'زیرو' بننے سے بچنے کے لیے شاہ رخ اور عامر خان کیا کرتے ہیں؟

فلم گجینی

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, سوپریہ سوگلے
    • عہدہ, صحافی، ممبئی

فلم 'گجنی' کی تشہیر کے لیے عامر خان نے سیلون جا کر حجام کا کردار ادا کیا تھا۔ شاید آپ کو یاد ہو!

ناظرین کو کس طرح سنیما ہال تک لایا جائے اس کے لیے طرح طرح کے نسخے آزمائے جا رہے ہیں اور انھیں آج کے دور میں فلم پروموشن اور فلم مارکیٹنگ کا نام دیا جاتا ہے۔

بالی وڈ ہر سال جتنی فلمیں بناتا ہے آپ گنتے گنتے تھک جائیں گے۔ فلم بزنس کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔

جہاں کبھی ناظرین صرف فلم کا پوسٹر دیکھ کر تھیٹر کی جانب کھنچے چلے آتے تھے آج پوسٹر، ہورڈنگ یا ٹریلر بھی ناظرین کو سنیما ہالز تک لانے کے لیے کافی نہیں۔

فلم مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ٹی سیریز کے گلوبل مارکیٹنگ کے صدر اور شریک فلم ساز ونود بھانوشالی نے کہا: 'انڈیا میں لوگ فلموں کے بہت شوقین ہیں لیکن تھیٹر میں پیسے خرچ کر کے فلم دیکھنے والوں کی تعداد چار کروڑ سے بھی کم ہے جبکہ ملک بھر میں تقریبا ساڑھے آٹھ ہزار سکرینز ہیں۔ ناظرین کو تھیٹر تک لانا ہمارا مقصد ہوتا ہے کیونکہ فلم کی حقیقی آمدنی وہیں سے ہوتی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

شاہ رخ خان اپنی فلموں کی منفرد انداز میں مارکیٹنگ کرتے رہے ہیں۔ فلم 'را ون' کی تشہیر کے لیے وہ پہلے انڈین سٹار تھے جو گوگل پلس کے ذریعے ناظرین سے مخاطب ہوئے تھے۔

شاہ رخ

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ZERO THE FILM

،تصویر کا کیپشنفلم زیرو میں شاہ رخ خان نے ایک پستہ قد شخص کا کردار ادا کیا ہے

فلم 'ہیپی نیو ايئر' کی تھیم کے مطابق پوری ٹیم نے 'سلیم ورلڈ ٹور' کیا تھا جبکہ شاہ رخ کے ممبئی والے مکان 'منت' کی دیوار پر ایک مداح نے گریفیٹی بنائی جو ان کے فلم 'فین' کے پروموشن کا حصہ تھا۔

شاہ رخ خان اپنی آنے والی فلم 'زیرو' میں ایک بونے یا پستہ قد شخص کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کے کردار کا نام 'بَوّا سنگھ' ہے اور فلم کا پروموشن بھی انوکھے ڈھنگ سے کیا جا رہا ہے اور ناظرین سے رابطہ کرنے کے لیے 'امیزن الیکسا' کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

وائٹس ایپ کے لیے ایموٹیکان اور جف بھی بنائے گئے ہیں۔ ٹوئٹر پر بوّا سنگھ کردار کا اکاؤنٹ بھی ہے جو ناظرین سے اپنے انداز میں چیٹ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فلم کی مارکیٹنگ پر شاہ رخ خان نے کہا: 'بوا کا کردار میرے لیے بہت ہی عجیب ہے۔ میں اسے کسی کو سمجھا نہیں سکتا۔ وہ مجھ جیسا نہیں ہے۔ فلم کی مارکیٹنگ اس طرح سے کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ لوگ جب تھیٹر آئيں تو پہلے 10 منٹ میں یہ بھول جائيں کہ شاہ رخ کسی بونے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

’آپ اسے پسند کریں یا ناپسند تو صرف بوا سمجھ کر۔ اس لیے ہماری مارکیٹنگ کردار پر مبنی ہے۔‘

سلمان خان اور شاہ رخ خان

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ZERO THE FILM

،تصویر کا کیپشنفلم کے پروموشن کے لیے شاہ رخ اور سلمان خان ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں

شاہ رخ کہتے ہیں کہ فلم کی مارکیٹنگ بہت اہم ہے کیونکہ فلم 'زیرو' ایک مختلف اور مہنگی فلم ہے۔ ان کی یہ فلم کرسمس پر ریلیز کی جا رہی ہے اس لیے وہ فلم کے اچھے بزنس کی امید کر رہے ہیں۔

سنہ 2008 میں ریلیز ہونے والی فلم 'گجنی' سے قبل عامر خان ناظرین کو اپنی فلم کی طرف متوجہ کرنے کے لیے حجام بنے اور اپنے ایک مداح کو نیا ہیئر کٹ 'گجنی ہیئرکٹ' دیا جو کہ ملک میں ایک ٹرینڈ بن گیا اور بہت سے لوگ اسی انداز میں نظر آئے۔

فلم کی یہ منفرد مارکیٹنگ کامیاب رہی اور فلم ہٹ ثابت ہوئی۔

سنہ 2009 میں راجکمار ہیرانی کی فلم 'تھری ایڈیئٹس' کا ایک منفرد قسم کا پروموشن ہوا۔

تھری ایڈیٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفلم تھری ایڈیٹس میں عامر خان نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جبکہ مادھون اور شرمن جوشی نے ان کے دوست کا کردار ادا کیا

فلم کے مرکزی خیال کے مدنظر مرکزی کردار ادا کرنے والے عامر خان دو ہفتوں کے لیے غائب ہو گئے اور ان کے دوست کا کردار نبھانے والے مادھون اور شرمن جوشی جگہ جگہ ان کی تلاش میں پھرتے رہے۔

اس پروموشن نے فلم کے متعلق لوگوں میں تجسس پیدا کیا اور فلم اپنے زمانے میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ثابت ہوئی۔

اداکارہ ودیا بالن کی سنہ 2012 کی فلم 'کہانی' کا پروموشن بھی منفرد تھا جس کے تحت ودیا حاملہ خاتون بن کر گھومتی رہیں۔

'کہانی' خاتون پر مبنی پہلی فلم ثابت ہوئی جس نے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی۔

جبکہ سنہ 2014 میں ریلیز ہونے والی فلم 'بوبی جاسوس' کے پروموشن کے لیے ودیا نے مختلف قسم کے بھیس بنائے۔ ایک بار وہ بھکارن بنیں اور یہ ویڈیو بہت پاپولر ہوئی۔

'کہانی' کے پروڈیوسر جینتی لال گڑا کا خیال ہے کہ فلموں کی مارکیٹنگ بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ فلم کا کاروبار بہت پرخطر کاروبار ہے۔

ودیا بالن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن'کہانی' خاتون پر مبنی پہلی فلم ثابت ہوئی جس نے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی

'ناظرین سینیما ہال تک لے جانے کے لیے تقریبا دو مہینے کا وقت ملتا ہے، لہٰذا یہ کام بہت مشکل ہے۔'

'کہانی' کی مارکیٹنگ کے بارے میں جینتی لال نے کہا: 'کہانی سے پہلے سجئے گھوش کی فلم فلاپ ہوئی تھی۔ اس پر بہتر فلم بنانے کا دباؤ تھا۔ اگر فلم بہتر نہ ہوتی تو مارکیٹنگ ناکام ہو جاتی۔ فلم کی کامیابی کے لیے اچھی کہانی اور اچھی مارکیٹنگ دونوں ضروری ہیں۔'

تقریبا 300 فلموں کی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پروموشن کرنے والے ایوری ڈے میڈیا کے سی ای او گوتم بی ٹھکّر کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ انڈیا میں نہ صرف کفایتی ہے بلکہ سب سے زیادہ متاثر کن بھی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں: 'ممبئی میں رہنے والوں کو فلم سٹار دکھانا عام ہے لیکن انڈیا کے چھوٹے شہروں میں فلمی فنکاروں کو دیکھنے کا ذریعہ ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام ہی ہیں۔ ان شہروں میں فلمی مواد کی بھوک ہے۔ ان ناظرین تک پہنچنے کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بہت اہم ہے۔'

جینتی لال گڑا کا خیال ہے کہ 'ڈیجیٹل سے فلم سازوں کا کام آسان ہو گیا ہے کیونکہ انھیں اس سوال کا جواب مل جاتا ہے ان کی فلم کتنے لوگوں تک پہنچی، کتنے ناظرین نے فلم کے ٹریلر دیکھے۔ مثلا اگر ایک لاکھ لوگوں تک ٹریلر پہنچا ہے تو پانچ ہزار تھیٹر تک پہنچيں گے۔

زیرو کا پروموشن

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ZERO THE FILM

ٹی سیریز کے ونود بھانوشالی بھی جینتی لال کے خیال سے اتفاق رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے سامعین کے موڈ کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قسم کی فلمیں پسند کرتے ہیں۔ کون سالانہ کتنی فلمیں دیکھتا ہے تاکہ اس کا استعمال مارکیٹنگ میں ہو سکے۔ اس کے ذریعے ہم بیدار ناظرین تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اس کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

گوتم ٹھکّر کا خیال ہے کہ اگر فلم میں بڑے سٹارز ہوں تو فلم کی مارکیٹنگ کم ہونی چاہیے کیونکہ ناظرین کو شاہ رخ خان، سلمان خان، ریتک روشن جیسے اداکاروں کی فلموں کا انتظار رہتا ہے۔ دوسری جانب چھوٹی فلمیں جن میں بڑے سٹارز نہیں ہوتے ہیں انھیں ناظرین تک پہنچانے کے لیے نئی اور دلچسپ مارکیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

انڈیا میں سٹارز کا پلڑا بھاری ہوتا ہے اس لیے چھوٹی فلموں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن دور بدل رہا ہے۔ چھوٹی فلموں کی مارکیٹنگ ہو رہی ہے اس لیے انھیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔

رجنی کانتھ

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/2.0

جینتی لال کا خیال ہے کہ جب کوئی بڑا فلم سٹار فلم کی مارکیٹنگ سے منسلک ہوتا ہے تو دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ سٹار کے سابقہ کام اور اس کی شبیہ دیکھ کر مارکیٹنگ کی حکمت عملی بنائی جاتی ہے۔ جبکہ چھوٹے بجٹ کی فلموں کی مارکیٹنگ آسان ہے کیونکہ اس میں کسی کی مداخلت نہیں ہوتی، وہاں صرف فلم کے کانٹینٹ کو ہی فروخت کرنا ہوتا ہے۔

کسی فلم کی اچھی مارکیٹنگ فلم کو 30 فیصد فائدہ دلوا سکتی ہے اور اگر فلم کی غلط مارکیٹنگ ہو تو اتنا ہی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

حال میں کئی ایسی چھوٹی بجٹ کی فلمیں آئیں جن کی مارکیٹنگ دلچسپ تھی اور ان کے موضوع اہم تھے جیسے 'ہندی میڈیم'، 'بدھائي ہو'، 'پیکو'، 'اندھا دھند' اور 'راضی' وغیرہ۔ ان فلموں نے باکس آفس پر 100 کروڑ روپے سے زائد کمائی کی کیونکہ مارکیٹنگ کے سبب یہ بڑے پیمانے پر ناظرین تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔