بہنوئی اور چاول کا ٹرک: انڈین لکھاری شیو رام داس کی وائرل کہانی نے سوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لیے

چاول کا ٹرک

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر آپ کے گھر کے باہر چاولوں سے لدا ٹرک آن کھڑا ہو تو آپ کیا کریں گے؟ شیو رام داس کے پاس کچھ تجاویز ہیں۔۔۔(فائل فوٹو)

اکثر کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود سُنی سنائی کہانیوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر من گھڑت ہوتی ہیں۔ ہم میں سے چند عقل مند تو اس تجویز پر من و عن عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن کبھی کبھار کوئی ایسا قصہ سامنے آتا ہے جو اتنا سنسنی خیز ہوتا ہے کہ آپ کا دل مان کر ہی نہیں دیتا کہ یہ سچ بھی ہو سکتا ہے۔ البتہ حقیقی زندگی اکثر خیالی دنیا سے زیادہ عجیب ہوتی ہے اور اسی لیے ایسے ’سٹرینجر دین فکشن‘ یعنی افسانے سے بھی زیادہ عجیب واقعات کو بہت پزیرائی ملتی ہے۔

یہ کہانی بھی ایسے ہی ایک واقعے کی ہے۔

'اوہ میرے خدایا! میرے بہنوئی روز روز چاول خرید کر تنگ آ گئے اور انھوں نے دکاندار سے تھوک میں خریدنے کی بات کی۔ ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے باہر چاول سے لدا ایک پورا ٹرک کھڑا ہے اور میری بہن غصے سے آگ بگولہ ہو رہی ہیں!‘

یہ امریکہ میں مقیم انڈین لکھاری شیو رام داس کے اس وائرل ٹوئٹر تھریڈ کے ابتدائی کلمات تھے جس میں انھوں نے انڈیا میں مقیم اپنے گھر والوں کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کی براہ راست منظرکشی کی تھی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nameshiv

یہ بھی پڑھیے

اس واقعے کے مرکزی کردار شیو کے بہنوئی اور ان کی اہلیہ (یعنی شیو کی بہن) کا اُن پر رعب ہے۔ کہانی میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جہاں اہلیہ کے ڈر سے شیو کے بہنوئی کوئی ایسی حرکت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو انھیں وقتی طور پر تو بچا لیتی ہے لیکن بالآخر اہلیہ کے ہاتھوں ان کی شدید ’عزت افزائی‘ کا سامان بھی مہیا کرتی ہے۔

بہنوئی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ (شیو) پیشہ وارانہ طور پر ڈراؤنی کہانیاں لکھتے ہیں لیکن انھوں نے کبھی کسی مرد کے چہرے پر اتنا خوف نہیں دیکھا جتنا ان کے بہنوئی کے چہرے پر اپنی اہلیہ کے یہ الفاظ سُن کر نمودار ہوا کہ ’یہ ٹرک ابھی تک میرے گھر کے باہر کیا کر رہا ہے؟‘

شیو شروع میں ہی واضح کر دیتے ہیں کہ وہ محض بہن سے فون پر بات کر رہے تھے لیکن وہ امریکہ میں بیٹھے ہوئے ان کے غصے کی شدت محسوس کر سکتے تھے۔ ’اگر آپ نے کبھی کسی خاتون کو اپنے میاں کو ایک ہی جملہ 25 بار ادا کر کے پست کرتے نہیں دیکھا تو میری بہن سے ملیے۔‘

شیو کے مطابق کیونکہ یہ واقعہ انڈیا میں پیش آیا اس لیے یہاں ٹرک سے مراد کوئی چھوٹی پِک اپ وین نہیں بلکہ چاولوں کی بوریوں سے لدا ایک بھاری بھرکم ٹرک ہے۔

شیو کے بہنوئی (جنھیں اب ہم آسانی کے لیے صرف ’بہنوئی‘ لکھیں گے) ٹرک کے ڈرائیور اور ہیلپر کی منت سماجت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں چاول واپس لے جانے کے عوض رشوت دینے کی پیشکش بھی کرتے ہیں، جو کہ ٹھکرا دی جاتی ہے۔

شیو لکھتے ہیں: ’یہ معلوم نہیں کہ معاملہ اصول کا تھا یا قیمت کا۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nameshiv

کافی دیر بحث کرنے کے بعد بہنوئی گھر کے اندر آ کر بتاتے ہیں کہ ڈرائیور بضد ہے کہ انھیں چاول کی قیمت ادا کرنی ہو گی اور اسے گھر پر انھیں خود ہی اتارنا پڑے گا، لیکن یہ کہتے کہتے انھیں شاید کچھ اور سوجھتی ہے اور وہ ایک بار پھر ڈرائیور کے منھ لگنے نکل پڑتے ہیں۔

شیو کے مطابق بہنوئی نے ایسا کسی بھی ممالیہ جانور کی طرح اپنی جان بچانے کے لیے کیا، کیونکہ انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ نتیجہ ان کی بیگم کے لیے قابل قبول نہیں۔

پھر کافی دیر مذاکرات جاری رہتے ہیں۔ پہلے ایک گودام والے کو فون کیا جاتا ہے لیکن وہ فون نہیں اٹھاتا۔ اتنے میں ٹرک ڈرائیور اور ہیلپر بہنوئی سے لے کر سگریٹ سلگاتے ہیں اور پھر قہقہوں کی آواز بھی آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہنوئی اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں، لیکن صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔

بہنوئی نے دراصل اپنی بیوی کو بتایا ہوا ہے کہ انھوں نے سگریٹ پینا چھوڑ دیا ہے اور ان کے پاس سے سگریٹ کی برآمدگی کے بعد ایسا لگنے لگتا ہے کہ یہ چال ان کی نجی زندگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nameshiv

واضح رہے کہ اب تک گھر میں صرف تین افراد ہیں: شیو کی والدہ، بہن اور بہنوئی اور شیو یہ پوری کہانی اپنی والدہ کے فون کے ذریعے دیکھ اور سن کر لائیو ٹویٹ کر رہے ہیں۔

اتنے میں شیو کے والد گھر واپس لوٹ کر پوچھتے ہیں: ’باہر یہ ٹرک کیسا کھڑا ہے۔ اسے کیوں بلوایا ہے؟‘

اس دوران ٹرک ڈرائیور گودام والے سے تو رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے لیکن ان کا کوئی ساتھی انھیں کسی مانو نامی شخص سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ’وہ مانو ہے، یہ اس کا نمبر ہے، اسے کال کرو وہ سب نمٹا دے گا۔‘

جب مانو بھی فون اٹھانے سے اجتناب کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری امید بھی جواب دے گئی، لیکن پھر تھوڑی دیر بعد مانو کا فون آتا ہے تو چراغوں میں روشنی لوٹ آتی ہے۔

مانو پہلے ڈرائیور سے بات کرتا ہے، جو اپنا مقدمہ بڑھ چڑھ کر پیش کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس پورے معاملے میں اصل معصوم تو وہ ہے۔ شیو کی بھی ذاتی ہمدردیاں ڈرائیور کے ساتھ ہی ہیں۔

پھر مانو بہنوئی سے بات کرتا ہے۔ بات چیت کے دوران بہنوئی مشتعل ہونا شروع ہو جاتا ہے تو مانو ایک بار پھر ڈرائیور سے بات کرنے کا کہتا ہے۔ جب وہ ڈرائیور کے ہیلپر سے بات کرتا ہے تو شیو کو لگتا ہے کہ یہ مانو کوئی انصاف پسند شخص ہے اور سب کی رائے لینے میں یقین رکھتا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nameshiv

’شاید وہ مجھ سے بھی بات کرنا چاہے۔‘ لیکن ایسا نہیں ہوتا اور شیو اس بارے میں اپنی مایوسی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے۔

پھر گھر کے اندر کہرام مچ جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ شیو کی والدہ اپنے میاں کو ڈانٹ رہی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انھوں نے مانو سے بات کرنے کی فرمائش کی۔ اس کے نتیجے میں شیو کے والد کو گھر کے اندر بھیج دیا جاتا ہے تاہم وہ کرفیو توڑ کر ایک بار پھر نمودار ہوتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ انھیں کوئی پرواہ نہیں ٹرک کا کیا بنتا ہے۔ اگر کھانا نہیں ملے گا تو وہ ٹی وی دیکھ لیں گے کیونکہ دنیا کے حالات سے بھی باخبر رہنا چاہیے۔

لیکن انھیں شاید اندازہ نہیں کہ سوشل میڈیا کی دنیا کی توجہ اس وقت ان کے خاندان پر مرکوز ہے۔

پھر اچانک بریکنگ نیوز آتی ہے کہ مانو راستے میں ہیں! وہ ڈرائیور سے فون پر بات کرتے ہیں لیکن اس کے بعد کافی دیر تک کوئی خبر نہیں ملتی۔ مانو کا اگلا فون اس وقت آتا ہے جب وہ کھو چکے ہوتے ہیں اور راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

اسی دوران شیو کی والدہ کھانا لگا دیتی ہیں۔ شیو کے مطابق ’کھانے میں چاول کی کوئی ڈش نہیں ہے۔‘

پھر وہی ہوتا ہے جس کا ڈر تھا، مانو عین کھانے کے دوران آن وارد ہو جاتا ہے۔ یہ یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے لیکن شیو کی والدہ کسی کو کھانا ختم کیے بغیر اٹھنے کی اجازت نہیں دیتیں۔

کھانا ختم کر کے پورا خاندان جب واپس گھر کے باہر آتا ہے تو ان کو مانو کا پہلا دیدار ہوتا ہے۔ شیو کے مطابق مانو کا حلیہ ’ایک عام شرٹ پینٹ میں ملبوس دیسی انکل کی مانند ہے۔‘

مانو آتے ہی کچہری لگا لیتا ہے۔ پہلے بہنوئی پرزور انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں اور مانو اپنا سر ہلاتا ہے۔ پھر ڈرائیور کی باری آتی ہے اور مانو پھر سر ہلاتا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nameshiv

صورتحال کو واپس اپنے قابو میں لانے کے لیے بہنوئی ’کیا آپ شادی شدہ ہیں؟‘ والی چال چلتا ہے اور ایسے مانو کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف مانو بلکہ ڈرائیور بھی شادی شدہ ہے۔

بیوی کے ڈر کا چونکہ ہر زبان میں ترجمہ ہو سکتا ہے شاید اسی لیے مانو معاملات طے کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے اور وہ پیشکش کرتا ہے کہ اگر بہنوئی کچھ چاول کی بوریاں خرید لیں تو باقی وہ خود لے جائے گا۔

یوں ان ’کچھ بوریوں‘ کی تعداد مختص کرنے پر مذاکرات شروع ہوتے ہیں اور مانو ففٹی ففٹی کی آفر پر اڑ جاتا ہے۔ اس کے جواب میں بہنوئی کہتا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو مانو کو چاولوں کے ساتھ ساتھ انھیں بھی لے جانے کا بندوبست کرنا پڑے گا۔

پھر بہنوئی مانو کو 10 بوری چاول رکھنے کے بدلے ایک سکاچ کی بوتل تھمانے کی پیشکش کرتے ہیں لیکن مانو شراب نہیں پیتے۔ البتہ شراب کے ذکر پر ڈرائیور کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور وہ سکاچ یا رم کی بوتل پر رضامندی ظاہر کرتا ہے۔

لیکن مانو اس کے ارمانوں پر پانی پھیر دیتا ہے جس کی وجہ سے ڈرائیور فوراً وفاداریاں تبدیل کر کے بہنوئی کی سائیڈ لینا شروع کر دیتا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ شراب یہیں سے ملے گی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nameshiv

اتنے میں پڑوس سے کرتا شلوار پہنے ایک انکل نمودار ہوتے ہیں جنھیں یقین ہے کہ پورا معاملہ وہ ہی حل کر سکتے ہیں۔ لیکن جب ان کی بیوی انھیں بغیر ماسک پہنے باہر نکلنے پر کوستی ہیں تو وہ الٹے پاؤں غائب ہو جاتے ہیں۔

بہنوئی اب تک 20-25 بوری چاول رکھنے پر راضی ہو چکے ہیں اور تمام فریق ہاتھ ملاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ معاہدے کی شرائط 23 بوری چاول، ایک بوتل رم اور ایک بوتل سکاچ پر طے ہوتی ہیں۔ شیو کے حساب سے ڈرائیور اس سودے میں بازی لے گیا ہے۔

لیکن پھر ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے: یہ 23 بوری چاول کون اتارے گا؟ اب تک سب لڑ لڑ کر چور ہو چکے ہیں اور کسی میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں۔ آخر کار بہنوئی، ڈرائیور اور اس کا ہیلپر 23 بوری چاول اتارتے ہیں اور مانو اپنا راستہ ناپتا ہے۔ شیو کو یقین ہے کہ اسے ابھی اور بھی کئی جھگڑے نمٹانے ہوں گے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nameshiv

اس موقع پر پڑوسی انکل ماسک سمیت میدان میں دوبارہ نمودار ہوتے ہیں لیکن جونھی بہنوئی ان سے چاول کی بوریاں اتارنے کی درخواست کرتے ہیں تو ان کی گھر کی طرف واپس بھاگنے کی رفتار دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

کہنے کو تو یہ کسی بھی گھر کی کہانی ہو سکتی تھی لیکن شیو کے منفرد اندازِ بیان اور مرحلہ وار کمنٹری کی بدولت یہ کہانی دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس تھریڈ کی بدولت شیو کو راتوں رات کئی ہزار نئے فالوورز مل گئے اور ہزاروں کی تعداد میں ٹوئٹر صارفین کئی گھنٹوں جاری رہنے والے اس واقعے کی لمحہ بہ لمحہ خبر لینے کے لیے بیتاب نظر آئے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

کئی لوگوں کو یہ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ شیو جو یہ کہانی اتنے انہماک سے سُنا رہے ہیں وہ دراصل انڈیا میں نہیں بلکہ امریکہ میں موجود ہیں اور محض اپنی والدہ کے فون کے ذریعے یہ سب کچھ دیکھ کر بیان کر رہے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

لیکن آخر شیو رام داس بھی پیشہ وارانہ طور پر کہانیاں گھڑتے ہیں۔ وہ سائنس فکشن کی دنیا میں ایک جانا پہچانا نام ہیں اور ان کی کہانیوں کو ہیوگو اور نیبولا ایوارڈز کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔ تاہم بہنوئی کی کہانی شاید ان کی پہلی کاوش ہے جو کہ حقیقی کرداروں پر مبنی ہے۔