بالی وڈ ڈائری: کنگنا کی ٹوئٹر پر عامر خان کا نام لے کر دھماکے دار انٹری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
اس وقت بالی وڈ میں دو ایسے نام ہیں جو مسلسل سرخیوں میں ہیں۔ ایک ہیں سوشانت سنگھ راجپوت اور دوسری نام ہے کنگنا رناوت کا، جن پر آج کل یہ ڈائیلاگ پورا اترتا ہے ’میں تمہیں بھول جاؤں یہ ہو نہیں سکتا اور تم مجھے بھول جاؤ یہ میں ہونے نہیں دوں گی۔‘
بہرحال اس ہفتے کنگنا نے ٹوئٹر جوائن کیا ہے اور انھوں نے پوری کوشش کی کہ ٹوئٹر پر ان کی انٹری دھماکے دار ہو اس کے لیے انھوں نے عامر خان جیسے بڑے سٹار کا سہارا لیا اور ان کے بارے میں چھپنے والی ایک پرانی خبر کو شیئر کیا جس میں عامر کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ میری دونوں بیویاں ہندو ہیں لیکن میرے بچے اسلام پر ہی عمل کریں گے۔
اس آرٹیکل کو شیئر کرتے ہوئے کنگنا نے لکھا: ’ہندو + مسلم = مسلمان‘ یہ تو کٹر پنتھی ہے۔ جس کے جواب میں ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’عامر کے بارے میں چھپنے والی یہ غلط خبر دس سال پرانی ہے جس پر عامر خان نے شکایت درج کروائی تھی اور اس صحافی کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔‘
اس کے بعد ٹوئٹر پر کنگنا کی ملامت بھی کی گئی کہ وہ عامر خان کے خلاف فیک نیوز پھیلا رہی ہیں۔ ٹوئٹر جوائن کرتے ہوئے کنگنا نے اپنی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ ٹوئٹر کیوں جوائن کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان کے بارے میں بری بری باتیں کرتے تھے اور انھیں چڑیل تک کہا گیا لیکن انھوں نے کبھی جواب نہیں دیا لیکن سوشانت سنگھ کی موت کے بعد انھیں احساس ہوا کہ سوشل میڈیا کی طاقت کتنی بڑی اور اہم ہے۔
ویسے ٹوئٹر پر کنگنا کے تیروں کی زد میں صرف عامر خان ہی نہیں بلکہ دپیکا پادوکون، سارہ علی خان، مہیش بھٹ اور نصیر الدین شاہ کے ساتھ ساتھ عالیہ بھٹ وغیرہ بھی ہیں۔
دیکھتے ہیں اب کنگنا اپنے انداز میں ٹوئٹر پر کس کس کو انصاف دلوانے کی مہم چھیڑیں گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جہاں تک سوشانت کو انصاف دلوانے کی ان کی مہم ہے تو اس بارے میں سوشانت کے اہلِخانہ کے وکیل وکاس سنگھ کا کہنا ہے کہ کنگنا نے سوشانت کے معاملے میں کچھ باتیں درست کہی ہیں لیکن اس معاملے میں ان کا اپنا ایجنڈہ ہے۔
بالی ووڈ ویب سائٹ ’پِنک ولا‘ کے ساتھ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ کنگنا اپنے ذاتی بدلے چکانے کی مہم پر ہیں۔
ایک طرف کنگنا رناوت کا ٹوئٹر پر ڈبیو ہوا تو دوسری جانب سارہ علی خان اور کارتک آریان نے انسٹا پر ایک دوسرے کو ان فالو کردیا۔
سارہ علی خان اور کارتک آریان کی نزدیکیوں کے چرچے عام تھے لیکن دونوں ہی نے کبھی اپنے رشتے کے بارے نہ تو انکار کیا اور نہ ہی اقرار کیا۔
کہا جا رہا ہے کہ دونوں اپنی فلم ’لو آجکل‘ کی ریلیز کے بعد سے الگ ہو چکے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان کچھ تھا یا نہیں اور اگر تھا تو بریک اپ کیوں ہوا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن گزشتہ سال کرن جوہر کے شو ’کافی ود کرن‘ میں سارہ نے قبول کیا تھا کہ وہ کارتک کو پسند کرتی ہیں۔ اس کے بعد سے دونوں اکثر ایک ساتھ نظر بھی آنے لگے تھے۔

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/SARA ALI KHAN
سارہ کی اگلی فلم ڈیوڈ دھون کی فلم ’قلی نمبر ون‘ ہے جس میں ان کے ساتھ ورن دھون نظر آئیں گے۔ادھر کارتک بھی فلم بھول بھلیاں ٹو اور دوستانہ ٹو کی تیاری میں مصروف ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ سوشانت کی موت اور پھر اس کے بعد پیدا کیے جانے والے تنازعوں نے جیسے کچھ فلسمازوں اور اداکاروں کے زخموں کو ہرا کر دیا ہو۔ شیکھر سمن سے لیکر مدھر بھنڈارکر سمیت سبھی اپنے اپنے ساتھ مبینہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کا ذکر کرنے لگے۔
اب مدھر بھنڈارکر کا کہنا ہے کہ بالی وڈ ان سے ناراض ہے کیونکہ انھوں نے اپنی فلم ’ہیروئن‘ میں انڈسٹری کی کڑوی سچائی کو دکھانے کی کوشش کی تھی۔
سنہ 2012 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں کرینہ کپور نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔ مدھر بھنڈارکر کی اس فلم میں انڈسٹری میں پی آر مشینری کی جوڑ توڑ اور فلم کے ہیروز کے کہنے پر ہیروئنز کے رول کو کم یا کمزور کرنے جیسی چیزیں دکھائی گئی تھیں۔
مدھر کا کہنا ہے کہ سوشانت کی موت کے بعد لوگوں نے ان سے کہا کہ ان کی فلم ہیروئن نے انڈسٹری کے کافی لوگوں کو ناراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی اس فلم میں جو بھی دکھایا تھا وہ حقیقت ہے اور انڈسٹری میں ایسا ہی ہوتا ہے۔








