ضیاء کے مارشل لاء کا پہلا مخالف

جنرل ضیا الحق

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجنرل چشتی دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے ٹیک اوور کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا تھا لیکن تین جولائی کو ارداہ بدل دیا لیکن چار جولائی کو پھر ٹیک اوور کا فیصلہ کر لیا
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پانچ جولائی جب بھی آتا ہے مجھے ایک شخص کی یاد بہت آتی ہے۔ یہ رانا بشیر احمد تھے۔ کراچی سے شائع ہونے والے روزنامہ صداقت کے ایڈیٹر پبلشر۔

صداقت نے انیس سو تہتر میں اپنی اشاعت شروع کی۔ اس زمانے میں اخبارات و جرائد کے ڈیکلریشن ملتے ہی نہیں تھے اور یہ سلسلہ ایوب خان کے دور سے جاری تھا۔ اگر ملتے تھے تو خاص وجوہ کی بنا پر۔ رانا بشیر یوں تو ایکسپورٹر تھے لیکن ان کا تعلق جمیعت علمائے اسلام، جے یو آئی (غلام غوث ہزاروی) سے تھا۔ جے یو آئی کا یہ گروپ پاکستان پیپلز پارٹی کا حلیف تھا اور کہا جاتا تھا کہ مولانا ہزاروی کے کہنے پر ہی رانا بشیر کو روزنامہ صداقت کا ڈیکلریشن اور اچھی مقدار میں نیوز پرنٹ درآمد کرنے کا لائسنس ملا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ جن پر حکومت مہربان ہوتی ہے وہ فاضل نیوز پرنٹ بیچ کر اتنا کما لیتے ہیں کہ اخبار نکالنا منافع بخش بن جاتا ہے۔

میں نے اسی اخبار سے باقاعدہ صحافت کی ابتدا کی۔ نیئر علوی مرحوم کی ادارت میں شائع ہونے والا یہ اخبار اپنے پہلے دور میں صرف سال بھر چلا اور پھر بند ہو گیا۔ اس کے بعد بھی دو ایک بار نکلا اور بند ہوا۔ انیس سو چھہتر میں جب صداقت نے پھر اشاعت شروع کی تو میں پھر اس میں شامل تھا۔

انیس سو ستتر کے انتخابات میں صداقت پیپلز پارٹی اور اس کے حلیفوں کا حامی اور پاکستان قومی اتحاد پی این اے کا مخالف تھا۔ لیکن جب سات مارچ کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کے بعد پی این اے نے تحریک شروع کی تو صداقت نے بھی حکومت کی مخالفت اور پی این اے کی حمایت شروع کر دی۔

غالباً گیارہ مارچ کو پی این اے کی پہلی ہڑتال ہوئی اور چودہ مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی۔ حکومت نے پہلے پولیس کو استعمال کیا، پھر ایف ایس ایف کو اور پھر فوج کو۔ بقول جنرل چشتی ’پہلے پولیس نے بندے مارے، پھر ایف ایس ایف نے اور پھر فوج نے، اور پھر کئی جگہ افسروں نے گولی چلانے سے انکار بھی کیا‘۔وہ اس بات کو انیس سو ستتر پانچ جولائی کے مارشل لاء کا پس منظر قرار دیتے ہیں۔

بہر صورت احتجاج بڑھتا گیا، بھٹو صاحب نے پی این اے کی دوسری تیسری سطح تک کے تمام اہم لیڈروں کو جیلوں میں بند کر دیا۔ ولی خان اور ان کے ساتھی تو پہلے ہی حیدرآباد سازش کیس کے سلسلے میں بند تھے۔ ان حالات میں حکومت اور پی این اے کے مذاکرات شروع ہوئے اور چلتے بھی رہے۔ تین جولائی کو مذاکرات مکمل ہو گئے۔

پی این اے نے اپنے سربراہ مفتی محمود کو بھٹو صاحب سے معاہدے کی اجازت دے دی۔ چارجولائی کو بھٹو صاحب نے رات بارہ بجے کی گئی پریس کانفرنس میں پی این اے سے معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ کل یعنی پانچ جولائی کو دستخط ہو جائیں گے۔ لیکن اس اعلان کے ڈیڑھ یا دو گھنٹے کے بعد ہی ٹرپل ون بریگیڈ کے کور کمانڈر جنرل چشتی نے بقول ان کے ’چار جولائی کے دیے گئے جنرل ضیاء الحق کے احکامات کے مطابق‘ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم، کابینہ کے کئی ارکان اور پی این اے کے لیڈروں کو مبینہ ’حفاظتی حراست‘ میں لے لیا۔

یہ اسی پانچ جولائی کی بات ہے۔ میں دفتر میں رانا بشیر کے ساتھ بیٹھا جنرل ضیاء کی تقریر سن رہا تھا۔ تقریر کے دوران رانا بشیر مسلسل جنرل ضیاء کی ہر بات پر انکار میں گردن ہلاتے اور منہ سے ’اوں ہونہ‘ کی آواز نکالتے۔ تقریر ختم ہوئی رانا صاحب بولے ’او نئیں جی نئیں، انور صاحب اے تے بندہ ای ساڈا نئیں، اے تے ساڈا کوئی افسر امریکہ گیا اے تے اُنہاں وٹا کے ایہ بھیج دتا اے، ایدیا اکھاں تے ویکھو، نئیں جی نئیں، ایہ تے سیاسی لڑائی سی، سیاستداناں طے کرنی سی، ایہ کتھوں آ گئے، اینہاں دی مخالفت کرو جی‘۔

(یہ تو ہمارا آدمی ہی نہیں ہے۔ انور صاحب، یہ تو ہمارا کوئی افسر امریکہ گیا اور انھوں نے اسے تبدیل کر کے یہ بھیج دیا، اس کی آنکھیں تو دیکھیں۔ نہیں جی نہیں، یہ تو سیاسی لڑائی تھی، سیاست دانوں نے فیصلہ کرنا تھا، یہ کہاں سے آ گئے، ان کی مخالفت کریں۔)

جنرل ضیاء الحق کے دستِ راست اور انیس سو ستتر کے مارشل لاء کے ایک اہم کردار جنرل فیض علی چشتی جو اس وقت ٹرپل ون بریگیڈ کے کور کمانڈر تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجنرل ضیاء الحق کے دستِ راست اور انیس سو ستتر کے مارشل لاء کے ایک اہم کردار جنرل فیض علی چشتی جو اس وقت ٹرپل ون بریگیڈ کے کور کمانڈر تھے

یہ پالیسی فیصلہ تھا۔ اس روزنامہ صداقت کا، جو آٹھ مارچ تک پیپلز پارٹی کا حامی تھا، نو مارچ سے پی این اے کا حامی بنا تو اسے بھٹو حکومت کی ہوم منسٹری سے روزانہ ہی نوٹس، جرمانے اور برے انجام کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ لیکن فوج نے اقتدار سنبھالا تو بھٹو اور پیپلز پارٹی کی حمایت اور مارشل لاء کی پُر زور مخالفت کی۔

اکتوبر ستتر میں ایک اداریے کو بنیاد بنا کر رانا بشیر کو جیل میں ڈال دیا گیا اور اخبار کو بند کر دیا گیا۔ اس وقت اخبار کو عملاً محمد صفدر چلا رہے تھے، ویسے وہ اخبار کے چیف رپورٹر تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ رانا کو سات ماہ سے زیادہ عرصے تک جیل میں رکھا گیا کیوں کہ انہوں نے لکھا تھا کہ ’ہر پانچ سال بعد شہوتِ اقتدار میں یہ فوج کب تک اپنے ہی ملک کو فتح کرتی رہے گی‘۔

رانا بشیر اب کہاں ہیں؟ مجھے نہیں پتا۔ لیکن یہ طے ہے کہ ایسے لوگ اردو صحافت میں بہت ہی کم آئے ہیں۔