ہیلن سے قطرینہ کیف تک،بالی وڈ کی غیر ملکی اداکارائیں

،تصویر کا ذریعہT SERIES
بالی وڈ کی کئی ایسی اداکارائیں اور ہیروئینز بھی کامیابی کی بلندیوں تک پہنچیں جو انڈیا سے تو نہیں تھیں لیکن فلم انڈسٹری میں آکر انھوں نے زبردست شہرت حاصل کی۔
ان میں سے کچھ اداکاراؤں کا تعلق پڑوسی ملکوں سے تھا تو بعض کی پرورش یورپی ممالک میں ہوئی تھی۔
جلد ہی ریلیز ہونے والی فلم 'ہندی میڈیم' میں بھی پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے عرفان خان کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
قطرینہ کیف

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ سے انڈیا آنے والی قطرینہ کیف کا شمار بالی وڈ کی ٹاپ ہیروئنز میں ہوتا ہے۔ قطرینہ نے اپنے کریئر کا آغاز گرچہ 'بوم' جیسی فلاپ فلم سے کیا تھا لیکن جلد ہی 'ہیلو لندن'، 'ویلکم' اور 'سنگھ از کنگ' جیسے فلموں میں بہترین اداکاری کے جوہر دکھا کر شہرت حاصل کر لی۔
فلم 'دھوم -3، 'ایک تھا ٹائیگر' اور 'جب تک ہے جان' جیسی فلموں نے انھیں بالی وڈ کی صف اول کی اداکاراؤں کی فہرست میں لا کر کھڑا کیا۔
ابتدا میں انھیں ہندی زبان بولنے میں کافی مشکل ہوتی تھی جسے بہتر کرنے کے لیے انھوں نے کافی محنت کی۔
جیکلن فرنانڈیس
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اداکارہ جیکلن فرنانڈیس کے والد کا تعلق سری لنکا سے ہے اور ان کی ماں ملائیشیا کی ہیں۔ جیکلن نے سنہ 2006 میں 'مس یونیورس سری لنکا' کا خطاب جیتا تھا اور تبھی سے انھیں ایک نئی پہچان ملی۔
انھوں نے اپنے فلمی کریئر کی شروعات 2009 کی فلم 'الہ دین کے ساتھ' سے کی تھی۔
اس فلم میں ان کے ساتھ بڑے اداکار امیتابھ بچن اور رتیش دیش مکھ نے کام کیا تھا۔ جیکلن نے 'ریس 2'، 'مرڈر- 2'، 'ہاؤس فل- 3'، 'فلائنگ جٹ' اور 'کک' جیسی معروف فلموں میں کام کیا ہے۔
ان کی ایک فلم 'رائے' کا ایک نغمہ 'چٹّيا كلاياں' کافی مشہور ہوا ہے۔
نرگس فخری

،تصویر کا ذریعہNARGIS FAKHRI
اداکارہ نرگس فخری کے والد پاکستانی ہیں اور ان کی ماں کا تعلق جمہوریہ چیک سے ہے۔ نرگس نے بالی وڈ میں امتیاز علی کی معروف فلم 'راک سٹار' کے ساتھ دھماکے دار انٹری کی تھی۔
اس فلم میں ان کے ساتھ رنبیر کپور نے بھی بہترین اداکاری کی تھی۔ پھر نرگس نظر آئیں 'مدراس کیفے'، 'میں تیرا ہیرو' اور 'ڈھشوم' جیسی فلموں میں۔ ان کا فلمی کریئر اب تک کافی اچھا رہا ہے۔
منیشا کوئرالہ

،تصویر کا ذریعہSLB FILMS
منیشا کوئرالہ کا تعلق نیپال سے ہے اور وہ کھٹمنڈو میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی آئی تھیں۔ ان کی پہلی فلم نیپالی زبان میں سنہ 1989 میں نیپال میں ریلیز ہوئی تھی جس کا نام تھا 'فیری بتھولا'۔
لیکن سبھاش گھئی کی فلم 'سوداگر' سے ان کی بالی وڈ میں ایسی انٹری ہوئی کہ وہ نوجوان عاشقوں کے ذہنوں میں بس کر رہ گئیں۔
'خاموشی'، 'اگنی شاکشی' اور 'بامبے' جیسی شہرت یافتہ فلموں میں انھوں نے اپنی بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے اور لوگوں کے دلوں میں بس گئیں۔
نوے کے عشرے میں وہ بالی وڈ کی کامیاب ترین اداکارہ تھیں جنھوں نے کئی بہترین فلمیں کیں۔
سنجے دت کی زندگی پر بننے والی فلم بائیو پک میں منیشا ان کی ماں نرگس کا کردار ادا کریں گیں جبکہ سنجے دت کا کردار رنبیر کپور ادا کر رہے ہیں۔
ہیلن

،تصویر کا ذریعہN.N. SIPPY
بالی وڈ کی معروف ڈانسر ہیلن کا پرانا نام ہیلن رچرڈسن تھا۔ وہ میانمار (تب برما) میں پیدا ہوئی تھیں اور پھر انڈیا منتقل ہوئیں۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران ان کا خاندان بھارت آ گیا تھا۔ ہیلن نے پہلے کچھ فلموں میں تو محض کورس کی رقاصہ کے طور پر کام کیا۔ لیکن فلم 'هاؤڑا برج' کے گانے 'میرا نام چن چن چو' سے انھیں ایسی کامیابی ملی کا پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
'شعلے'، 'ڈان' اور 'تیسری منزل' جیسی کئی فلموں میں ان پر فلمائے نغمے سپر ہٹ رہے ہیں۔
سلمیٰ آغا

،تصویر کا ذریعہBR CHOPRA
سلمیٰ آغا کی پیدائش تو کراچی میں ہوئی تھی لیکن ان کی پرورش لندن میں ہوئی تھی اور وہ برطانوی شہری بھی ہیں۔ سلمیٰ آغا 'نکاح'، 'قسم پیدا کرنے والے کی' اور 'شوہر بیوی اور طوائف‘ جیسی بالی وڈ کی فلموں میں کام کیا۔
ان کی فلم نکاح بالی وڈ کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک ہے۔
اگرچہ ان کا فلمی سفر زیادہ طویل نہیں رہا لیکن آج بھی ان پر فلمایا جانے والا نغہ 'دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے' بہت مشہور و مقبول ہے۔








