سمیع چوہدری کا کالم: محمد نواز نے شکیب الحسن کی مشکل آسان کر دی

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ وہ بڑے ایونٹس میں کس سوچ سے شرکت کرتے ہیں۔ ورلڈ کپ ہو، ایشیا کپ ہو کہ ٹرائی سیریز، کوئی بھی کثیر الملکی ٹورنامنٹ ہو تو بنگلہ دیشی ٹیم کا کردار محض ایک مہمان اداکار جیسا ہوتا ہے جس کا اصل کہانی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اس ٹرائی سیریز میں بنگلہ دیش ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہا۔ ابتدائی راؤنڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ ٹیم فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی تھی اور آنے والے ورلڈ کپ کے لیے بھی بنگلہ دیش کے لیے کوئی نیک شگون نظر نہیں آتا تھا مگر پاکستان کے خلاف کوئی اپ سیٹ فتح مورال کے لیے ضرور صحت افزا ہو سکتی تھی۔

شکیب الحسن نے بالآخر اوپننگ کے حوالے سے راست اقدام کو ترجیح دی کہ تجرباتی اوپنر مہدی حسن کی بجائے باقاعدہ اوپنرز سے اننگز کا آغاز کروایا اور بجا طور پہ بنگلہ دیشی ٹیم ایک اچھا مسابقتی مجموعہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی۔

لٹن داس اور شکیب الحسن کی شراکت داری ایسی منہ زور تھی کہ پاکستان جیسا بہترین بولنگ اٹیک بھی اس کے آگے بند باندھنے میں ناکام رہا اور ان کی جارحیت دھیرے دھیرے بابر اعظم کے اوسان خطا کرتی چلی گئی۔

ڈیتھ اوورز میں حارث رؤف پاکستان کے بہترین بولر ہیں جن کو اس میچ سے آرام دیا گیا تھا اور جس رفتار سے بنگلہ دیشی بیٹنگ پاکستانی بولنگ کو روندتے چلی جا رہی تھی، 190 کا مجموعہ بھی خارج از امکان نہیں تھا لیکن محمد وسیم نے موقع کی نزاکت کو بھانپا اور ڈیتھ اوورز میں اپنے ڈسپلن سے منہ زور بنگلہ دیشی بلے بازوں کے ہاتھ باندھ ڈالے۔

ٹی ٹونٹی میں خال خال ہی ایسا ہوتا ہے کہ ڈیتھ اوورز میں کوئی اوور باؤنڈری سے خالی رہ جائے مگر محمد وسیم نے اننگز کے اہم ترین آخری اوور میں جو بولنگ کی، وہ پاکستان کی جیت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

ٹی ٹونٹی بہت چھوٹے چھوٹے مارجنز کی گیم ہوتی ہے۔ اگر آخری اوور میں بنگلہ دیش کو ایک دو باؤنڈریز مل جاتیں تو ہدف پاکستان کے لیے دشوار تر ہو جاتا اور ناقابلِ اعتبار مڈل آرڈر کے ہوتے ہوئے ایسا مزید مشکل ہو جاتا۔

محمد رضوان حالیہ دنوں میں اپنے سٹرائیک ریٹ کے سبب خاصے زیرِ بحث رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اس وقت عالمی درجہ بندی میں ٹی ٹونٹی کے نمبر ون بلے باز ہیں مگر یہاں بنگلہ دیشی بولنگ داد کی مستحق ہے کہ پاور پلے اور مڈل اوورز میں اپنے ڈسپلن سے انھیں بے بس کیے رکھا۔

پاکستان کی اس فتح میں بنگلہ دیشی فیلڈنگ نے بھی پورا پورا حصہ ڈالا اور اگرچہ شکیب الحسن کی کپتانی کچھ قابلِ اعتراض نہیں تھی مگر جب ان کے پہلے دو اوور اس قدر قناعت پسند ثابت ہو چکے تھے تو نجانے کیا سوچ کر انھوں نے اچانک اپنے باقی دو اوورز سنبھال کر رکھ لیے اور دوبارہ پیسرز کو اٹیک میں لا کھڑا کیا۔

یہ بھی پڑھیے

پیس ملنے سے پاکستانی بلے بازوں کی زندگی آسان ہو گئی اور اننگز کے اوائل ہی سے ٹائمنگ میں مشکلات کا شکار نظر آنے والے محمد رضوان کو بھی سانس لینے کا موقع مل گیا۔

پھر اس کے بعد جب تک شکیب دوبارہ اٹیک میں واپس آئے، تب تک ان کی ٹیم میچ پر اپنی گرفت کھونے کو تھی۔

ٹی ٹونٹی میں بالخصوص دوسری اننگز کی بیٹنگ کے دوران کامیابی کا راز یہی ہے کہ بیٹنگ آرڈر میں لچک رکھی جائے اور ترتیب میں ردوبدل کر کے جوڑ کے مقابلے پیدا کیے جائیں۔ بابر اعظم بھی اسی فارمولے پر عمل پیرا نظر آئے۔

بابر اعظم کو علم تھا کہ شکیب الحسن نے اپنے دو اوورز سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں اور دائیں ہاتھ کے کسی بھی بلے باز کے لیے انھیں اٹیک کرنا آسان نہیں ہو گا۔

اسی لیے پچھلے دونوں میچز کے برعکس یہاں انھوں نے شاداب خان کی بجائے محمد نواز کو بیٹنگ آرڈر میں ترقی دی اور بالآخر محمد نواز کی اننگز ہی میچ لے اڑی۔

اگر محمد نواز کی برق رفتار اننگز شاملِ حال نہ ہوتی تو یہی ہدف پاکستان کے لیے پہاڑ بھی بن سکتا تھا مگر بھلا ہو شکیب الحسن کا جنھوں نے اپنے دو اوورز اننگز کے مشکل مرحلے کے لیے سنبھال کر رکھے اور جب محمد نواز بیٹنگ کے لیے آئے تو انھوں نے شکیب کی مشکل آسان کر دی۔