’شطرنج کے کھلاڑی‘ کے اداکار ٹام آلٹر نہیں رہے

،تصویر کا ذریعہFacebook
سنہ 1950 میں ہندوستان کے شہر مسوری میں پیدا ہونے والے اداکار ٹام آلٹر کا 67 سال کی عمر میں جمعے کو انتقال ہو گیا ہے۔
وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور ممبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
انھوں نے ’شطرنج کے کھلاڑی،‘ ’کرانتی‘ اور ’رام تیری گنگا میلی‘ جیسی فلموں کے علاوہ کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
ٹام آلٹر کو عام طور پر انگریز اداکار کہا جاتا تھا لیکن انگریز نہیں بلکہ امریکی نژاد ہندوستانی تھے۔ ان کا ایک مسیحی مشنری خاندان سے تعلق تھا اور ان کے والد کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی تھی۔
ٹام آلٹر بتاتے تھے کہ ان کی 'پدری زبان انگریزی ہو سکتی ہے لیکن مادری زبان اردو ہی ہے،' اور ان کے گھر میں مذہبی تعلیم بھی اردو میں ہی ہوا کرتی تھی۔
انھوں نے ایک بار بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے 'والد انجیل مقدس کی تعلیم اردو میں دیا کرتے تھے اور انجیل کی قرات بھی اردو میں ہی ہوتی تھی۔'
اداکاری میں آنے سے قبل انھوں نے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا تھا اور کھیل بطور خاص کرکٹ میں ان کی خاصی دلچسپی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے دھرمیندر کی فلم 'چرس' سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا تھا اور پھر ستیہ جیت رے کی فلم 'شطرنج کا کھلاڑی' میں نظر آئے۔ انھوں نے تقریبا تین سو ہندی فلموں میں کام کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھیئٹر میں انھوں نے اپنی پہچان قائم کی اور ان کا ڈراما 'لال قلعے کا آخری مشاعرہ' جس میں انھوں نے بہادرشاہ ظفر کا کردار ادا کیا، خاصا مشہور ہوا۔
اس کے علاوہ انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد پر مبنی ڈراما 'آزاد کا خواب' میں موالانا آزاد کا کردار ادا کیا تھا۔
ان کا اصلی نام ٹامس بیٹ آلٹر ہے۔ ان کے دادا دادی سنہ 1916 میں امریکہ سے ہندوستان آئے تھے۔ سمندر کے راستے وہ پہلے پہل مدراس پہنچے پھر وہاں سے لاہور آئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تقسیم ہند میں ان کا خاندان بھی منقسم ہو گیا۔ ان کے دادا دادی تو پاکستان میں رہ گئے جبکہ ان کے والدین انڈیا آ گئے جہاں وہ پیدا ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے چار پانچ فیصد فلموں میں ہی انگریز کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'شطرنج کے کھلاڑی میں میں انگریز ضرور تھا لیکن ایسا انگریز جو شاعری کرتا تھا اور جو واجد علی شاہ کا مرید تھا اور انگریز کے سامنے واجد علی شاہ کی طرفداری کرتا تھا۔'
فلم 'کرانتی' میں انھوں نے انگریز کا کردار ادا کیا ہے لیکن اس میں بھی ان کی زبان اردو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ان کے خاندان میں لوگ یاتو شاعر ہیں یا پھر پادری اور ٹیچر۔ انھوں نے بتایا تھا: 'میرے بڑے بھائی انگریزی میں شاعری کرتے تھے۔ سب سے بڑے چچازاد بھائی بھی شاعر اور ناول نگار ہیں میری چچازاد بہن سو ملر معروف ناول نگار ہیں جبکہ بہن اور ماں کو بھی لکھنے کا شوق رہا۔
'میرے والد پادری، دادا نانا پادری، چچا بھی پادری اور میرے سسر بھی پادری ہیں۔ جن علاقوں میں وہ تھے وہاں اردو میں عبادت ہوتی تھی لیکن اب ہندی میں ہونے لگی ہے۔'










