رمضان میں افریقی ’پرینک‘ ٹی وی شوز نے مذاق کی حد پار کر دی

،تصویر کا ذریعہEGYPTIAN TV
مسلمانوں نے مقدس مہینے رمضان میں شمالی افریقی ٹی وی چینلز پر 'پرینک' یعنی شرارت پر مبنی پروگرام پر تنازعات پیدا ہو گیا ہے اور حدود سے تجاوز کیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
الجیریا میں حال ہی میں ایسے ہی ایک پروگرام کے دوران ایک کمیونسٹ مصنف کو یہ کہہ کر بے وقوف بنایا گیا کہ انھیں الحاد اور جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔
75 سالہ رشید بوجیدرا کو فرضی پولیس افسروں نے 'اللہ اکبر' اور اسلامی عقیدے سے متعلق دو شہادتیں کہنے پر مجبور کیا تھا۔
'وی گاٹ یو' نامی اس ٹی وی پروگرام پر بعد میں زبردست نکتہ چینی ہوئی جس کے بعد اس کی نشریات روک دی گئیں۔
رمضان کے مقدس مہینے میں شام کو افطار کے دوران روزداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اس طرح کے خاص پروگرام بنائے جارہے ہیں۔ ایسے 'پرینک پروگراموں' کی مقبولیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن اس سلسلے میں حدود پار کرنے کے لیے ان پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہENNAHAR TV
مصر کے معروف اداکار رمیز جلال کو پرینک پروگرام کرنے کا ماہر مانا جاتا ہے اور انھوں نے خود کو ٹی وی کے ایک بڑے چہرے کے طور پر قائم کیا ہے۔
انھوں نے اپنے ایک شو میں بعض شخصیات کو یہ کہتے ہوئے بیوقوف بنایا کہ وہ سب ایک ڈوبتے ہوئے جہاز میں سوار ہیں، جس کے آس پاس جسم کے کٹے اعضا تیر رہے ہیں اور ایک شارک اس طرف بڑھ رہی ہے۔
ایک اور شو میں، لوگوں کو 'مصر کے ایک قدیم مقبرے' میں بند کر دیا گیا، جس میں چمگادڑ اور کیڑے تھے اور وہاں ایک مردہ اٹھ کر چلنے لگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
2013 میں رمیز کے ہی ایک پروگرام 'دی فاکس آف دی ڈیزرٹ' میں، بعض افراد کو یہ یقین دلا دیا گیا کہ وہ جس بس میں سفر کر رہے ہیں، اس کو شدت پسندوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAL-HAYAH TV
فرضی شدت پسندوں نے ڈرائیور کو گولی مار کر قتل کرنے کا ڈراما کیا اور لوگوں کے ہاتھ باندھ کر ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔
پروگرام کی یہ قسط ایسے وقت میں نشر کی گئي تھی جب مصر میں شدت پسندی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا۔
اپنے شو ٹریلر میں رمیز جلال نے تسلیم کیا کہ انھوں نے اپنے دوستوں اور ساتھی اداکاروں کو 'ٹارچر' کیا کیونکہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں۔
تونس کا 'دی ارتھ كویک' یعنی زلزلہ نامی پروگرام بھی تنازعات میں رہا ہے۔ اس میں مہمانوں کو یہ بتا کر بیوقوف بنایا جاتا ہے کہ وہ زلزلے کے تیز جھٹکوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس پروگرام کی ایک قسط میں ایک بزرگ مذہبی رہنما نے 'زلزلے' کے باوجود نماز جاری رکھنے پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہTUNISIYYA TV
مہمانوں کی عمر اور صحت کا خیال نہ رکھنے اور انھیں ڈرانے کے لیے سوشل میڈیا میں اس شو پر خوب نکتہ چینی کی گئی۔
الجیریا کے ٹی وی شو 'وی گاٹ یو' پر بھی ایسے الزام لگے ہیں۔ معروف مصنف بوجیدرا والے شو کے بعد الجزائر کے ایک دوسرے مصنف نے کہا: 'یقین نہیں ہوتا کہ ایک مشہور مصنف کو ان کی عمر اور شہرت کی پرواہ کیے بغیر ان کا اس طرح سے مذاق اڑا یا گیا۔'
اس علاقے کے کئی مذہبی رہنماؤں نے حال ہی میں لوگوں کو کسی بھی مقصد سے ڈرانے کے خلاف فتوے بھی جاری کیے ہیں۔
رمضان کے مہینے میں ایسے پروگراموں کی تعداد میں اضافے کو مذہبی وابستگی سے سے فرار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے اور اس وجہ سے بھی اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر میں میڈیا امور کے ماہر یاسر عبد العزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹی وی پرینکس والے پروگراموں کے بڑھنے سے پروڈکشن کمپنیاں ناظرین کو لبھانے اور اشتھارات کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اپنی حد سے بڑھنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔
لیکن اس قبل کا ایک مقبول شو 'دی شاک' اس نئے رجحان کے برعکس، ڈرانے والے پرینكس کے بجائے اب بھی روایتی طرز کے شرارتی پروگرام دکھا رہا ہے۔
یہ شو بعض عرب ممالک میں نشر ہوتے ہیں جس میں فرضی حالات میں شوہر کا بیوی کو ڈاٹنا، استاد کی توہین کرتا طالب علم یا پھر سردی میں ٹھٹھرتا راہگیروں سے کوٹ مانگنے والا بے سہارا بچے جیسے پرینکس دکھائے جاتے ہیں۔
اس شو کو لوگ پسند کر رہے ہیں۔ وہ دیکھ پاتے ہیں کہ روزمرہ کی ان ڈرامائی حالات پر اجنبی کیسے رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔
ٹوئٹر صارف نورالدين لکھتے ہیں: 'یہ فرضی ہونے کے باوجود،'دی شاک 'آپ میں انسانیت کو جگاتا ہے اور اپنے نظریہ پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے'۔








