ہمسائے ماں جائے:’انڈین پاکستانی حکومتوں کی مصلحتیں، لیکن عوام ایک دوسرے سے دور نہیں‘

- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی فنکارہ اور گلوکارہ بشری انصاری کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل بھی ہوگیا تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کسی نہ کسی وجہ سے سیاست جاری رہے گی لیکن دونوں ممالک کی عوام کے دلوں میں دوریاں نہیں آنی چاہئیں۔
بشری انصاری نے حال ہی میں'ہمسائے ماں جائے' کے نام سے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک گانا ریلیز کیا ہے۔ اس گانے میں پاکستان اور انڈیا کی دو ہمسایہ خواتین کا مکالمہ دکھایا گیا ہے جو ایک دیوار کی آڑ سے اپنے مسائل اور خدشات اور محبتوں کا اظہار کرتی ہیں۔
مزید پڑھیے
اسی گانے کے حوالے سے بی بی سی سے گفتگو میں بشری انصاری نے کہا کہ 'جب عوام آپس میں ملتے ہیں تو کھِچ پڑتی ہے۔'
'عوام کے دل ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں۔ اُن میں ملنے جلنے کا جذبہ ہے البتہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کی کچھ اور ہی مصلحتیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'ہمسائے ماں جائے' کو بشری انصاری کی بڑی بہن اور شاعرہ نیلم احمد بشیر نے پنجابی میں لکھا ہے جبکہ ان کی چھوٹی بہن اور اداکارہ اسماء عباس اور خود بشری انصاری نے اسے گایا اور پرفارم کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہyoutube screen grab
انھوں نے انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک سے سوشل میڈیا پہ لوگوں کے مثبت ردعمل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'سب لوگوں کو ایسا لگا کہ یہ ان کی روح کی آواز تھی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم اپنے آنسو نہیں روک سکے۔ '
البتہ انھوں نے بتایاکہ وڈیو پر ٹرولنگ سے بچنے کے لیے انھوں نے کامنٹس بند کررکھے ہیں۔'دونوں ملکوں کے عوام اور اس خطے کے لیے ہم نے ایک سچ بات کی ہے۔ تو اگر کوئی ذہنی طور پر بیمار یا پریشان ہے تو میں نے اُس کی بات نہیں سُننی۔'
'ہمسائے ماں جائے' کی وڈیو میں ایک موقع پر دونوں فنکاراؤں نے اپنے دوپٹے ایک دوسرے کو دیے۔ اسی بارے میں بات کرتے ہوئے بشری انصاری نے کہا کہ 'دونوں معاشروں میں دوپٹہ اور پگڑی عزت کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے چنریاں بٹانے کا مطلب ہے ایک دوسرے کو پیار دینا۔'
کیا حقیقی زندگی میں بھی وہ اپنے انڈین دوستوں کو چنریاں یا تحائف دیتی دلاتی ہیں۔ اس پر انھوں نے بتایاکہ 'میرے بہت دوست ہیں انڈیا میں ہیں۔ میں ان کے لیے تحفے لے کے جاتی رہی اور انھوں نے بھی مجھے تحفے تحائف دیے ہیں۔‘
پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی اس خطے پر منڈلا رہا تھا۔ اسی کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'ایٹم بم پہ ضرورت سے زیادہ اعتماد پورے خطے کے لیے برا ہے۔ بم تو کسی کو نہیں دیکھے گا کہ کون پاکستانی تھا، کون انڈین یا کون کشمیری۔ وہ طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔'
بشری انصاری نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے سنجیدگی کے مظاہرے کی تعریف کی اور کہا کہ سابق صدر مشرف نے انڈیا کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا تو اس کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ' اب تو ریڑھی والا بھی جانتا ہے کہ انڈیا میں انتخابات ہیں تو یہ سب کشیدگی اسی سبب ہے۔'

،تصویر کا ذریعہYou tube/ Screen Grab
انھوں نے فیصلہ سازوں سمیت میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کےخیال میں بات کا اثر اُس کے کہنے کے انداز میں ہوتا ہے۔ 'یہ ایک گانا اور اس کی شاعری کافی ہے اُن کے اُس اینکر کے سامنے رکھنے کے لیے جو صرف آگ لگاتا ہے۔ یہ پٹاخے پھوڑنے سے کئی گھر اجڑ جاتے ہیں، دلوں میں کھٹائی پڑجاتی ہے۔ فوجی جوان چاہے اُن کے ہوں یا ہمارے آخر کسی کے بچے ہیں۔'
پلوامہ حملے کےبعد انڈیا میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی پر اپنے ردعمل میں انھوں نے کہا کہ ' انڈیا جیسی بڑی مارکیٹ میں بھی ہمارے فنکاروں کی ضرورت رہی ہے جو کہ قابِل فخر بات ہے۔'
البتہ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جو ہم آہنگی ہونی چاہیے تھی وہ اب ختم ہورہی ہے اور اسے جان بوجھ کر خراب کیا جارہا ہے۔ '
انھوں نے انکشاف کیا کہ انڈیا کی فلم انڈسٹری میں ایک بہت بڑے بینر سے ان کی بات چیت چل رہی تھی لیکن پلوامہ سے تین چار روز پہلے وہ بات ختم ہو گئی۔







