ہلیری کلنٹن کی کتاب: ’وہ الفاظ ہیں جن کے لیے میں جیتی ہوں‘

ہلیری کلنٹن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ صدارتی انتخابات میں محترمہ کلنٹن غیر متوقع طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار گئی تھیں

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن اپنے ذاتی مضامین پر مشتمل ایک کتاب لکھ رہی ہیں جس میں وہ گذشتہ انتخابات کے بارے میں بھی روشنی ڈالیں گی۔

پبلشر سائمن اینڈ شوسٹر کا کہنا ہے کہ اس کتاب کا نام ابھی نہیں رکھا گیا جسے وہ 26 ستمبر کو جاری کریں گی۔ کتاب سے متعلق مالی سمجھوتہ کیا ہوا اس بارے میں بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

پبلشر کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی کی کہانی بیان کرنے کے لیے ہلیری کلنٹن اس میں اپنے کچھ پسندیدہ اقتباسات کا استعمال کریں گی۔

گذشتہ صدارتی انتخابات میں ہلیری غیر متوقع طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار گئی تھیں۔

اپنی آنے والی کتاب سے متعلق ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ 'یہ وہ الفاظ ہیں جن کے لیے میں جیتی ہوں۔ ان اقتباسات نے مجھے بہترین وقت گزارنے اور برے وقت میں ہنسنے میں مدد کی ہے۔ مشکل وقت میں تحفظ فراہم کیا ہے اور زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہوا اس کے لیے ممنون و مشکور بنایا ہے۔'

ہلیری کلنٹن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمحترمہ کلنٹن نے ٹرمپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی لیکن ان کی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کی ہے

انھوں نے مزید کہا: 'مجھے امید ہے کہ ان الفاظ اور ان کے متعلق میرے اپنے خیالات شیئر کرنے سے مضامین قارئین کے لیے معنی خیز ثابت ہوں گے۔'

69 سالہ ہلیری کلنٹن 'سپیکرز بیورو' کی ہیری واکر ایجنسی سے بھی اپنے رشتے دوبارہ بحال کرنے والی ہیں جو انھوں نے 2013 میں وزارت خارجہ کے عہدے پر ہوتے ہوئے منقطع کر لیے تھے۔

وہ اگلے ماہ ہی انٹرنیشنل وومنز ڈے کے موقع پر ایک پروگرام سے خطاب کرنے والی ہیں جس کا اہتمام وائٹل وائسز نے کیا ہے۔ اس ادارے کو خود محترمہ کلنٹن اور سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلن اولبرائٹ نے سنہ 1997 میں قائم کیا تھا۔

ان اداروں سے وابستہ ہونے کا مطلب یہ کہ شاید ہلیری کلنٹن نیو یارک کے میئر کے عہدے کی لیے کوشش نہیں کریں گی جیسا کہ پہلے ان سے وابستہ بعض لوگوں نے اس طرح کی باتیں کہی تھیں۔

انتخابات میں شکست کے بعد سے محترمہ کلنٹن قدرے خاموش رہی ہیں۔ انھوں نے ٹرمپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی لیکن ان کی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔