انور مقصود کا پروگرام لوز ٹاک: ’لکھتے لکھتے قلم رک جائے تو آگے نہیں لکھنا چاہیے‘

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے نامور مزاح نگار انور مقصود نے بتایا ہے کہ انھیں اپنے پروگرام ’لوز ٹاک‘ کا آئیڈیا بی بی سی ورلڈ سروس کے مقبول پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ کو دیکھ کر آیا۔

انڈیا اور پاکستان میں یکساں طور پر مقبول اداکار مرحوم معین اختر کے ساتھ پیش کیا گیا یہ پروگرام آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اس کی وجہ اس میں زیرِ بحث موضوعات اور کردار ہیں۔

انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے میڈیا سیل نے اسی شو کی ایک وڈیو پر ڈبنگ جاری کی ہے، جس میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے چیف منسٹر اروند کیجروال کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

حال ہی میں بی بی سی اردو کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں انور مقصود نے کہا کہ حالات بدل نہیں سکتے۔

’ساری باتیں اب بھی وہی ہیں۔ اب جو ہورہا ہے وہ دیکھ لیں تو لگتا ہے کہ کل ہی اس کی ریکارڈنگ ہوئی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

برصغیر میں مزاح کی صنف میں ترقی یا تنزلی کے سوال پر انور مقصود کا خیال ہے کہ اب پھکڑ پن زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا ’زوال ایک بہت چھوٹا لفظ ہے سمجھیں قیامت ہے۔‘

گفتگو کے دوران معین اختر کو یاد کرتے ہوئے انور مقصود کا کہنا تھا کہ ان جیسا فنکار ایک بار ہی پیدا ہوتا ہے۔

انھوں نے اپنے پروگرام لوزٹاک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ’میں نے معین سے کہا تھا کہ اپنی طرف سے کھانسنا بھی مت۔۔ اپنی طرف سے سانس لینا بھی گوارا نہیں کرنا اور 389 اقساط میں معین نے وہی کیا جو سکرپٹ میں لکھا تھا اور یہ کوئی بڑا ایکٹر ہی کرسکتا ہے۔‘

سنسر شپ کے سائے تلے تخلیقی کام کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا ’میں فوج کے خلاف بھی بولتا ہوں، میں موجودہ اور گئی گزری حکومتوں کے خلاف بھی بات کرتا ہوں مگر میں جو کہتا ہوں وہ چلا جاتا ہے۔‘

انور مقصود کے خیال میں پاکستان میں سنسرشپ نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ رویہ عام ہے۔

’بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ بغیر سوچے سمجھے لکھ دیتے ہیں یا بات کر دیتے ہیں اور بعد میں انھیں خود پچھتاوا ہوتا ہے۔‘

وہ مشورہ دیتے ہیں ’اگر لکھتے لکھتے قلم رک جائے تو اُس کے آگے لکھنا نہیں چاہیے۔ اگر آپ وہیں رک گئے تو سب جا سکتا ہے۔‘

یوں تو انور مقصود ایک شاعر، مصنف، ٹی وی میزبان، اداکار اور مصور بھی ہیں لیکن مزاح نگاری میں کوئی ان کا ثانی نہیں اور اس میں ان کا موضوع بحث اکثر سیاست ہی ہوا کرتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی انھیں دھمکیاں ملیں تو وہ بولے:

’فون آتا تھا کہ انور صاحب ہم آپ کو چاہتے ہیں، آپ سے محبت کرتے ہیں۔ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) میں آپ کا نام نہیں ڈالیں گے مگر آپ بھی تھوڑی سی محبت کا اظہار اپنے پروگرام میں کر دیا کریں۔‘

انور مقصود کے خیال میں ماضی کے مقابلے اب مزاح لکھنا اور پیش کرنا آسان ہو گیا ہے۔

’جو کامیڈینز پرفارم کرتے تھے اب وہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر انھیں روزانہ دیکھتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں، انکی حرکتیں بھی دیکھتے ہیں، ان کی زبان بھی سنتے ہیں، ان کے انداز بھی دیکھتے ہیں لیکن اب میں نے چھوڑ دیا ہے۔‘

وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت پر بات شروع ہوئی تو انور مقصود نے کہا کہ ’خالی ایمانداری سے ملک نہیں چلتے۔‘

انڈیا اور چین کی مثالیں دے کر وہ کہنے لگے کہ وہاں بے ایمانی کی انتہا نہیں لیکن وہ ترقی کررہے ہیں۔

’صرف ایمانداری پر بات مت کریں۔ کام کریں، پیسہ سب نے بنایا ہے اور یہاں یہی بدقسمتی ہے۔‘

انڈیا میں مودی حکومت پر بات ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مت بھولیے کہ ہندوستان میں ایک ہزار برس مسلمانوں نے حکومت کی ہے۔

’جو لوگ رہ رہے ہیں ان کا بھی حق ہے، ان کے بات دادا اور پردادا نے جانیں دی ہیں اس طرح آپ کسی کو ختم نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’جو تین چیزیں مغلیہ سلطنت نے ہندوستان کو دیں ہیں وہ اردو، غالب اور تاج محل ہیں۔ان تینوں سے بڑھ کے کوئی چیز بتا دیں جو ہندوستان کی پہچان ہیں۔‘

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات پر ایک شعر سناتے ہوئے انور مقصود بولے:

ایک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائِے

’ہم تو وہ درخت لگانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے۔‘

انور مقصود نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ اب بھی نوکیا کا فون استعمال کرتے ہیں جس کا ہرا بٹن دبانے سے کال ہو جاتی ہے اور اس بات کا فائدہ بہت سے لوگ اٹھارہے ہیں۔

’میرے نام سے کوئی پچاس لوگ لکھ رہے ہیں۔ عمران کے خلاف، فوج کے خلاف لکھ کر نام انور مقصود لکھ دیتے ہیں۔ لیکن میں جواب بھی نہیں دیتا۔ سب کو معلوم ہے کہ میرے پاس تو فون بھی نہیں ہے۔‘