پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: نواز میچ جتوا کر ہی واپس آئے، پاکستان نے بنگلہ دیش کو سات وکٹوں سے ہرا دیا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جمعرات کو کرائسٹ چرچ کے ہیگلی اوول میں سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آخری لیگ میچ شروع ہونے سے پہلے ہی دونوں ٹیموں کی قسمت کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ پاکستانی ٹیم فائنل میں جگہ بنا چکی تھی جبکہ بنگلہ دیش کی واپسی کا سفر طے ہو چکا تھا۔

بنگلہ دیشی ٹیم جاتے جاتے اپنی بیٹنگ کی جھلک ضرور دکھا گئی۔ اس کے بولرز نے 173رنز کا دفاع کرنے کی تمام تر کوشش کی لیکن پاکستان نے میچ کے آخری اوور میں تین وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ سکور پورا کر کے بنگلہ دیش کو اپنے خلاف محض تیسری مرتبہ جیتنے سے دور کر دیا۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف دو کامیابیاں 2015 اور 2016 میں ہوم گراؤنڈ میرپور میں رہی تھیں۔ پاکستان کی بنگلہ دیش کے خلاف 17 میچوں میں یہ پندرہویں کامیابی ہے۔

لٹن داس اور شکیب کی نصف سنچریاں

شکیب الحسن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن پاور پلے جاتے جاتے بنگلہ دیش کی دو وکٹیں لے گیا۔

سومیا سرکار سار رنز بنا کر اننگز کے تیسرے اوور میں نسیم شاہ کی گیند پر مڈ آن پر شاداب خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

نجم الحسن نے 12 کے سکور پر محمد وسیم کو لیگ سائیڈ پر کھیلنے کی کوشش کی لیکن گیند ان کے گلووز سے لگتی ہوئی محمد رضوان کے گلووز میں چلی گئی۔

بنگلہ دیشی ٹیم پاور پلے میں لٹن داس کی وکٹ سے بھی محروم ہو جاتی لیکن قسمت ان پر دو مرتبہ مہربان رہی۔ پہلے شان مسعود نے پوائنٹ پر محمد حسنین کی گیند پر کیچ گرا دیا اور پھر محمد وسیم انھیں رن آؤٹ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ان دو مواقعوں کے علاوہ لٹن داس نے بڑی عمدگی سے سٹروکس کھیلے اور 31 گیندوں پر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنی ساتویں نصف سنچری ایک چھکے اور پانچ چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔

انھوں نے محمد وسیم کے پہلے اوور میں دو اور حسنین کے دوسرے اوور میں تین چوکے لگائے۔ انھوں نے محمد نواز کا استتقبال بھی ان کے پہلے اوور میں ایک چوکے کے ساتھ کیا اور جب شاداب ان کے سامنے آئے تو انھیں بھی چھکا لگانے سے نہیں چوکے۔

لٹن داس 69 رنز کی اننگز کھیل کر محمد نواز کی گیند پر محمد وسیم کے ہاتھوں کیچ ہوئے جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کا سب سے بڑا سکور ہے۔

اس سے قبل انھوں نے سنہ 2018 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 61 رنز سکور کیے تھے۔

کپتان شکیب الحسن کے ساتھ انھوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 88 رنز کا اضافہ کیا۔ شکیب الحسن نے بھی اس ٹورنامنٹ کی آخری اننگز کو دل کھول کر انجوائے کیا اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بارہویں نصف سنچری 34 گیندوں پر مکمل کی جس میں چار چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

یہ اس ٹورنامنٹ میں ان کی لگاتار دوسری نصف سنچری تھی۔

شکیب الحسن اننگز کے 19ویں اوور میں 68 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر ڈیپ مڈ وکٹ پر شاداب خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ 42 گیندوں پر مشتمل اس اننگز میں سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔

بنگلہ دیشی ٹیم صرف دو رنز کے فرق سے پاکستان کے خلاف اپنے سب سے بڑے سکور کی برابری نہ کر سکی اور اس نے اننگز کا اختتام چھ وکٹوں پر 173 رنز پر کیا۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بنگلہ دیش کا پاکستان کے خلاف سب سے بڑا سکور چھ وکٹوں پر 175 رنز ہے جو اس نے سنہ 2012 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پالیکلے میں بنایا تھا۔

بابر، رضوان جوڑی پھر نمایاں

بابر اعظم اور محمد رضوان اگرچہ اپنی بیٹنگ میں ڈیوڈ وارنر یا الیکس ہیلز کی طرح طوفان نہیں لے آتے لیکن ان کی بیٹنگ میں اعتماد ضرور جھلکتا ہے۔ اس میچ میں بھی دونوں کی پُراعتماد بیٹنگ کی ٹیم کو ضرورت تھی۔ دونوں امید پر پورے اُترے اور ٹیم کو 101 رنز کا مضبوط آغاز فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان دونوں کی آٹھویں سنچری پارٹنرشپ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بابر اعظم آج اپنے ساتھی کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ موڈ میں نظر آئے۔ انھوں نے اپنی 29 ویں نصف سنچری 37گیندوں پر مکمل کی جس میں آٹھ چوکے شامل تھے۔

101 کے مجموعی سکور پر بنگلہ دیش کو ایک نہیں بلکہ دو اہم کامیابیاں مل گئیں۔ پہلے بابر اعظم 55 رنز بناکر حسن محمود کی گیند پر کیچ ہوئے اور پھر دو گیندوں بعد ہی حیدر علی بغیر کوئی رن بنائے بولڈ ہو گئے۔

نواز بہت اہم بیٹسمین ہیں

ان دو وکٹوں کے ایک ہی اوور میں گرنے کے بعد نگاہیں ایک بار پھر محمد رضوان پر لگی ہوئی تھیں جو محمد نواز کے ساتھ ٹیم کو جیت کے قریب لے آئے لیکن اننگز کے انیسویں اوور میں وہ 69 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

پاکستان کو آخری اوور میں جیت کے لیے آٹھ رنز درکار تھے جو اس نے محمد نواز اور آصف علی کی موجودگی میں حاصل کر لیے۔

محمد نواز کو اوپر کے نمبر پر بھیجنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور انھوں نے 20 گیندوں پر 45 رنز ناٹ آؤٹ کی اہم اننگز کھیل ڈالی جس میں ایک چھکا اور پانچ چوکے شامل تھے۔ نواز نے ایشیا کپ میں انڈیا کے خلاف بھی چوتھے نمبر پر آ کر 42 رنز بناکر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔