انڈیا میں نوجوانوں کا رضامندی سے جنسی تعلق بنانا جرم کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
ایک دہائی قبل انڈیا نے بچوں کے جنسی استحصال کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک سخت نیا قانون متعارف کرایا تھا۔
لیکن چونکہ پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکشوئل آفنسز (پوکسو) ایکٹ یعنی جنسی زیادتیوں سے بچوں کو محفوظ رکھنے کا قانون، 18 سال سے کم عمر بچوں کی تمام جنسی سرگرمیوں کو جرم قرار دیتا ہے، اس لیے بہت سے نوجوان لڑکے اس قانون کی وجہ سے رضامندی سے جنسی تعلقات بنانے کے بارے میں غلط رائے رکھتے ہیں اور اسے غیر قانونی عمل سمجھتے ہیں۔
اب ’رضامندی کی عمر‘ پر نظر ثانی اور جنسی تعلق رکھنے والے نوعمروں کے فعل کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
کچھ سال پہلے خواتین کو محفوظ بنانے کے لیے دہلی میں خواتین کی حفاظت پر مامور کانسٹیبلوں کے بارے میں ایک رپورٹ پر کام کرتے ہوئے، مجھے ایک 16 سالہ لڑکی سے ملاقات کے لیے لے جایا گیا تھا جس کا ریپ کیا گیا تھا۔
خاتون پولیس افسر نے ہمارا تعارف کرایا اور کہا کہ ’وہ ریپ کا شکار ہوئی تھی۔‘
لیکن جب میں نے لڑکی سے اس کی کہانی پوچھی تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ اس کے ساتھ ریپ ہوا تھا۔
اس نے کہا کہ ’میں اپنی مرضی سے گئی تھی۔‘
جیسے ہی اس کی ماں نے اس پر چیخنا شروع کیا تو خاتون پولیس افسر مجھے وہاں سے باہر لے آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لڑکی کے والدین نے پڑوس کے ایک نوعمر لڑکے کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف ریپ کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
خاتون پولیس افسر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ لڑکی کا جنسی تعلق رضامندی سے بنا تھا لیکن یہ بھی کہا کہ پولیس کے پاس مقدمہ درج کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
میں نے برسوں پہلے جو کیس دیکھا تھا وہ ان ہزاروں میں سے ایک ہے جس میں نوعمر انڈین لڑکیاں مرضی سے جنسی تعلقات قائم کرتی ہیں اور انھیں ہر سال ریپ کا نام دیا جاتا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال کے زیادہ واقعات کی وجہ سے ’پوسکو‘ جیسے سخت قانون کی بھی ضرورت تھی۔ سنہ 2007 کی ایک سرکاری تحقیق کے مطابق، 53 فیصد بچوں نے کہا کہ انھیں کسی نہ کسی طرح کے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم اس قانون نے رضامندی کی عمر کو 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کر دیا، جس نے مؤثر طریقے سے ایسے لاکھوں نوجوانوں کو مجرم بنا دیا جو مرضی سے جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پچیس کروڑ سے زیادہ نوعمروں کے ساتھ انڈیا دنیا میں نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے۔ اگرچہ شادی سے پہلے جنسی تعلق ممنوع ہے، تاہم سروے سے پتا چلتا ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جنسی تعلقات قائم کرنے میں سرگرم ہے۔
39 فیصد سے زیادہ خواتین نے حالیہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے میں بتایا کہ انھوں نے 18 سال کی عمر سے پہلے ہی جنسی تعلقات قائم کرلیے تھے اور 25-49 سال کی عمر کی خواتین میں سے 10 فیصد نے بتایا کہ انھوں نے 15 سال کی عمر ہونے سے پہلے جنسی تعلق قائم کیے تھے۔
اس لیے رضامندی کی عمر کو کم کر کے 16 سال کرنے کے لیے اب آواز بلند ہو رہی ہے۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک بشمول بہت سے جنوبی ایشیائی ممالک کے ایسی ہی مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ والدین اکثر لڑکیوں کی جنسی زندگی کو کنٹرول کرنے کے لیے فوجداری نظامِ عدل اور قوانین کا استعمال کرتے ہیں اور انھیں جنسی تعلقات قائم کرنے سے روکتے ہیں۔
خاص طور پر وہ تعلقات جو مختلف ذاتوں یا مختلف مذہبوں کے افراد کے درمیان قائم کیے جاتے ہیں۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ رضامندی سے ہونے والی جنسی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا ان نوجوانوں کی زندگیوں کو برباد کر رہا ہے اور فوجداری نظامِ انصاف پر زیادہ وزن لاد رہا ہے۔
اب پہلی بار اس میں وسیع پیمانے پر ڈیٹا موجود ہے جس سے یہ ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک فلاحی تنظیم، اینفولڈ پروایکٹِو ہیلتھ ٹرسٹ کے محققین نے 2016 اور 2020 کے درمیان تین انڈین ریاستوں جن میں مغربی بنگال، آسام اور مہاراشٹر شامل ہیں میں پوسکو قانون کے سنائے گئے 7,064 عدالتی فیصلوں کا مطالعہ کیا۔
تقریباً نصف کیسز میں 16 سے 18 سال کی لڑکیاں شامل تھیں۔
اس ہفتے کے شروع میں جاری ہونے والی ان کی رپورٹ میں پتا چلا کہ 1,715 کیسز یا چار میں سے ایک ’رومانوی تعلق‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پورے انڈیا سے ان اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو یہ بہت زیادہ ہوں گے کیونکہ سالانہ دسیوں ہزار پوسکو کیسز میں مبینہ مجرم دراصل ’دوست یا آن لائن دوست ہوتے ہیں۔‘
اینفولڈ کی سرکردہ محقق سواگتا راہا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نوعمروں کی جنسی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا، جو کہ مکمل طور پر نارمل بات ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون حقیقت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر مقدمات لڑکیوں کے والدین یا رشتہ داروں کی طرف سے درج کرائے گئے تھے اگر وہ گھر سے بھاگ گئیں یا حاملہ پائی گئیں اور زیادہ تر مقدمات میں پولیس نے ریپ، جنسی زیادتی، جنسی طور پر ہراساں کرنے یا اغوا کے الزامات لگائے۔
راہا کہتی ہیں کہ ’اور جوڑے فوجداری نظامِ انصاف میں الجھ جاتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی مجرمانہ کارروائی کے لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے ’سنگین نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔
’لڑکیوں کو شرمندہ، ذلیل اور بدنام کیا جاتا ہے، اور اگر وہ اپنے والدین کے گھر واپس جانے سے انکار کرتی ہیں، تو انھیں پناہ گاہوں میں رکھا جاتا ہے۔
’لڑکوں کے ساتھ قانون سے متصادم ملزمان والا سلوک کیا جاتا ہے اور کئی ایک کو آبزرویشن ہومز یا جیل میں طویل مدت کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’اس کے بعد ملزم کو تفتیش، حراست اور مقدمے سے گزرنا پڑتا ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے 10 سے 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔‘
اگرچہ ان حالات میں امید کی ایک کرن بھی نظر آتی ہے، مِس راہا اور ان کی ٹیم نے جن 1,715 مقدمات کا مطالعہ کیا ان میں ملزمان کی اکثریت بالآخر بری ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’رومانوی تعلق والے کیسز میں بری ہونا معمول تھا جس میں 1,609 یا 93.8 فیصد کو برخاست کیا گیا تھا، جبکہ ان میں سے سزائیں اس سے مستثنیٰ تھیں اور صرف 106 مقدمات (6.2 فیصد) میں ریکارڈ کی گئیں۔‘
سزا سنائے جانے کی یہ کم شرح اس لیے تھی کہ 87.9 فیصد مقدمات میں لڑکیوں نے اعتراف کیا کہ وہ ملزم سے محبت کرتی تھیں۔ 81.5 فیصد معاملات میں انھوں نے اپنے ساتھی کے خلاف کوئی الزام نہیں عائد کیا اور کچھ معاملات میں انھوں نے کہا کہ ان کے خاندان کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔
بریت کی اتنی زیادہ شرح یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ٹرائل کورٹس اکثر ’رومانوی تعلق‘ پر مبنی مقدمات کو نمٹانے کے دوران نرم رویہ اختیار کرتی ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں میں انڈیا کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے بھی نوعمروں کے درمیان یا ان کے ساتھ رضامندی سے جنسی تعلقات کو جرم قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سنہ 2019 میں ایک نوعمر کی سزا کو کالعدم کرتے ہوئے، مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس وی پارتھیبن نے کہا کہ نابالغوں کے آپس میں یا نابالغوں کے نوجوان بالغوں کے ساتھ تعلق ’غیر فطری نہیں بلکہ قدرتی حیاتیاتی کشش کا نتیجہ ہے‘ اور ساتھ ہی رضامندی کی عمر پر نظر ثانی کی سفارش کی۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے ادارے ’یونیسیف‘ بھی انڈیا کو نوعمر جنسی تعلقات کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کی طرف راغب کر رہا ہے۔ انڈیا میں بچوں کے تحفظ کی تنظیم کے سربراہ سول داد ہیریرو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نوجوانوں کو ان کے ذاتی تعلقات سمیت تحفظ، سالمیت، وقار اور شرکت کا حق حاصل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان کی ابھرتی ہوئی خود مختاری کے تحفظ اور احترام کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال نے اس پر زور دیا ہے۔
مِس راہا کہتی ہیں کہ عدلیہ اور فوجداری نظام انصاف کی طرف سے ’اس بات کا اعتراف‘ ہے کہ ان ’رومانوی تعلق‘ پر مبنی مقدمات کو مختلف انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور پارلیمنٹ کو اس قانون پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
’ہم رضا مندی کے ساتھ نوعمر جنسی تعلقات کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
’ہم ایک ایسے ماڈل کا تصور کر سکتے ہیں جو انڈیا کے لیے موزوں ہو، لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ نوعمری میں جنسی تعلق رکھنا نارمل بات ہے۔‘













