’صرف ادبی میلوں کا انعقاد کرانا ثقافت کی خدمت نہیں‘

سندھ
،تصویر کا کیپشنفیسٹیول میں کتب ناشرین نے اپنے درجنوں سٹال سجائے ہوئے تھے
    • مصنف, علی حسن
    • عہدہ, صحافی، حیدرآباد

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں تین روزہ حیدرآباد لٹریری فیسٹیول کا آغاز ہوگیا ہے جس میں سندھی زبان کے اکثر ممتاز ادیبوں، شاعروں، محققین، صحافیوں کے علاوہ اردو زبان کے اہل قلم بھی شرکت کر رہے ہیں۔

جمعے کو دوسرے حیدرآباد لٹریری فیسٹیول کا افتتاح صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید سردار علی شاہ نے کیا۔

اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس فنڈز کی کمی نہیں ہے لیکن کام کرنے والے افراد اور تخلیقی ذہنوں کی کمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج غیر سرکاری لوگوں کو ذمہ داری سونپ کر رضاکارانہ طور پر اس قسم کے پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو کہ مکمل طور پر محکمہ ثقافت کا کام ہے۔

صوبائی وزیر نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ سندھ کے اداروں کو ملکیت کی ضرورت ہے اور صرف ادبی میلوں کا انعقاد کرانا ثقافت کی خدمت نہیں ہے بلکہ تحقیقی اور تخلیقی کام کرنا بھی ادب کی خدمت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ادبا، شعرا اور دانشوروں کو اب میلے منعقد کروا کر 1950 کے ادب پر بات کر کے اپنی قابلیت کا مظاہرکرنا کافی نہیں ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ 2016 کے سندھی ادب تخلیق کیا جائے تاکہ ہم بھی دنیا کے شانا بشانہ چل سکیں۔

انھوں نے کہا کہ سندھ کے تمام اداروں کی حالت سب کے سامنے ہے۔ ’محکمہ ثقافت کے مختلف ذیلی داروں کی حالت افسوس ناک ہے، سندھی ادبی بورڈ کا جو کام ہے وہ سندھی لینگویج اتھارٹی کر رہی ہے۔ اس سے اداروں کی تباہی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر ان اداروں کی بحالی کے لیے دن رات کام کرنا ہے اور غلط عمل کی مذمت اور صحیح عمل کی ہمت افزائی کے سوا تبدیلی ممکن نہیں۔‘

فیسٹیول میں کتب ناشرین نے اپنے درجنوں سٹال سجائے ہوئے تھے جو مہمانوں کی توجہ کا مرکز تھے۔