چیمپیئنز ٹرافی فائنل: ’وہ صلاحیتیں جن میں کیویز ٹورنامنٹ میں ناقابلِ تسخیر انڈیا سے بھی آگے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
فٹنس، ڈسپلن اور ٹیم ورک ہی وہ اصولی تکون تھی جس پر عمل پیرا، سٹیفن فلیمنگ کی کیوی ٹیم نہ صرف آئی سی سی ناک آؤٹ 2000 کے فائنل تک پہنچی تھی بلکہ سپر سٹارز کی چکا چوند سے خالی اس الیون نے سچن تندولکر، سارو گنگولی، انیل کمبلے اور راہول ڈریوڈ سے ناموں پر مشتمل ٹیم کو مات کر دیا تھا۔
بعد ازاں یہی آئی سی سی ناک آؤٹ ایونٹ چیمپئینز ٹرافی کہلایا جانے لگا اور اس کے حالیہ فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیمیں بھی ایک بار پھر وہی ہیں جنھوں نے اس کے دوسرے ایڈیشن میں ٹائٹل کی حتمی لڑائی لڑی تھی۔
بظاہر ان دونوں کرکٹنگ کلچرز کا کوئی تقابل ممکن نہیں کہ ایک طرف کوئی ڈیڑھ ارب آبادی کی نمائندہ ٹیم ہے تو دوسری طرف محض پچاس لاکھ آبادی کی نمائندگی کرنے والے گیارہ کھلاڑی ہوں گے۔ جبکہ ایک طرف گلوبل کرکٹ اکانومی کی اجارہ دار انڈین مارکیٹ ہے تو دوسری جانب وہ کیوی مارکیٹ ہے جہاں پہلے چار مقبول ترین کھیلوں میں کرکٹ کا نام بھی نہیں ملتا۔
روہت شرما کی ٹیم اس ایونٹ میں ناقابلِ تسخیر رہی ہے۔ جہاں یہ موجودہ انڈین سکواڈ کی گہرائی و مہارت کی دلیل ہے، وہیں اس امر کا اظہار بھی ہے کہ شناسا کنڈیشنز کے پہلے سے طے شدہ شیڈول میں عالمی مسابقت کے تقاضے نبھانا قدرے آسان ہو جاتا ہے۔
انڈین ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر بھلے لفظی الٹ پھیر سے اپنی صفائیاں دیتے رہیں اور اس امتیاز پہ نالاں آوازوں کو 'بڑے ہو جانے' کے مشورے بھی دیتے رہیں، مگر حقیقت یہی رہے گی کہ ٹائٹل کی دوڑ میں باقی سات ٹیموں کے لیے وہ مراعات ہرگز دستیاب نہ تھیں جو صرف انڈیا کو میسر ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بڑے ٹورنامنٹس میں الگ الگ وینیوز پہ الگ الگ ٹیموں سے مقابلے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ بالآخر چیمپئین کا تاج سر پر سجانے والا اپنے فخر میں حق بجانب بھی ہو جو مختلف وینیوز کی الگ الگ کنڈیشنز میں مختلف قوتوں پر کھڑی ٹیموں کو پچھاڑ کر اپنے وسائل کا تنوع اور ان کی طاقت ثابت کر چکا ہو۔
لیکن اگر کسی ٹیم کو یہ ساری مشقت جھیلے بنا ہی سیدھا سا رستہ مل جائے جہاں ایک ہی وینیو پر ایک سی قوت کے ساتھ باقی سبھی ٹیموں کو گرایا جا سکے تو پھر وہ ٹائٹل کی دوڑ منصفانہ کیونکر کہلا سکتی ہے؟
جس قوت کے بل پر روہت شرما کی ٹیم اس آخری معرکے تک پہنچ پائی ہے، عین وہی قوت کیویز کی بھی ہے جو اپنی سپن سے حریفوں کو زیر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گو مچل سینٹنر و مائیکل بریسویل ویسے نام نہیں جو رویندرا جڈیجہ و کلدیپ یادیو جیسا سٹارڈم رکھتے ہوں، مگر اپنے حیران کن ڈسپلن سے وہ ثابت کر چکے ہیں کہ حریف بلے بازوں کے عزائم تباہ کرنے کو صرف مہارت ہی کافی نہیں ہوتی۔
جہاں انڈین سپنرز نے ابھی تک اپنا سارا کمال ایک ہی وینیو پر دکھایا ہے، وہیں کیوی سپنرز کی عظمت اور ابھر کر سامنے آتی ہے کہ جنھیں اس ایونٹ کے چاروں وینیوز پہ اپنے ہنر کا امتحان دینا پڑا اور وہ ہر جا سرخرو رہے ہیں۔
اگرچہ انڈیا اس ایونٹ کی واحد ناقابل شکست ٹیم ہے مگر کیویز بھی یہاں زیادہ پیچھے نہیں ہیں کہ اکلوتی شکست جو ٹورنامنٹ میں انھیں اٹھانا پڑی، وہ اسی دبئی کی پچ پہ انہی انڈین سپنرز کے ہاتھوں تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس گروپ سٹیج مقابلے میں اگرچہ سینٹنر اور بریسویل نے تو انڈین سپنرز کے ہم پلہ کارکردگی دکھائی مگر کیوی بلے باز انڈین سپن کے خلاف وہ مزاحمت نہ دکھا پائے جو انڈین آل راؤنڈرز نے اپنی ٹیم کی ڈوبتی اننگز کے ہنگام دکھائی تھی۔
کیویز کے لیے واحد اضطراب یہاں میٹ ہینری کی دستیابی کے سوال سے جڑا ہے۔ ہینری نہ صرف نئی گیند پہ گرفت میں مکمل مہارت رکھتے ہیں بلکہ پرانی گیند سے بھی کھیل کا رخ موڑ سکتے ہیں اور آئی سی سی فائنلز کی پریشر کرکٹ کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔
اگر ہینری دستیاب ہوئے تو دونوں ٹیموں کا تکنیکی توازن لگ بھگ یکساں ٹھہرے گا اور ایسے میں اہم ترین نتیجہ ٹاس کا ہو گا کہ پہلے بیٹنگ پانے کی صورت میں کیوی بلے بازوں کو دوسری اننگز کے انڈین سپن چیلنج سے نجات مل سکتی ہے۔
جس انڈیا کی خاطر اس پورے ٹورنامنٹ کی ترکیب اتھل پتھل ہوئی اور جس کے تحفظات کے ازالے کو شائقین سمیت براڈکاسٹرز اور کوریج پہ مامور پریس کی نیندیں تک درہم برہم ہوئیں، وہ بالآخر اس ٹائٹل کے حتمی معرکے میں بھی واضح فیورٹ دکھائی دیتا ہے۔
لیکن اگر لمحات اس میچ کو انفرادی صلاحیتوں کے جوڑ سے آگے بڑھا کر ٹیم ورک اور ڈسپلن تک لے گئے تو کیویز کے لیے امکانات کافی زیادہ ہوں گے کہ پریشر سے نمٹنے اور دماغ سے کھیلنے میں وہ بلا شبہ انڈیا سے آگے ہیں۔












