ریمی ملک نے نئی بانڈ فلم میں عرب ’دہشت گرد‘ بننے سے کیوں انکار کیا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
مصری نژاد امریکی اداکار ریمی ملک نے اپنی آنے والی جیمز بانڈ سیریز کی نئی فلم میں ولن کا کردار ادا کرنے کی حامی صرف اس وقت بھری جب انھیں اس بات کا یقین دلایا گیا کہ ان کے کردار کی کسی سے بھی کسی قسم کی مذہبی یا نظریاتی وابستگی نہیں ہو گی۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی یہ شرط تھی کہ ’میں کسی بھی دہشت گردی کے عمل کی شناخت نہیں بننا چاہتا جو کسی نظریے یا مذہب کو ظاہر کرتی ہو۔
’میں ایسا کوئی کردار نہیں لوں گا، اور اگر آپ مجھے اس لیے لینا چاہتے ہیں تو سمجھیں کہ میں اس (پراجیکٹ) سے باہر ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیے
اخبار ڈیلی مرر اور ڈیلی ایکسپریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ ان کی یہ گفتگو فلم کے ڈائریکٹر کیری فوکوناگا سے ہوئی جس میں انھوں نے واضح کیا کہ وہ کسی مذہبی بنیاد پرست کا کردار نہیں ادا کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
38 سالہ ریمی ملک 25 ویں بانڈ فلم میں بطور ولن کاسٹ کیے گئے ہیں۔ اس فلم کا ابھی نام نہیں رکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم ریمی کہتے ہیں کہ ڈائریکٹر کے ساتھ بات کر کے انھیں پتہ چلا کہ ان کے دماغ میں کچھ اور تھا۔ ’وہ کافی مختلف قسم کا دہشت گرد ہے۔‘
فلم میں ان کے کردار کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک پراسرار ولن کا کردار ہے جس کے قبضے میں بہت ہی خطرناک ٹیکنالوجی ہے۔ اس فلم کی شوٹنگ اپریل میں شروع ہوئی تھی اور یہ اداکار ڈینیئل کریگ کی بطور جیمز بانڈ پانچویں فلم ہے اور یہ 2020 میں ریلیز کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کیا ریمی پہلی مرتبہ ’دہشت گرد‘ بنیں گے؟
ریمی ملک پہلے بھی ’دہشت گرد‘ کے کردار ادا کر چکے ہیں۔ سنہ 2010 میں مشہور ٹی وی سیریز 24 کے آٹھویں سیزن میں ریمی ملک نے ایک خود کش بمبار مارکوس الذاکر کا کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت بھی انھوں نے اپنے ایجنٹ کو کہا تھا کہ ایسے کسی بھی کردار کو نہ قبول کریں جس میں عرب یا مشرقِ وسطیٰ میں رہنے والوں کو ’بری‘ طرح سے دکھایا گیا ہو۔
ریمی کے یادگار کردار
ویسے تو ریمی ملک نے ٹی وی اور فلموں میں کئی کردار ادا کیے ہیں لیکن انھیں سنہ 2015 کی مشہور ٹی وی سیریز ’مسٹر روبوٹ‘ اور مشہور گلوکار فریڈی مرکری کی زندگی پر 2018 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بوہیمیئن رہیپسوڈی‘ میں عمدہ اداکاری کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے مسٹر روبوٹ میں ایک کمپیوٹر ہیکر ایلیٹ اینڈرسن کا کردار ادا کیا تھا جو معاشرتی اور ذہنی انحطاط کا شکار ہے۔ انھیں اس کردار کی عمدہ ادائیگی کی وجہ سے گولڈن گلوب ایوارڈ، ڈوریئن ایوارڈ، سیٹیلائٹ ایوارڈ اور سکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’بوہیمیئن رہیپسوڈی‘ میں فریڈی مرکری کے کردار کو انھوں نے یوں نبھایا کہ فریڈی مرکری کے بینڈ کے لیڈ سنگر برائن مے کو کہنا پڑا کہ وہ اتنا حقیقی تھا کہ ’کبھی ہم بھول جاتے تھے کہ یہ ریمی ہیں۔‘ انھیں اس فلم پر بھی بہت ایوارڈ ملے جن میں ایکڈمی ایوارڈ، گولڈن گلوب ایوارڈ، سکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈ اور برٹش ایکڈمی فلم ایوارڈ شامل ہیں۔
وہ عرب وراثت سے تعلق رکھنے والے پہلے اداکار ہیں جنھیں بہترین اداکاری کرنے پر ایکڈمی ایوارڈ ملا ہو۔ ٹائم میگزین نے 2019 میں انھیں دنیا کے 100 با اثر افراد کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
ریمی ملک کون ہیں؟
ریمی ملک 1981 میں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلیز میں مصری نژاد عیسائی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے ایک جڑواں بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ان کے والدین ان کے پیدائش سے پہلے ہی مصر سے ہجرت کر کے امریکہ آ گئے تھے۔
ریمی کے مطابق ان کے والدین کی جڑیں مصر کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں اور ان کو بچپن میں گھر میں عربی سکھائی گئی تھی۔ ریمی نے اپنے ادکاری کے کیریئر کا آغاز معاون اداکار کے طور پر کیا اور ٹی وی اور فلموں میں کئی مرتبہ معاون اداکار بنے۔ ان میں فوکس سٹکوم کی ’دی وار ایٹ ہوم، ایچ بی او کی ’دی پیسیفک‘ اور مزاحیہ فلموں کی مشہور سیریز ’دی نائٹ ایٹ دا میوزیم‘ شامل ہے۔ ’دی نائٹ ایٹ دا میوزیم‘ میں ریمی ملک نے میوزیم میں موجود اہکمنرا فرعون کا کردار ادا کیا تھا۔









