سونی رازدان: ’اگر عالیہ خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں‘

،تصویر کا ذریعہSoni Razdan
بالی وڈ فلم 'راضی' میں عالیہ بھٹ کی ماں کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سونی رازدان حقیقت میں بھی ان کی والدہ ہیں۔
سونی رازدان نے بی بی سی کی فیفی ہارون سے بات کرتے ہوئے جہاں اپنی اداکارہ بیٹی عالیہ بھٹ اور اپنی اداکاری پر بات کی وہیں انھوں نے پاکستانی اداکارہ میرا کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انھوں نے بتایا کہ مہیش بھٹ اپنی فلم 'سڑک ٹو' کے ساتھ فلم سازی کے جانب لوٹ رہے ہیں۔ اس فلم میں ان کی دونوں بیٹیاں عالیہ اور پوجا بھٹ اداکاری کر رہی ہیں۔
مہیش بھٹ پہلے پوجا بھٹ کی فلموں کی ہدایت کاری کر چکے ہیں لیکن دو بیٹیوں کو ایک ساتھ ڈائریکٹ کرنا کیسا ہوگا؟ اس کے جواب میں سونی رازدان نے بتایا کہ انھوں نے اس جہت پر غور نہیں کیا تھا۔
'عالیہ اپنے والد کے ساتھ کام کر رہی ہے اور میں اس کے لیے بہت خوش ہوں۔ میں نے ایسا نہیں سوچا تھا کہ کبھی یہ ہوگا کیونکہ مہیش ہدایتکاری چھوڑ چکے تھے۔ اس لیے کوئی امید بھی نہیں تھی۔'
مہیش بھٹ کی ہدایتکاری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ 'جس طرح وہ اداکاروں سے رشتہ بناتے ہیں وہ بہت ہی منفرد ہے۔ کیونکہ جب آپ مہیش جیسے ہدایت کار کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آپ دنیا کو بہت ہی مختلف زاویے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں تک کہ کردار کو بھی الگ طرح سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کشمیر سے لگاؤ
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کشمیر سے اور وہاں کے انسانی المیے سے ان کا لگاؤ رہا ہے۔ کشمیر سے متعلق ان کی دو دستاویزی فلموں 'انشاء اللہ کشمیر' اور 'انشاء اللہ فٹبال' کو نیشنل ایوارڈ ملے لیکن وہ پہلے سینسر بورڈ میں پھنسیں اور بقول ان کے پابندی کا بھی شکار رہی ہیں۔
سونی رازدان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی کشمیر سے لاعلمی کے سبب اس قسم کے معاملے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جنھوں نے میری فلم دیکھی وہ رو پڑے۔
'نو فادرز ان کشمیر‘ کے بارے میں انھوں نے کہا: 'ہماری جانب کے کشمیر میں جو مسائل ہیں اور جو لوگ ان مسائل کے درمیان پھنستے ہیں، یہ فلم ان پر مبنی ہے۔ میں ایک ایسی عورت کا کردار ادا کر رہی ہوں جس کا بیٹا غائب کر دیا گیا ہے۔ اور میری پوتی جس کی پرورش برمنگھم میں ہوئی ہے وہ اپنی ماں، یعنی میری بہو کے ساتھ آتی ہے۔ ماں کسی اور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے۔ اور میرا یہ اختلاف ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ میرا بیٹا زندہ ہے یا مر چکا ہے تو پھر میری بہو ایسا کیونکر کر سکتی ہے۔'
سونی رازدان نے پاکستان کے متعلق اپنے ایک انٹرویو کے بارے میں بتایا جو کہ تنازعے کا شکار ہو گیا تھا۔ اس انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان سے جڑی ہوئی محسوس کرتی ہیں کیونکہ وہاں لوگ ان کو بہت چاہتے ہیں اور بہت پیار کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت ہی مضحکہ خیز تھا۔ ایک ہیڈ لائن بن گئی اور تنازع کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا کم از کم انٹرویو دیکھ تو لو لیکن لوگوں نے ایسا نہیں کیا۔’

،تصویر کا ذریعہSoni Razdan
’اگر عالیہ خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں‘
انھوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ عالیہ ایک اداکارہ کے طور پر ان سے یقیناً کچھ سیکھنے والی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ 'فلم ہائی وے' نے عالیہ کو ایک اداکار کے طور پر پختہ بنایا ہے۔
’عالیہ کے کیریئر میں آپ کا کتنا دخل ہے’ کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'میری ماں نے میری اداکاری میں جب کوئی دخل نہیں دیا تو میں اس قسم کی عورت نہیں ہوں جو اپنے بچے کے کام میں دخل دوں۔ لیکن عالیہ کی پہلی فلم 'سٹوڈنٹ آف دی ایئر' میں فلم ساز کرن جوہر کے کہنے پر میں عالیہ کے ساتھ تھی کیونکہ اس وقت وہ صرف 17 سال کی تھی اور کرن نے کہا کہ وہ انھیں ہینڈل نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد سے میں کبھی (سیٹ پر) عالیہ کے ساتھ نہیں رہی۔‘
’البتہ ’ہائی وے‘ کی شوٹنگ کے دوران اس کے یوم پیدائش کے سلسلے میں اس کے ساتھ دو تین دن رہی تھی۔ لیکن عالیہ نے مجھے خود یہ کہتے ہوئے منع کر دیا تھا کہ یہ ان کا اپنا سفر ہے جسے انھیں خود ہی طے کرنا ہے۔ میرے خیال سے ہائی وے ان کی ایسی فلم تھی جس میں انھوں نے اداکاری سیکھی۔ اس کا ہنر سیکھا۔'

،تصویر کا ذریعہSoni Razdan
عالیہ کی شادی کے بارے میں سونی رازدان نے کہا کہ 'اگر عالیہ خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں۔‘ انھوں نے رنبیر کپور کا نام لیے بغیر کہا کہ 'وہ بہت ہی اچھا بچہ ہے، بہت ہی پیارا بچہ۔ شائستہ ہے۔ اس کی پرورش بہت اچھی طرح ہوئی ہے۔'
پاکستانی اداکارہ میرا کی تعریف
پاکستانی اداکارہ میرا کے بارے میں سونی رازدان کا خیال ہے کہ اداکارہ کے طور پر وہ 'ایک خواب ہیں۔' خیال رہے کہ سونی نے 2005 میں میرا کو بالی وڈ میں فلم 'نظر' سے متعارف کروایا تھا جو سونی کی اپنی ہدایتکاری میں بنائی گئی تھی۔
میرا کے بارے میں سونی نے کہا: 'ایک اداکار کے طور پر وہ خود کو پوری طرح سے ہدایتکار کے سپرد کر دیتی ہیں۔'

فلم 'راضی' جس پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی اس کے بارے میں انھوں نے کہا: 'عام طور پر انڈین فلموں میں دیکھا گیا ہے کہ پاکستان کو ولن کے طور پر پیش جاتا ہے، ہم ہیرو ہوں گے اور آپ ولن مگر یہ فلم ایسی ہے جس میں پاکستان کو ولن نہیں بنایا گیا۔ اور اسی لیے مجھے لگا کہ اس فلم کو پاکستان میں دکھایا جانا چاہیے تھا۔ کیونکہ یہ انسانی تصادم کی کہانی ہے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'ایک قسم کا تہذیبی و ثقافتی فرق تھا کیونکہ اس وقت جس طرح کی فلموں میں وہ پاکستان میں کام کر رہی تھیں اور جس طرح کی فلم میں بنا رہی تھی یا جیسا میرا اپروچ تھا اس میں فرق تھا لیکن ایک اداکارہ کے طور پر وہ ایک خواب ہیں۔ وہ ہمیشہ مصروفِ کار رہتی ہیں، ہمیشہ تیار۔ جو ’کِلر اِنسٹنِکٹ’ ان میں ہے اسی نے انھیں اتنی کامیاب اداکارہ بنایا ہے۔'
اپنے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ ایک فلم 'یورس ٹرولی' میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ عینی زیدی کی کہانی پر مبنی ہے جو کلکتہ کے ایک بڑے سے گھر میں رہتی ہے۔ اسے اس عمر میں بھی پیار کی تلاش ہے جسے ایک ریڈیو پریزینٹر کی آواز سے پیار ہو جاتا ہے۔'











