’جب معلوم ہوا کہ سیکس کے دوران کنڈوم اتار دینا ریپ ہے تو میری سانس رُک گئی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ہیری لو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ماضی میں ریئلٹی شو ’لو آئی لینڈ‘ کا حصہ رہنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ جب انھیں معلوم ہوا کہ سیکس کے دوران کنڈوم ہٹا دینا بھی ریپ کے زمرے میں آتا ہے تو ’ان کی سانس ہی رُک گئی۔‘
دورانِ سیکس اپنے پارٹنر کو بتائے بغیر کنڈوم ہٹانے کو ’سٹیلتھنگ‘ کہا جاتا ہے۔
لو آئی لینڈ میں حصہ لینے والی خاتون میگن بارٹن ہینسن کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل کا سامنا چھ مرتبہ کر چکی ہیں اور ان کے پارٹنر نے ہر مرتبہ یہی کہا کہ دورانِ سیکس کنڈوم پھٹ گیا اور اسی سبب انھیں اسقاطِ حمل کا سہارا لینا پڑا۔
30 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ جرم ہے۔ میں یہی سمجھتی تھی کہ یہ پارٹنرز کے درمیان کی باتیں ہیں اور ان چیزوں کا فیصلہ وہ ہی کرتے ہیں۔‘
انتباہ: اس تحریر میں شامل تفصیلات کچھ قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
میگن کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ سیکس کرنے والے شخص کا عمل ’غیر شفاف اور ناانصافی‘ پر مبنی تھا اور انھیں اس عمل کے جرم ہونے کے بارے میں اس وقت ہی معلوم ہوا جب ’وی نیڈ ٹو ٹاک‘ پوڈکاسٹ کی ریکارڈنگ کے دوران انھیں میزبان نے یہ سب بتایا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اس سے قبل کبھی سٹیلتھنگ کے بارے میں نہیں سُنا تھا۔‘
’جب ہم نے سیکس کرنا شروع کیا تو اس وقت کنڈوم موجود تھا لیکن پھر آخر میں اس شخص نے جان بوجھ کر کونڈم ہٹا لیا اور بہانا بنایا کہ وہ پھٹ گیا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ سٹیلتھنگ قانونی طور پر ریپ کے زمرے میں آتا ہے تاہم اس جرم پر قانونی کارروائی اس لیے نہیں پو پاتی کیونکہ لوگوں کو علم ہی نہیں کہ یہ بھی ایک جُرم ہے۔
اکتوبر میں یونیورسٹی کالج لندن کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 18 سے 25 برس کی عمر کے 10 لوگوں میں سے صرف ایک کو علم تھا کہ سیکس کے دوران بغیر پارٹنر کو بتائے کنڈوم اُتار لینا جُرم ہے اور یہ کہ اسے قانونی طور پر ریپ تصور کیا جاتا ہے۔
’اینڈ وائلنس اگینسٹ ویمن اینڈ گرلز‘ سے منسلک ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریا سائمن کہتی ہیں کہ سیکس لوگوں کی مرضی سے ضرور شروع ہوتا ہے لیکن اس دوران کوئی کنڈوم ہٹا دے تو یہ ریپ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اس پر قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
’سٹیلتھنگ کے بارے میں جاننا مشکل ہے شاید اسی لیے زیادہ لوگوں کو نہیں پتا کہ یہ جنسی تشدد یا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔‘
اینڈریا کہتی ہیں کہ ’یہ بہت اہم ہے کہ مردوں کو معلوم ہو کہ دوران سیکس جان بوجھ کر کنڈوم اُتار دینا جرم ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مردوں کو خواتین کے جسموں پر حق جتانے کا شوق ہوتا ہے لیکن یہ خواتین کی جسمانی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔‘
’مجرمانہ رویہ‘
’ریپ کرائسز انگلینڈ اینڈ ویلز‘ کی چیف ایگزیکٹو سیارا برگمین کہتی ہیں کہ ’سٹیلتھنگ انگلش اور ویلز کے قانون کے مطابق ریپ کی ہی ایک قسم ہے۔‘
’اگر کسی کو اس شرط پر سیکس کی اجازت مل گئی ہے کہ وہ کنڈوم پہنے گا اور پھر وہ دوران سیکس اپنے پارٹنر کو آگاہ کیے بنا کنڈوم اُتار لے تو پھر اجازت یا مرضی کا نقطہ ہی مٹ جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میگن دیگر لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اگر آپ کو اس حوالے سے کوئی شک ہو یا پھر آپ کوئی ریڈ فلیگ دیکھ لیں تو فوراً اپنے کسی دوست کو بتائیں اور پولیس کے پاس جائیں۔‘
’آپ اسے کوئی بڑا مسئلہ نہ بنانا چاہیں تب بھی آپ اپنے گھر میں بیٹھے کسی کو کال کر سکتے ہیں اور میرے خیال میں کوئی آپ سے خود ضرور رابطہ کرے گا کیونکہ سٹیلتھنگ غیرشفاف عمل ہے۔‘













