کیا اگلا سپر ہیرو جنوبی ایشیا سے ہو گا؟

شازلین خان

شا نذیر اس بات سے مایوس تھے کہ کامک بکس میں نمایاں کردار یا ان کے تخلیق کاروں کا تعلق جنوبی ایشیا سے کیوں نہیں ہے۔

اس مایوسی کو دور کرنے کا بیڑہ انھوں نے سکاٹ لینڈ میں سنہ 2013 میں بی ایچ پی کامکس کی بنیاد رکھ کر اٹھایا۔

یہ سکاٹ لینڈ کا واحد خود مختار گرافک ناولوں کی اشاعت کرنے کا ادارہ ہے۔

سنہ 2013 سے اب تک شا نذیر ابھرتے ہوئے برطانوی ایشیائی ٹیلنٹ کی اس کام میں مدد کر رہے ہیں۔ اس نئے ٹیلنٹ میں نے علی اور شازلین خان بھی شامل ہیں

یہ بھی پڑھیے

کامک بکس وہ کتابیں ہیں جن میں خیالی کرداروں پر مبنی تصاویر کے ذریعے کہانی بیان کی جاتی ہے۔

یہ ادارہ کیوں وجود میں آیا؟

شا نذیر وہ شخص ہیں جو اس انڈسٹری میں جنوبی ایشیائی باشندوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ سے سات دہائیوں سے کامک تخلیق کرنے والے زیادہ تر افراد درمیانی عمر کے سفید فارم لوگ ہیں۔

کامک

’وہ بہت اچھے ہیں مگر ان میں سے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ کامک میں کیا کردار ہونے چاہیں اس پر اجارہ داری قائم رہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اسی وقت تبدیل ہو سکتا ہے جب اس طرح کا مواد تخلیق کرنے والے لوگ مختلف قومیتوں سے ہوں گے اور وہ کسی ملک میں بسنے والے تمام افراد کو سامنے رکھ کر کردار اور کہانیاں تخلیق کریں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ سات سال قبل انھوں نے اس کام کی ابتدا کی تاہم اس حوالے سے انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

’کچھ لوگ ہیں جب آپ انھیں ای میل کرتے ہیں جو آپ کو کوئی جواب موصول نہیں ہوتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ای میل کے آخر میں آپ کا نام دیکھتے ہیں جو آپ کے علاقے کا پتہ دے رہا ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ آپ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔‘

کومکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ابتدا میں لکھی گئی اپنی کامک بک ’لیپ ٹاپ گائے‘ کا بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ مشابہتی آرٹ کی ایک قسم ہے۔

’یہ میرا اپنا گرافک ناول ہے جس میں میں نے اپنا خود کا کردار استعمال کیا ہے اور یہ تخلیق کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ براؤن (گندمی) رنگت کا کردار کیسا ہو سکتا ہے۔‘

کامک بکس سے منسلک نوجوان آرٹسٹ

نے علی جو کہ السٹریٹر ہیں ان کا کہنا تھا کہ جب میں اپنی کتاب کے لیے کہانی تلاش کر رہی تھی جو میرے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ ایسا کرتے ہوئے مجھے اس میں ایشیائی پسِ منظر کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی کہانی کی مرکزی کردار کو نور کا نام دیا جس کا اردو اور پنجابی میں مطلب روشنی ہے۔

’نور اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور ان کے سات بھائی ہیں۔ اپنے بھائیوں کے غائب ہو جانے کے بعد وہ اکیلی رہ جاتی ہیں۔‘

کامک
،تصویر کا کیپشننے علی

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے 12 سال کی عمر میں کامکس لکھنے شروع کیے اور اس وقت یہ بہت زیادہ اچھے نہیں ہوتے تھے تاہم وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کنونشنز میں شرکت کر رہی ہیں جہاں وہ اپنا کام نمائش اور فروخت کرتی ہوں۔

نے علی کہتی ہیں کہ ’میں عموماً کسی کے ساتھ مل کر سٹال لگاتی ہوں اور ایسا ہوتا ہے کہ لوگ آتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ میں ساتھ والے آرٹسٹ کے کام کی نمائندگی یا اسے فروخت کر رہی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں اس کے علاوہ ایک اور ردِ عمل وہ ہے جو انھیں ایشیائی لوگوں سے ملتا ہے جو ان کا کام دیکھ کر کہتے ہیں کہ 'یہ سب آپ نے بنایا ہے۔۔ یہ بہت دلچسپ ہے ۔۔۔ یہ سب کرنے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔'

ان کا کہنا ہے کہ یہ کہتے ہوئے ایشیائی باشندوں کی آنکھوں میں جو چمک انھیں نظر آتی ہے اس سے انھیں محسوس ہوتا ہے کہ واقعی انھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔

شازلین خان بھی ایک السٹریٹر ہیں جنھوں نے بی ایچ پی کامکس میں کام کیا ہے۔

کامک

وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں انھوں نے بڑے پبلیشرز کی جانب سے شروع کیے جانے والے کاموں کو دیکھا اور یہ پبلیشرز اپنے کام میں کچھ نیا پن اور ورائٹی چاہتے تھے۔

’بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو ایسا کرنے میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں خاص طور پر مجھ جیسے لوگوں کے لیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہماری کہانیاں سنی جائیں کیونکہ یہاں برطانیہ میں، امریکہ اور مغربی ممالک میں ہمارا وجود ایک حقیقت ہے اور یہ ہمیشہ رہے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ شا نذیر پہلے شخص تھے جو ان کے پاس آئے اور انھیں کہا ’میرے پاس آپ کے لیے ایک نوکری ہے۔‘

اپنے کام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر میں اپنی زندگی کا سب سے بہترین کامک بناتی تو وہ وہی کامک ہوتا جو میں پہلے ہی تخلیق کر چکی ہوں۔

کامک

’اس میں کافی لوگ نظر آ رہے ہیں جو کہ مسلمان ہیں وہ عید کے موقع پر اکٹھے ہوئے ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو میں ہمیشہ سے کرنا چاہتی تھی۔‘

تاہم شازلین خان کا کہنا ہے کہ اس کامک بک کی اشاعت میں انھیں دشواریاں پیش آئی ہیں۔

’مجھے جان بوجھ کر پیچھے دھکیلا گیا ۔۔۔ براؤن لوگ بظاہر مسلمان لگتے ہیں اور کافی پبلشرز نے بتایا کہ میرا کام فروخت کے لائق نہیں ہے اور وہ اس کو اپنی مارکیٹ میں اچھی طرح فروخت نہیں کر پائیں گے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں یہ سب مضحکہ خیز تھا۔