'لپ سٹک انڈر مائی برقع' کو انڈیا میں ریلیز کی اجازت مل گئی

،تصویر کا ذریعہJIGNESH PANCHAL
انڈین سینسر بورڈ نے بالی وڈ فلم 'لپ سٹک انڈر مائی برقع' کو ملک میں ریلیز کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
سینسر بورڈ نے فلم کو بالغوں کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے فلم سے کچھ منظر ہٹانے کے لیے بھی کہا ہے۔
اس کے علاوہ فلم کے مکالموں میں شامل کچھ الفاظ پر بھی اعتراضات کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ نمائش کے دوران ایسے الفاظ آنے پر آواز بند کر دی جائے۔
اس سے پہلے انڈین سینسر بورڈ نے فلمساز النکِریتا سری واستو کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ان کی فلم کو 'خواتین کے لیے مخصوص' اور قابلِ اعتراض ہونے کی وجہ سے سینسر سرٹیفیکیٹ نہیں دیا جا رہا ہے۔
اس پر النکِریتا سری واستو نے اس فیصلے کے خلاف فلم سینسر بورڈ اتھارٹی میں اپیل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہJIGNESH PANCHAL
اس فلم کی کہانی بھوپال کی چار خواتین کی جنسی بیداری اور جنسی تخیل کے بارے میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
15 سے 55 برس کی یہ خواتین مردوں کے غلبے والے معاشرے کے تمام بندھنوں کو توڑ کر اپنی ذات کو دریافت کرنا چاہتی ہیں۔
کونکنا سین شرما اور رتنا پاٹھک شاہ جیسی اداکاراؤں کی اس فلم چند ماہ پہلے ٹوکیو میں ورلڈ پریمیئر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ فلم دنیا بھر میں کئی ایوارڈز حاصل کر چکی ہے۔
بی بی سی کی گیتا پانڈے کا کہنا ہے کہ انڈیا میں فلم سینسر شپ ہمیشہ سے ہی بہت غیر مستقل رہی ہے لیکن حالیہ برسوں میں فلمی صنعت کی جانب سے سینسر بورڈ پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے اور اس پر عارضی بنیادوں پر فیصلے کرنے اور انڈیا کے بدلتے معاشرے سے متصادم ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔








