلکا سرور‘ تو اتنی مقبول ہوئی کہ امریکی گلوکار جیف بکلی نے بھی اسے اپنے کنسرٹ پر گانا شروع کر دیا، حالانکہ انھیں اُردو بالکل نہیں آتی!
مہدی حسن: گلوں میں رنگ بھرے، زندگی میں تو سبھی
فیض احمد فیض بلاشبہ اُن شاعروں میں سے ہیں جنھیں 20 ویں صدی میں گلوکاروں نے بہت گایا ہے۔ اس کی وجہ ان کی شاعری میں پائے جانے والے منفرد خیالات ہیں۔ ’گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے‘ بھی انھی گانوں میں سے ہے جنھیں مہدی حسن نے گا کر ہردلعزیز بنا دیا جاتا ہے۔
قتیل شفائی کی شاعری ’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں‘ کو مہدی حسن نے نغمے کی صورت دے کر امر کر دیا ہے۔ سادہ الفاظ پر مبنی یہ نغمہ مہدی حسن کی آواز میں جب بھی نشر ہوتا یا کسی جگہ چلتا ہے تو پہلی محبت سے جڑی ساری یادیں تازہ سی ہو جایا کرتی ہیں۔
احمد رشدی: بندر روڈ سے کیماڑی، کو کو کورینا
احمد رشدی کا گایا ہوا یہ نغمہ ’کو کو کورینا‘ ویسے تو 1960 کی دہائی کا ہے لیکن اپنی دھن اور احمد رشدی کی کھنکتی ہوئی آواز کی وجہ سے اپنے دور سے کافی آگے کا نغمہ لگتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک انتاکشری اور شادیوں پر یہ گانا نہ گایا جائے، ایسا ہو نہیں سکتا۔
اقبال بانو: دشتِ تنہائی، الفت کی نئی منزل
اُردو غزل، کلاسیکی اور نیم کاسیکی ٹھمری گا کر شہرت پانے والی اقبال بانو نے فیض احمد فیض کی غزل دشتِ تنہائی کو اس انگ میں گایا کہ یہ غزل ان کی وجہ شہرت اور پہچان بن گئی۔ اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ نے 'یاد‘ نامی ٹائٹل کی اقبال بانو کی کوئی غزل سُنی ہے تو شاید آپ کا جواب ہو گا نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دشت تنہائی نامی غزل کا اصل ٹائٹل ’یاد‘ ہی ہے۔
اقبال بانو کے بعد اس غزل کو بیشتر گلوکاروں نے گانے کی سعی کی۔ 'کوک سٹوڈیو' کے لیے اس غزل کو ٹینا ثانی اور میشا شفیع نے بھی گایا۔
عطا اللہ عیسی خیلوی: قمیض تیری کالی، یہ زندگی کے میلے (عارف لوہار کے ساتھ)
پنجاب میں ’روگ کا شہنشاہ‘ کے نام سے مشہور عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کو کون نہیں جانتا۔ تاہم قمیض تیری کالی اس رنگ کی عکاسی نہیں کرتا جس رنگ میں گانا عطا اللہ کو پسند ہے مگر پھر بھی یہ گانا انھیں خواص میں مقبولیت سے عوامی مقبولیت کے پیرائے میں لے آیا۔ یہ گانا فلم ’زندگی‘ کے لیے فلمایا گیا جس میں عطا اللہ اور عارف لوہار دوست ہوتے ہیں اور ایک یادگار سین میں دونوں کو مینار پاکستان پر موجود لوگوں کے ہجوم کے درمیان یہ گانا گاتے دیکھا جا سکتا تھا۔
عابدہ پروین: تیرے عشق نچایا، یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
عابدہ پروین ایسے گلوکاروں میں بہت نمایاں ہیں جنھوں نے بلھے شاہ کے کلام کو گایا اور اس کا حق ادا کر دیا۔ ’تیرے عشق نچایا‘ اس کی ایک واضح مثال ہے اور شاید عابدہ پروین سے بہتر اسے کوئی گا بھی نہیں سکتا تھا۔ اسی طرح البم رقصِ بسمل کا گانا ’یار کو ہم نے جا بجا دیکھا‘ بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔
زبیدہ خانم: آئے موسم رنگیلے سہانے
زبیدہ خانم نے ’آئے موسم رنگیلے سہانے‘ سنہ 1957 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سات لاکھ‘ کے لیے گایا تھا۔ اس فلم میں مرکزی کردار صبیحہ خانم اور سنتوش کمار نے ادا کیا تھا۔ اُس فلم میں زبیدہ خانم کی آواز صبیحہ خانم پر پر جچی تھی۔
طفیل نیازی: میں نئیں جانا کھیڑیاں دے نال
پنجابی لوک گلوکار طفیل نیازی کی 29ویں برسی 21 ستمبر (پیر) کو منائی گئی ہے اور اگر ان کا نام لیا جائے تو غالب امکان یہی ہے کہ جو پہلی دُھن جو آپ کی یادوں کے دریچے پر دستک دے گی وہ ’میں نئیں جانا کھیڑیاں دے نال‘ کی ہو گی۔
اس گانے کو انھوں نے اتنی مسحور کُن انداز میں محسوس کر کے گایا ہے کہ اگر اس کی ویڈیو دیکھی جائے تو 'ہیر' 'کھیڑیوں' کو کتنا کمتر سمجھ رہی ہے۔
رونا لیلٰی: کاٹے نہ کٹے رے
60 کے عشرے میں بطور پلے بیک سنگر اور کمپوزر اپنے کریئر کا آغاز کرنے والی رونا لیلی نے ویسے تو بہت سے مشہور گانے گائے مگر ان کی وجہ شہرت ’کاٹے نہ کٹے رے‘ نامی گانا بنا۔ نثار بزمی کا یہ گانا سنہ 1972 میں بننے والی فلم امراؤ جانِ ادا کا حصہ تھا۔
صابری برادرز: بھر دو جھولی
چشتیہ سلسلے سے منسلک صوفی قوالوں کا اگر تذکرہ کیا جائے تو صابری برادران سرِفہرست قوالوں میں سے ہوں گے۔ سنہ 1972 میں گائی گئی یہ قوالی اس وقت بھی اتنی ہی معروف تھی جتنی یہ آج کے دور میں ہے۔ اس قوالی کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے سنہ 1975 میں فلم ’بِن بادل برسات‘ کا حصہ بھی بنایا گیا تھا۔ اس قوالی کے بول اور دھن میں تھوڑی بہت ترامیم کر کے اسے سنہ 2015 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں بھی شامل کیا گیا۔
فریدہ خانم: آج جانے کی ضد نہ کرو
فریدہ خانم ان چند پاکستانی گلوکاراؤں میں سے ہیں جنھوں نے کلاسیکل موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی وگرنہ فن کی اس صنف کو عموماً مرد گلوکاروں سے ہی منسوب کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنہ 2007 میں ٹائمز آف انڈیا نے فریدہ خانم کو ’ملکہ غزل‘ کا خطاب دیا۔
شاعر فیاض ہاشمی کی غزل ’آج جانے کی ضد نہ کرو‘ کو گا کر انھوں نے اس کلام کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ سنہ 2015 میں فریدہ خانم نے اپنی اس مشہورِ زمانہ غزل کو کوک سٹوڈیو کے لیے دوبارہ ریکارڈ کروایا تھا، اس وقت فریدہ خانم کی عمر 76 برس تھی۔
ریشماں: اکھیاں نوں رہن دے
ریشماں کی آواز کو ’صحرا کی آواز‘ کہا جاتا ہے اور اس کی بڑی وجہ ان کی سُر اور لے کا کھنکتا پن ہے۔ انھوں نے پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک کی فلم انڈسٹری کے لیے بیشتر گانے گائے۔ راج کپور نے ریشماں کے اس گانے کو معمولی ترامیم کے ساتھ اپنی فلم 'بوبی' میں لتا منگیشتر سے گوایا تھا۔
امانت علی خان: انشا جی اٹھو
معروف شاعر ابنِ انشا کی لکھی گئی اس غزل کے مشہور ہونے میں سب سے بڑا کردار استاد امانت علی خان کا ہے جنھوں نے 1970 کی دہائی میں اسے گایا۔
دلچسپ بات اس غزل کے بارے میں قائم منفی تاثرات ہیں اور عام طور پر اسے ایک نحس غزل تصور کیا جاتا ہے جسے لکھنے والے ابنِ انشا، استاد امانت علی خان اور ان کے بیٹے اسد امانت علی خان اچانک چل بسے۔
عزیز میاں قوّال: تیری صورت (میں شرابی)
جب ستر کی دہائی میں صابری برادران کی گائی ہوئی قوالی ’بھر دو جھولی‘ بامِ عروج پر تھی اسی عرصے میں عزیز میاں قوال کی ’تیری صورت/میں شرابی‘ بھی سننے والوں سے داد تحسین حاصل کر رہی تھی۔ اس قوالی کے بارے میں مشہور تھا کہ جتنی مرتبہ عزیز میاں قوال نے اسے لائیو گایا اتنی ہی مرتبہ ایک الگ رنگ اور ڈھنگ میں اسے پیش کیا۔ اس قوالی کو پہلی مرتبہ ای ایم آئی ریکارڈنگ کمپنی نے ریکارڈ کیا تھا۔
عالمگیر: دیکھا نہ تھا
عالمگیر کو پاکستان میں بابائے پاپ موسیقی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ان کے عہد ساز گانوں میں سے ہے، اگرچہ یہ گانا جس فلم کے لیے لکھا گیا وہ فلاپ ہوئی مگر یہ گانا بہت ہی مشہور۔ بی بی سی اُردو نے اس گانے کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اپنے ’میوزک میموریز پراجیکٹ‘ میں ری میک کیا ہے۔
یعقوب عاطف بلبلہ: پانی کا بلبلہ
کم گانے ہی ایسے ہوتے ہیں جو اتنے مقبول ہو جاتے ہیں کہ اپنی پہچان کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے گلوکار پوری زندگی ایسے ہی گانوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ’پانی کا بلبلہ، چار دناں دی زندگی‘ بھی ایسا ہی گانا ہے جو سنگر یعقوب عاطف کی زندگی کا باقاعدہ حصہ بنا اور انھوں نے اسے اپنے نام کے ساتھ بطور لاحقہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔
منی بیگم: آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے
ستر کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز کرنے والی نادرہ بیگم اپنے عرف عام ’مُنی بیگم‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ جب منی بیگم نے یہ غزل پہلی مرتبہ گائی تو اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ منی بیگم کو بجی سطح پر منعقد ہونے والی لگ بھگ تمام موسیقی کی محفلوں میں صرف اس لیے بلایا جانے لگا کہ وہ یہ گانا لائیو سنا سکیں۔
ملکہ پکھراج اور طاہرہ سید: ابھی تو میں جوان ہوں
سنہ 1912 میں پیدا ہونے والی ملکہ پکھراج کا آپ کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والا گانا ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ یاد ہو گا جس میں وہ اپنی بیٹی طاہرہ سید کے ساتھ بیٹھی اسے گا رہی ہیں۔ ابھی تو میں جوان ہوں مشہور شاعر حفیظ جالندھری کا کلام تھا جسے اس ماں بیٹی کی جوڑی نے گا کر امر کر دیا۔
حبیب ولی محمد: یہ نہ تھی ہماری قسمت
20 کی دہائی میں پیدا ہونے والے غزل اور فلم پلے بیک سنگر حبیب ولی محمد کی وجہ شہرت ان کی گائی ہوئی مشہور غزل ’یہ نہ تھی ہماری قسمت‘ بنی۔ یہ غزل غالب کی ہے۔ حبیب ولی نے ویسے تو غالب اور بہادر شاہ ظفر کا بہت سا کلام گایا مگر وہ اتنا مشہور نہ ہو سکا جتنا کہ یہ غزل۔
بینجامن سسٹرز: گاڑی کو چلانا بابو
آپ کو بینا، شبانہ اور نریسا نامی وہ تین بہنیں تو یاد ہوں گی جو اسی کی دہائی میں پاکستانی موسیقی کا ایک اہم حصہ تھیں مگر پھر اچانک وہ کہیں کھو گئیں۔ اُن کا مشہور گانا 'گاڑی کو چلانا بابو' اسی کی دہائی کے وسط میں گایا گیا ایک گانا تھا، مگر پھر اپنے فن کے عروج پر تینوں بہنوں نے گائیکی کو خیرآباد کہہ دیا۔
نازیہ حسن: ڈِسکو دیوانے
نازیہ حسن اور ان کے بھائی صہیب کی جوڑی آج بھی پاکستانی موسیقی میں لیجنڈز کی حیثیت رکھتی ہے۔ سنہ 1981 میں ریلیز ہونے والے نازیہ حسن اور صہیب کے پہلے سانگ البم کا ٹائٹل بھی اسی گانے کے نام پر تھا۔ اس گانے کی مقبولیت کے تمام پرانے ریکارڈ توڑے تھے اور اسے 14 مختلف ممالک کے سانگ چارٹس کا حصہ بنایا گیا۔ ڈسکو دیوانے البم نے ایشیئن پاپ میں بیسٹ سیلنگ البم کا ریکارڈ بھی بنایا تھا۔
ٹینا ثانی: بہار آئی
بہار آئی بھی فیض احمد فیض ہی کی غزل تھی جسے ٹینا ثانی نے نوے کی دہائی میں گایا۔
وائٹل سائنز: دل دل پاکستان
وائٹل سائنز کے بنائے گئے اس نغمے میں پاکستان سے اتنی والہانہ محبت کا اظہار اتنے مدھر انداز میں کیا گیا ہے کہ اسے اکثر اوقات پاکستان کا غیر سرکاری قومی ترانہ بھی کہا جاتا ہے۔ 14 اگست 1987 کو ریلیز ہونے والا یہ نغمہ آج تک سننے والوں کے دلوں کو گرما دیتا ہے۔
حسن جہانگیر: ہوا ہوا
حسن جہانگیر نے موسیقی کی دنیا میں باقاعدہ قدم اسی کی دہائی میں رکھا، تاہم جون 1987 میں ان کا گایا ہوا گانا ’ہوا ہوا‘ ایسا ریکارڈ توڑ ثابت ہوا کہ حسن جہانگیر کے شاید ہی کسی اور گانے کے حصے میں اتنی مقبولیت آئی۔ اس گانے کی ڈیڑھ کروڑ کاپیاں صرف انڈیا میں فروخت ہوئی تھیں جو اس کی مقبولیت کا منھ بولتا ثبوت تھا۔
الن فقیر اور محمد علی شہکی: اللہ اللہ کر بھیا
سندھ سے تعلق رکھنے والے صوفی لوک گلوکار الن فقیر کو شاید اس گانے کے مارکیٹ میں آنے سے قبل پاکستان میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے اس کے باوجود کہ وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے صوفی کلام گا رہے تھے۔ تاہم اپنے وقت کے پاپ سنگر محمد علی شہکی کے ساتھ ان کا گانا ’اللہ اللہ کر بھیا‘ ان کو معروف بنا گیا۔
اس گانے پر شہکی اور الن فقیر کو بیسٹ سنگر کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
سٹرنگز: سر کیے یہ پہاڑ
1988 میں تشکیل پانے والا چار کالج کے دوستوں کا بینڈ سٹرنگز پاکستانی موسیقی میں تازہ ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوا۔ سنہ 1992 میں اس بینڈ کے ریلیز کردہ دوسرے البم کا ایک گانا ’سر کیے یہ پہاڑ‘ نہ صرف اس بینڈ کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بینڈ کی پذیرائی ہوئی۔
سجاد علی: بے بیا
سجاد علی کا تعلق موسیقی کے گھرانے سے تھا۔ سنہ 1993 میں سامنے آنے والا ان کا گانا بے بیا ان کو موسیقی میں مرکزی دھارے میں لے آیا۔ اس گانے کی خاص بات یہ تھی کہ باقاعدہ موسیقی گھرانے سے تعلق ہونے کی بنا پر اس پاپ گانے کو گانے والے کی کلاسیکی موسیقی کی تربیت ظاہر تھی۔
علی حیدر: پرانی جینز
علی حیدر کا پرانی جینز ہم میں سے کس نے نہیں سنا؟ یہ وہ گانا ہے جو تقریباً تمام پاکستانی نوجوانوں بالخصوص 90 کی دہائی میں جوان ہونے والوں کے جذبات اور ان کی یادوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس گانے کو بندہ سنے اور دو تین دہائیوں پیچھے نہ چلا جائے، ایسا ممکن نہیں ہے۔
نجم شیراز: ان سے نین ملا کے دیکھو
نجم شیراز کے ایسے بہت سے گانے نہیں ہے جو ان کی وجہ شہرت بنے۔ تاہم ’اِن سے نین ملا کے دیکھو‘ کی بات ہی الگ ہے۔ اس گانے سے نوجوانوں کی وابستگی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ تمام لوگ جنھیں ماضی کے عشق میں دھوکہ ملا یہ گانا ان کے دلوں کی آواز بن گئی۔
شازیہ خشک: دانے پہ دانا
رنگ برنگے کپڑے اور ان کے پیچھے موسیقی کے آلات بجاتے اور جھومتے گاتے موسیقار۔ جی ہاں، بالکل ٹھیک پہچانا آپ نے بات شازیہ خشک اور ان کے گانے دانے پہ دانا کی ہو رہی ہے۔ یہی وہ گانا ہے جو ان کی پہچان بنا اور ان کے ہونے والے تمام کنسرٹس میں وہ واحد گانا جس کی ان سے پرزور فرمائش ہوتی وہ یہی گانا ہے۔
ابرار الحق: بلّو
ابرار الحق کا پہلا البم بلو 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے زیادہ تر پاکستانی نوجوانوں کا خریدا گیا پہلا میوزک البم بھی ہے۔ اس وقت تک پاکستان میں اتنے مزاحیہ عشقیہ گانوں کا رواج عام نہیں تھا اس لیے روایتی پاپ میں اسے تازہ ہوا کا جھونکا تصور کیا گیا اور بلو کے ساتھ ساتھ ابرار الحق گھر گھر جانے پہچانے جانے والی شخصیت بن گئے۔
عدنان سمیع خان: ڈھولکی
آپ کے ذہن کوئی ایسی مہندی کی تقریب ہے جس میں ’ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریوں‘ نہ گایا گیا ہو؟ سنہ 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سرگم‘ میں اس گانے کو شامل کیا گیا تھا۔
جنید جمشید: تمہارا اور میرا نام
جنید جمشید کے بہت سے معروف گانوں میں سے ایک پیار بھرا گانا ’تمھارا اور میرا نام‘ ہے۔ یہ گانا اسی زمانے کا ایک اظہار تھا جس میں عموماً دوست جنگل میں درختوں پر اپنے نام کسی سخت پتھر یا نوکیلی چیز سے کنندہ کر دیتے تھے تاکہ محبت کی کوئی یادگار رہے۔
جنون: سئیو نِی
جنون بینڈ کا گایا ہوا یہ گانا سیونی نہایت مختصر بول ہونے کے باوجود اپنی معنویت میں بہت ہر پُراثر ہے اور سننے والوں پر عجب کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس گانے کی ویڈیو میں بھی جس طرح انسان کی بے ثباتی کی عکاسی کی گئی ہے اس سے موسیقی اور ویڈیو کے درمیان خوب تال میل جم جاتا ہے۔
شازیہ منظور: آ جا سوہنیا
شازیہ منظور پاکستان کے ہر گھر میں ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ گھر آ جا سوہنیا بھی ایک ایسا ہی گانا ہے جس سے بہت سے لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں۔
حدیقہ کیانی: بوہے باریاں
حدیقہ کیانی کا پاپ گانا بوہے باریاں سنہ 2000 کی دہائی کے مشہور ترین پاپ گانوں میں سے ہے اور شاید یہ حدیقہ کی جادوئی آواز کا ہی کمال ہے کہ پنجابی زبان سے ناواقف نوجوان بھی اس گانے کو پورا یاد کر لیتے اور گنگناتے، اور آج تک یہ گانا ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو مکمل طور پر یاد ہے۔
فریحہ پرویز: پتنگ باز سجنا
ملکوں کے تو ترانے ہوتے ہیں مگر کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی تہوار کا اپنا ایک الگ ترانہ ہو؟ فریحہ پرویز کا یہ گانا بسنت کے تہوار کے ترانے کی سی حیثیت رکھتا ہے اور اپنی ریلیز سے آج تک پتنگ بازی کے دوران اسے بجایا جانا اتنا ہی لازم ہے جتنا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے دل دل پاکستان بجایا جانا۔










