دہلی کا عالمی کتاب میلہ، خواتین سکالرز کو خراج تحسین

- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے قلب پرگتی میدان میں عالمی کتاب میلہ جاری ہے اور کتاب کے شیدائیوں کی بھیڑ بھی ہے تاہم حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ ڈی مونیٹائیزیشن کے اثرات نمایاں ہیں۔
کتاب خریدنے والوں کی کمی ہے لیکن ان کی خوشبو لینے والوں کی کمی نہیں۔ کھانے پینے کے سٹال بھی پہلے سے زیادہ نظر آئے۔
ان سب سے قطع نظر رواں عالمی کتاب میلے کی سب سے اہم بات اس کا تھیم ہے جو 'مانوشی' کے عنوان کے تحت ہندوستان کی قدیم، عہد وسطیٰ جدید عہد کی خواتین مصنفین کو خراج تحسین ہے۔

کتاب میلے کا انعقاد سرکاری ادارے نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی) کے تحت ہر سال کیا جاتا ہے۔
این بی ٹی میں انگریزی کے ایڈیٹر اور عالمی کتاب میلے کے کوارڈینیٹر کمار وکرم نے بتایا کہ ادارے کی کوشش ہے کہ ہندوستان کی خواتین لکھاریوں کو قارئین میں متعارف کرایا جائے اور اس کے لیے انھوں نے خواتین کی تصانیف پر مبنی ایک سیریز کی اشاعت بھی کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'ادارے نے قدیم اور عہد وسطی کی خواتین مصنفین کی تصاویر کے لیے ایک مقابلہ منعقد کرایا تھا اور اس میں سے نمائندہ پینٹنگ کو این بی ٹی نے ایک کیلنڈر میں پیش کیا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہNBT
انھوں نے بتایا کہ کلینڈر کے لحاظ سے انھوں نے صرف 12 تصاویر کا انتخاب شائع کیا ہے۔
این بی ٹی کے چیئرمین بلدیو بھائی شرما کا خیال ہے کہ ہندوستان خواتین سکالرز کا وجود زمانہ قدیم سے ہی ملتا ہے اور جن کے سبب ہندوستان میں محبت، عقیدت، بغاوت اور مرد و زن کے درمیان آپسی رشتے پر متبادل نظریات ملتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNBT
ادارے کی ڈائرکٹر ڈاکٹر ریتا چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ بذات خود ایک ادیبہ ہیں اس لیے انھیں بخوبی یہ اندازہ ہے کہ اس تھیم کا مطلب خواتین لکھنے والیوں کے لیے کتا اہم ہو سکتا ہے۔
کمار وکرم کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں 'خواتین سکالرز کی روایت پانچ ہزار سال پر محیط ہے اور سب کا احاطہ بہت مشکل ہے تاہم ان کی یہ کوشش ہے کہ نئی نسل کو ان کے کارناموں سے روشناس کرایا جا سکے۔'

،تصویر کا ذریعہNBT
کلینڈر میں سب سے پہلے گارگی کو پیش کیا گیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 700 قبل مسیح تھیں اور انھیں ویدوں کا سکالر تسلیم کیا جاتا ہے۔
گارگی کے تصور کو تصویر میں اتارنے کا کام بڑودہ کی ایم ایس یونیورسٹی کی فائن آرٹس کی طالبہ متھرا کے نے کیا ہے اور ان کا تعلق جنوبی ریاست کیرالہ سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہNBT
ان کے علاوہ تمل زبان کی شاعرہ اویار ہیں اور ان خواتین کی زبان بے حد آسان ہوتی تھی اور وہ سادگی سے زندگی کی حقیقتوں کو رکھنے کا ہنر جانتی تھیں۔
انڈال جنوبی ہند کی الور روایت کی واحد خاتون شاعرہ ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نویں صدی میں تھیں۔
جبکہ اککا مہا دیوی بارھویں صدی میں کرناٹک میں تھیں اور وہ شو سے عقیدت رکھنے والی ادبی مہم کا حصہ تھیں۔

،تصویر کا ذریعہNBT
جنا بائی چودھویں صدی میں مہاراشٹر کے ورکری سلسلے کی شاید سب سے مشہور شاعرہ تھیں۔
گنگا ستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بارھویں سے 14ویں صدی کے درمیان تھی۔
اس کلینڈر میں لال دید بھی شامل ہیں جنھیں صوفی شاعری کی ایک صنف واکھ کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ چودھویں صدی کے اختتام میں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہNBT
16 ویں صدی کے راجستھان کی سب سے معروف شاعرہ میرا آج بھی اپنی عقیدت کے لیے یاد کی جاتی ہیں۔ ان کا ذکر بھی ہے۔ ان کے ساتھ ان کی ہم عصر تیلگو شاعرہ اتوکوری موللا بھی ہیں۔
شہنشاہ بابر کی بیٹی اور ہمایوں نامہ کی مصنفہ گلبدن بیگم بھی اس کلینڈر کی شان ہیں۔ کمار وکرم کا کہنا ہے کہ وہ یہاں شہزادی کے طور پر نہیں بلکہ فارسی اور تاریخ کے سکالر کے طور پر شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/ Mirza
ان کے علاوہ بنگال کی چندرابتی اور مراٹھی زبان کی شاعرہ بہن بائی بھی اس میں شامل ہیں۔
کتاب میلے میں ہندی اور اردو کتابوں پر بھی بھیڑ نظر آئی لیکن لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ تر مذہبی کتابیں نظر آ رہی تھیں۔ پوسٹر کا سٹال لگانے والے شیراز حسن نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ بھی ہے بہت سے مذہبی کتابیں مفت تقسیم کی جا رہی ہیں۔ جیسے گیتا، بائبل یا پھر قرآن مجید ہدیے کیے جا رہے ہیں۔







