کرن جوہر کی خود نوشت کے بعد ہم جنس پرستی پر بحث تیز

،تصویر کا ذریعہAFP
بالی وڈ کے ہدایت کار اور ٹی وی ٹاک شو کے میزبان کرن جوہر کی خود نوشت نے انڈیا میں ہم جنس پرستی یا امرد پرستی پر جاری بحث کو پھر تیز کر دیا ہے۔
کرن جوہر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: ’سب جانتے ہیں کہ میرا جنسی رجحان کیا ہے۔ مجھے اسے بتانے کے لیے چیخنے کی ضرورت نہیں۔ اگر مجھے اس کا نام لینا پڑا تو میں اس کا نام صرف اس لیے نہیں لے سکتا کہ مجھے اس ملک میں اس کے سبب شاید قید ہو جائے۔ اسی لیے میں کرن جوہر ان تین حرف والے لفظ کا ذکر نہیں کر سکتا لیکن بہت ممکن ہے کہ سب میرے بارے میں جانتے ہیں۔‘
ان کی خود نوشت کا عنوان ’این ان سوٹیبل بواۓ‘ یعنی ’غیر موزوں لڑکا‘ اور یہ انڈیا کے معروف ناول نگار وکرم سیٹھ کی ضخیم ناول ’اے سوٹیبل بواۓ‘ سے بظاہر مشتق ہے۔
سیٹھ نے ہم جنس پرستی کے متعلق انڈیا کے موجودہ قانون کی برملا مخلافت کی ہے جس کے تحت یہ جرم کے زمرے میں شامل ہے۔ ان کی والدہ جو خود ایک مصنفہ اور سابق جج ہیں انھوں نے سیٹھ کے ’گے‘ یعنی ہم جنس پرست ہونے کے بارے میں لکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بہر حال جوہر کی یادداشت میں جس کی شریک مصنف صحافی پونم سکسینہ ہیں مسٹر سیٹھ جیسی تنقید نہیں ہے۔
بالی وڈ کے ابھرتے ہوئے فلم سازوں، کارکنوں اور ٹوئٹراٹیوں نے کرن جوہر کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی فلموں میں ہم جنس پرست ہونے کو کم شمار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ خود کو صاف طور پر سامنے نہ لانے کا ان کا فیصلہ اور اپنے جنسی میلان کے بارے میں صرف ’واضح اشارے‘ اپنے آپ میں ہم جنس پرستوں کی ’پریشانیوں کا کم شمار کرنا ہے۔‘
اس کے جواب میں کرن جوہر نے لکھا: ’میں اس کے بارے میں بہ آواز بلند کچھ اس لیے نہیں کہنا چاہتا کہ میں ایف آئی آر (پولیس میں شکایتوں) کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے افسوس ہے۔ میرا ایک کام ہے۔ میرا اپنی کمپنی اپنے لوگوں اور اپنے کام سے ایک عہد ہے اور سینکڑوں افراد ہیں جن کے سامنے میں جوابدہ ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’میں مضحکہ خیز، مکمل متعصب، جاہل، بے قوف اور شہرت کے بھوکے افراد کی وجہ سے عدالتوں کے چکر لگانے کے لیے تیار نہیں۔‘
خیال رہے کہ انڈیا میں تعزیرات ہند کی تقریبا ڈیڑھ سو سال پرانی دفع 377 ہم جنس پرستی کو قابل تعزیر قراردیتا ہے۔ گذشتہ سال فروری میں انڈیا کی عدالت عظمی نے اپنے پرانے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی بات کہی تھی جس میں انھوں نے اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔








