اوم پوری کی پر اسرار موت؟

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے معروف اداکار اوم پوری کی آخری رسومات اد کر دی گئیں لیکن ان کی موت کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آیا وہ قدرتی تھی، حادثہ یا کچھ اور؟
ممبئی میں ورسووا پولیس ان کی موت کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق اس تفتیش کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ اوم پوری کی موت کا سبب کچھ اور تو نہیں۔
ابھی تک پوسٹ مارٹم اور میڈیکل رپورٹ بھی عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہے۔
66 سالہ اوم پوری جمعے کو اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کے سر پر چوٹ کے نشان تھے۔
ان کی موت پر شبہ متضاد بیانات کے سبب پیدا ہوا۔ پڑوسیوں کے مطابق وہ بیڈروم سے ملحق کچن میں گرے ہوئے پائے گئے تھے جب کہ ان کے نوکروں نے پولیس کو بتایا تھا کہ اوم پوری بستر کے پاس گرے ہوئے ملے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پولیس نے جو اے ڈی آر (ایكسیڈینٹل ڈیتھ رپورٹ) داخل کی ہے وہ ایف آئی آر نہیں ہے اور اس میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ورسووا پولیس نے بی بی سی کو بتایا: اگر کوئی مشتبہ بات سامنے آتی ہے یا پھر خاندان کا کوئی رکن شکایت کرتا ہے کہ اوم پوری کی موت ہارٹ اٹیک سے نہیں ہوئی ہے بلکہ انھیں مارا گیا ہے تو اس اے ڈی آر کو ایف آئی آر میں تبدیل کر کے تفتیش کا رخ بدل جائے گا۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ اس اے ڈی آر کے نتائج چند روز بعد پیش کیے جائیں گے اور اگر تحقیقات میں کچھ نہیں نکلا تو اسے قدرتی موت تسلیم کر لیا جائے گا۔
اوم پوری نے آکروش، اردھ ستیہ، گپت، جانے بھی دو یارو، چاچی 420، مالا مال ویکلی میں یادگار اداکاری کی ہے۔ وہ فلم 'گھایل ریٹرنز' میں آخری بار بڑے پردے پر نظر آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز مراٹھی فلم 'گھاسی رام کوتوال' سے کی تھی جو سنہ 1976 میں ریلیز ہوئی تھی۔
اوم پوری بالی وڈ کی ہرفن مولا شخصیت کے طور پر معروف تھے۔ کئی فلموں میں ان کی بہترین اداکاری کے لیے انھیں ایوارڈ سے نوازا گيا۔
انھوں نے 'فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا' سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اس سے قبل دہلی کے 'نیشنل سکول آف ڈراما' سے بھی انھوں نے تربیت لی تھی جہاں پر معروف اداکار نصیرالدین شاہ ان کے ساتھی طلبا میں سے ایک تھے۔








