آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ2022: 'پرتھ کراچی نہیں ہے'
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
نیدرلینڈز کے کوچ ریان کُک کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ کے آغاز میں ہی جس خستگی کا شکار نظر آئی ہے، وہ یقیناً ان کے نشانے پہ ہو گی۔ زمینی حقائق کی روشنی میں کک کا گمان کچھ بے جا بھی نہیں ہے۔ وین میکرن جیسے مشاق بولر اور پرتھ کی وکٹ کا تال میل پاکستانی بلے بازوں کے لیے دشوار کن ثابت ہو سکتا ہے۔
جبکہ دوسری جانب پاکستانی کوچ ثقلین مشتاق کافی پہلے واضح کر چکے ہیں کہ دنیا کی دنیا جانے، وہ تو اپنی سی کرکٹ ہی کھیلیں گے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ اس اپنی سی کرکٹ کی کامیابی کی یہ دلیل ثقلین نے کراچی میں بیٹھ کر دی تھی جبکہ پرتھ کراچی نہیں ہے۔
پرتھ کی پیس اور باؤنس تو ایک طرف رکھیے، چار ہفتے پہلے کراچی کی پچ پہ ہی طویل قامت انگلش بولرز کی شارٹ پچ بولنگ پاکستانی بلے بازوں کے لیے مہلک ثابت ہو رہی تھی۔ شارٹ پچ ہمیشہ ہی پاکستانی بلے بازوں کی کمزوری رہی ہے اور آسٹریلین وکٹوں پہ تو بیک آف لینتھ بھی باؤنسر کی سی محسوس ہوتی ہے۔
اس وقت یہ بحث کوئی راہ نہیں سجھا سکتی کہ اوپننگ جوڑی کو توڑ کر بیٹنگ آرڈر بدل لیا جائے کیونکہ ایسے ٹورنامنٹ کے بیچ اتنا بڑا فیصلہ کسی بھی سمت جا سکتا ہے۔ جہاں پاکستان کی ٹورنامنٹ میں بقا محض قسمت پہ منحصر ہو چکی ہے، وہاں ایسے مباحثے قطعاً ثمر آور نہیں ہو سکتے۔
یہ بحث خاصی پرانی ہے کہ پاکستان کو کتنے بلے باز کھلانے چاہئیں اور کتنے پیسرز الیون میں رکھنے چاہئیں مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر چھ بلے باز اور ساتواں آل راؤنڈر ٹیم کو منجدھار سے نہیں نکال سکتے تو وہاں ساتواں بلے باز کیا کرشمہ کر پائے گا؟
یہ مسائل یقیناً پاکستانی تھنک ٹینک کو ایک سال پہلے زیرِ غور لانا چاہیے تھے۔ اب ورلڈ کپ کے بیچ، ایسی صورتِ حال کے راتوں رات تکنیک بدلی جا سکتی ہے، نہ ہی کمبینیشنز کے تجربات کیے جا سکتے ہیں۔ اور نہ ہی اب اچانک چوتھے پیسر کے لیے فہیم اشرف کو کہیں سے بلا کر الیون میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔
اب امتحاں ہے تو فقط دلیری اور کھیل کے شعور کا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ زمبابوین بولرز کی پیس اور طویل قامت باؤنس کسی بھی بیٹنگ لائن کا امتحان ہو سکتا تھا مگر جس قدر حقیر ہدف پاکستان کے سامنے تھا، اس کے تناظر میں پاکستانی بیٹنگ حقیر تر ثابت ہوئی۔
پاکستانی بولنگ کے لیے بھی سوچنے کا مقام تھا کہ جہاں زمبابوین بولنگ نے پاور پلے میں ہی میچ پاکستان کے ہاتھ سے کھینچ لیا تھا، وہاں وہ پرتھ کی درست لینتھ کیسے سمجھ نہ پائے اور پاور پلے میں ہی زمبابوے کی امیدوں کے دیے کیونکر روشن کر دیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سو، بیشتر آئی سی سی ایونٹس کی طرح اس بار بھی پاکستان کی ساری امیدیں دوسروں کے اگر مگر سے جڑی ہیں۔ اگرچہ انڈیا کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے کل کے میچ میں جیت ناگزیر نہیں ہے مگر یہاں پاکستانی شائقین کی دعاؤں کا محور انڈین ٹیم ہی ہو گی۔
اگرچہ پرتھ کے باؤنس پہ نورکیہ کی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ شارٹ پچ گیندیں وراٹ کوہلی اور انڈین ٹاپ آرڈر کا کڑا امتحان ہوں گی مگر انڈین ٹیم اپنے وننگ مومینٹم میں تعطل سے گریز کو ہی ترجیح دے گی۔ انڈیا یقیناً گروپ میں پہلی پوزیشن کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے گا۔
نورکیہ کہہ چکے ہیں کہ پرتھ کی وکٹ کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ چار سیمرز کے ساتھ میدان میں اترنے کو ترجیح دیں گے۔ اس صورت حال میں یہ انڈین بیٹنگ کے لیے کڑا امتحان ہو گا کہ وہ کوئی بڑا مجموعہ بورڈ پہ کیسے سجائے۔ لیکن اگر وراٹ کوہلی اپنی فارم برقرار رکھ پائے اور شروع کے اوورز نکال گئے تو انڈیا کی جیت کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے لیے یہ جیت تقریباً ناگزیر ہے کیونکہ ٹیمبا باوومہ کی ٹیم یہ نہیں چاہتی کہ مزید کوئی میچ بارش کی نذر ہو اور ان کی سیمی فائنل تک رسائی آخر تک معلق رہے۔ جنوبی افریقی بلے بازوں سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پرتھ کی کنڈیشنز میں اچھا کھیلیں گے مگر اصل امتحان کل دو ایشیائی ٹیموں کی بیٹنگ کا ہو گا جو اس گروپ کی سمت متعین کرے گا۔