آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہ رخ کی بیٹی کا پیچھا کیوں اور کیا واقعی فلم انڈسٹری میں 90 فیصد ان پڑھ ہیں؟
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
اپنے فلمی کریئر میں کامیابیوں کی بلندیوں پر پہنچنے والے شاہ رخ خان کو انڈسٹری میں پچیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
25 سال پہلے 1992 میں فلم دیوانہ کی ریلیز کے بعد سے انھوں سٹارڈم اور بے پناہ کامیابی کی جو سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
لیکن شاہ رخ کا کہنا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انھوں آج ہی کام کرنا شروع کیا ہو۔ کامیابی کے اس سفر میں جہاں آپ کو دولت، عزت اورشہرت ملتی ہے وہیں کئی ایسی چیزیں بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں جو زندگی کو کسی حد تک مشکل بنا دیتی ہیں اور ایسا ہی شارخ کے ساتھ بھی ہوا۔
وہ آن سکرین ہوں یا آف سکرین کیمرے ہمیشہ ہی نہ صرف ان کا بلکہ ان کے بچوں کا بھی پیچھا کرتے رہتے ہیں۔
آج کل کمیرے اور میڈیا ان کی بیٹی سہانہ کا پیچھا کرتے نظر آتے ہیں۔ جب کوئی عام باپ بیٹی کسی ریستوران، شادی پارٹی یا فنکشن میں جانے کے لیے ایک ساتھ گھر سے نکلتے ہیں تو نہ تو کیمرے ہوتے ہیں اور نہ ہی میڈیا اس بارے میں کوئی سوال کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن جب سہانہ اور شاہ رخ ایک ساتھ نظر آئیں تو کہا جاتا ہے کہ شاہ رخ اپنی بیٹی کو ساتھ لیکر گھومتے ہیں تاکہ وہ بھی فلموں کا حصہ بن سکیں۔
ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں شاہ رخ نہ ایک بار پھر واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان کے بچوں کا کریئر ان کا اپنا فیصلہ ہوگا وہ ان کے کریئر کے نہیں بلکہ ان کی تعلیم کے لیے خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
حاصل، صاحب بیوی اور غلام اور پان سنگھ تومر جیسی فلمیں بنا کر مشہور ہونے والے فلمساز تگمانشو دھولیہ کی اگلی فلم 'راگدیش' آنے والی ہے۔
فلم کی پروموشن شروع ہو چکی ہے اور اسی دوران تگمانشو نے بی بی سی کے ساتھ بھی بات کی اور فلم کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی حالات پر بھی بات ہوئی۔
بی بی سی ہندی کے ساتھ انٹرویو میں جب تگمانشو سے پوچھا گیا کہ اس وقت ملک کی سیاست میں اتنی اتھل پتھل ہے اور ان کی کی سیاست اور معاشرے پر گہری نظر ہوتی ہے پھر بھی وہ خاموش کیوں رہتے ہیں؟
اس پر تگمانشو نے اتفاق تو کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ 'انڈسٹری میں اتنے بڑے بڑے اداکار ہیں، ان کے ٹویٹر پر انھیں لاکھوں فالو کرتے ہیں اور اتنا کچھ ہوتا ہے پھر بھی کوئی کچھ نہیں بولتا۔'
تگمانشو کی پہلی بات تو درست ہے کہ بڑے بڑے اداکاروں کے لاکھوں فالوورز ہیں لیکن یہ غلط ہے کہ وہ کچھ بولتے نہیں۔
لگتا ہے کہ تگمانشو بھول گئے کہ جب شاہ رخ اور عامر نے عدم رواداری جیسے اہم موضوع پر منہ کھولنے کی کوشش کی تھی تو انھیں غدار قرار دے کر پاکستان پارسل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
تگمانشو نے یہ بھی کہا کہ 90 فیصد فلم انڈسٹری والے ان پڑھ ہیں اور ان میں اتنی سمجھ ہی نہیں ہے کہ کس بارے میں بات کریں۔ آج آپ کو انڈسٹری میں آصف صاحب جیسے لوگ نہیں ملیں گے جو پانچویں پاس تھے لیکن مغل اعظم جیسی فلم بنا کر چلے گئے۔
تگمانشو کا ان پڑھ سے کیا مطلب ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ کبھی کبھی تعلیم بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
اس ہفتے بالی وڈ اداکارہ تبو نے ممبئی مرر کو انٹرویو میں ڈرامائی انداز میں اپنے سنگل ہونے کی وجہ اجے دیوگن کو بتایا ہیڈ لائنز کچھ اس طرح لگائی گئیں کہ لوگوں کی دلچسپی بڑھی اور خبر ہٹ ہو گئی۔
فلم 'وجے پتھ' کے 21 سال بعد دونوں نے ایک ساتھ فلم 'درشيم' (2015) میں بھی ساتھ آئے تھے اور اب روہت شیٹی کی اگلی فلم گول مال فور میں کام کر رہے ہیں۔
اجے دیوگن تبو کے پڑوسی ہیں۔ تبو نے اس انٹرویو میں کہا،'جب وہ نوجوان تھے تو انکا کزن اور اجے دیوگن آپس میں دوست تھے اور ان پر گہری نظر رکھتے تھے اور کسی لڑکے سے دوستی نہیں کرنے دیتے تھے۔ اگر میں سنگل ہوں تو ان کی غنڈہ گردی ذمہ دار ہے۔
انڈسٹری میں نہ تو تبو نئی ہیں اور نہ ہی اجے دیو گن تو پھر گول مال فور کے پرونوشن کے موقع پر ہی ایسی باتیں کیوں یاد آ رہی ہیں۔