#Oscars: جنوبی کوریا کی فلم ’پیراسائٹ‘ نے اکیڈمی ایوارڈز میں تاریخ رقم کر دی

بونگ جون ہو

،تصویر کا ذریعہReuters

جنوبی کوریا کی فلم ’پیراسائٹ‘ نے 2020 کے آسکرز ایوارڈز میں بہترین فلم کا ایوارڈ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

یہ آسکرز کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ انگریزی کے علاوہ کسی اور زبان میں بنائی جانے والی فلم نے ’بہترین فلم‘ کا ایوارڈ جیتا ہے۔

پیراسائٹ نے امریکی شہر لاس اینجلس کے ڈولبی تھيٹر میں منعقد ہونے والی تقریب میں بہترین فلم کے علاوہ بہترین ہدایتکار سمیت چار آسکر ایوارڈ حاصل کیے۔

جنوبی کوریا کے دو خاندانوں کی رہائش پر مبنی 'پیراسائٹ' نے اکیڈمی ایوارڈ میں نامزدگی سے قبل ہی اپنی پہچان بنا لی تھی۔ اس فلم کو اوریجنل سکرین پلے کے لیے بھی آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پہلی جنگ عظیم کے بارے میں سر سیم مینڈس کی فلم ’1917‘ کو تین ایوارڈ ملے۔ اس فلم کو رواں برس بہترین فلم کے ایوارڈ کے لیے فیورٹ سمجھا جا رہا تھا تاہم اسے تمام ایوارڈ تکنیکی زمروں میں ملے۔

اداکار ہواکین فینکس کو فلم 'جوکر' میں اداکاری کے لیے بہترین اداکار قرار دیا گیا۔ اس زمرے میں ان کا مقابلہ انتونیو بیندیرس، لیونارڈو ڈی کیپریو، ایڈم ڈرائیور اور جوناتھن پرائس سے تھا۔

جواکن فینکس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجواکن فینکس کو جوکر میں اداکاری کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا

بہترین اداکارہ کا ایوارڈ رینے زیلویگر کو جوڈی گارلینڈ کا کردار ادا کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کے لیے ان کے مدمقابل سنتھیا ایرویو، سکارلٹ جوہانسن، سوئرسے رونن، چارلیز تھیرون تھیں۔ یہ رینے کا دوسرا آسکر ہے۔ اس سے قبل انھیں بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ مل چکا ہے۔

معروف اداکار بریڈ پِٹ نے فلم 'ونس اپون اے ٹائم اِن ہالی وڈ' میں اداکاری کے لیے بہترین معاون اداکار کا اعزاز حاصل کیا ہے جبکہ 'میرج سٹوری' کے لیے لارا ڈرن کو بہترین معاون اداکارہ کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

لارا ڈرن نے نیوز روم کو بتایا کہ 'اگر میں یہ ایوارڈ کسی کو دے سکتی تو میں ابھی یہ ایوارڈ گریٹا گرونگ اور لولا وانگ کو دے دیتی۔‘

خیال رہے کہ یہ دونوں خواتین ہدایتکار رواں سال بہترین ہدایتکاروں کے زمرے میں نامزدگی سے محروم رہ گئیں اور پانچوں نامزد ہونے والے افراد مرد تھے۔

رینے زیلویگر

،تصویر کا ذریعہShutterstock

،تصویر کا کیپشنبہترین اداکارہ کے ایوارڈ کے ساتھ رینے

بہترین اوریجنل سکور کا ایوارڈ 'دی جوکر' کے لیے ہلڈر گونادوتیر کو دیا گیا اور اس موقع پر انھوں نے کہا کہ 'کوئی نغمہ نگار اتنا ہی تخلیقی ہو سکتا ہے جتنی اس کی ہدایتکار سے بات ہوتی ہے۔'

دوسری جانب بہترین اوریجنل گیت کا ایوارڈ سر ایلٹن جان اور معاون تخلیق کار برنی ٹوپن کو فلم ’راکٹ مین‘ کے گیت 'لو می اگین' کے لیے ملا۔

'ٹوائے سٹوری 4' کو بہترین اینیمیٹِڈ فیچر فلم کا ایوارڈ ملا ہے جبکہ اس زمرے میں مختصر فلم کے لیے 'ہیئر لو' کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔

ماخوذ سکرین پلے کا ایوارڈ فلم 'جو جو ریبٹ' کو ملا۔ اس فلم کو بہترین انٹرنیشنل فیچر فلم کا بھی ایوارڈ ملا ہے۔

لورا ڈرن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلورا ڈرن کو 'دی میرج سٹوری' میں اداکاری کے لیے بہترین معاون اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے

دستاویزی فیچر فلم کے زمرے میں 'امریکن فیکٹری' نے انعام حاصل کیا۔

رواں سال پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے امریکی شہر لاس اینجلس میں ریڈ کارپٹ واک کے ساتھ اس تقریب کا آغاز ہوا اور چھ بجے سے فاتحین کے ناموں کا اعلان شروع کیا گیا۔

اس بار آسکر میں کیا خاص ہے؟

گذشتہ سال کی طرح رواں سال بھی اس تقریب کا کوئی مخصوص میزبان نہیں تھا تاہم ٹام ہینکس، نیٹلی پورٹ مین اور آسکر آئزک جیسے تقریباً 40 مشاہیر نے اس تقریب کو پیش کیا۔

بریڈ پٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہالی وڈ کی تقریباً تمام تر تقاریب میں شرکت کرنے والی بالی وڈ اداکارہ پرینکا چوپڑہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ اس بار آسکر میں شرکت نہیں کر سکیں لیکن وہ اسے ٹی وی پر دیکھ رہی ہیں۔

اس مرتبہ فلم 'جوکر' کو آسکر ایوارڈ میں 11 زمروں میں سب سے زیادہ نامزدگیاں ملیں جبکہ 'دی آئرش مین'، '1917' اور 'ونس اپون اے ٹائم ان ہالی وڈ' کو 10 زمرون میں نامزد کیا گیا ہے۔

نیٹ فلیکس فلموں کو رواں سال 20 سے زیادہ نامزدگیاں موصول ہوئیں جن میں 'میرج سٹوری'، 'آئرش مین' اور 'دی ٹو پوپس' شامل ہیں۔