گھریلو ملازمہ تشدد کیس: ملزمہ کی ضمانت میں توسیع، ’صورتحال بہتر نہ ہوئی تو بچی کو وینٹیلیٹر پر منتقل کیا جا سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک، عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں سول جج کی اہلیہ کی عبوری ضمانت میں سات اگست تک توسیع کر دی ہے۔
گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس میں سول جج کی اہلیہ اور اس کیس میں نامزد ملزمہ نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست دائر کی تھی۔
ایڈشنل سیشنز جج عابدہ سجاد کی عدالت میں دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے ملزمہ کو یکم اگست تک حفاظتی ضمانت دی تھی جو آج ختم ہو رہی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ متاثرہ بچی ملزمہ کے گھر بطور ملازمہ کام کر رہی تھیں تاہم تشدد سے متعلق باقی باتیں ویسی نہیں جیسی ایف آئی آر میں درج ہیں۔
درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ درخواست گزار پڑھی لکھی خاتون ہیں اور انھوں نے کبھی متاثرہ بچی کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اس لیے ضمانت میں توسیع دی جائے۔
اس درخواست پر سماعت کے موقع پر ملزمہ کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ سماعت کے آغاز پر جج عابدہ سجاد نے دریافت کیا کہ ملزمہ کا اصل شناختی کارڈ کہاں ہے جس پر ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اصل شناختی کارڈ نہیں مل رہا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کیا معلوم یہ ملزمہ ہیں بھی یا نہیں۔‘
عدالت نے کہا کہ جب تک ملزمہ کا اصل شناختی کارڈ نہیں آ جاتا تب تک اُن کی ضمانت کی درخواست پر سماعت نہیں ہو سکتی۔
عدالت کے اس حکم کے بعد سماعت میں مختصر وقفہ کیا اور وقفے کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ ملزمہ کو سات اگست کو متعلقہ ایڈیشنل اینڈ سیشنز جج فرخ حبیب بلوچ کی عدالت میں پیش کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
واضح رہے کہ اس سے قبل پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ملازمہ پر تشدد کی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے درج ایف آئی آر میں اقدام قتل سمیت مزید 9 دفعات بھی شامل کی تھیں۔
نئی وفعات میں اقدام قتل سمیت تشدد کے ذریعے کسی کو جرم قبول پر مجبور کرنا، زخمی یا مفلوج کرنا، ایسی کاری ضربیں لگانا جن سے ہڈیاں ٹوٹ جائیں اور بچوں پر وحشیانہ تشدد جیسی دفعات شامل ہیں۔
یاد رہے کہ میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 328 (اے) بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت طیبہ تشدد کیس میں ایک سابقہ جج اور ان کی اہلیہ کو کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کرنے کے جرم میں تین سال قید کی سزا دی گئی تھی۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل اور تھانہ ہمک کے ایس ایچ او ارشد علی کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کے مقدمے میں نئی دفعات کا اضافہ ملازمہ کی جسمانی حالت کو دیکھ کر کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ پولیس کو معلوم تھا کہ ملزمہ کہاں پر ہیں لیکن چونکہ انھوں نے لاہور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لے رکھی تھی اس لیے پولیس انھیں اس مقدمے میں گرفتار کرنے کی مجاز نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایڈشنل سیشن جج عابدہ سجاد چونکہ ڈیوٹی جج تھیں اس لیے انھوں نے ملزمہ صومیہ عاصم کی چھ روز کے لیے ضمانت منظور کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں اس بات کا بھی پابند کیا ہے کہ وہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔
ارشد علی کا کہنا تھا کہ پولیس اس مقدمے کے تمام پہلووں پر تفتیش کرے گی اور کوشش کرے گی کہ اگلی سماعت جو کہ سات اگست کو متعلقہ عدالت میں ہو گی اس میں تفتیشی رپورٹ پیش کی جائے۔
اسلام آباد پولیس کےسربراہ اکبر ناصر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم کوشش کرے گی کہ پبلک پراسیکوٹر کی معاونت سے اگلی سماعت پر ملزمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کروانے سے متعلق دلائل دیے جائیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
متاثرہ بچی کی طبعیت کیسی ہے؟
پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ لاہور کے پرنسپل پروفیسر فرید ظفر نے بی بی سی کو بتایا کے متاثرہ بچی کے زخموں کا بروقت علاج نہ ہونے کے باعث انفیکشن اس کے پورے جسم میں پھیل چکا تھا جس نے اس کے جسم کے مختلف اعضا کو شدید متاثر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خاص طور پر بچی کا جگر اور پھیپھڑے زیادہ متاثر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہسپتال داخل ہونے کے بعد سے بچی کا جگر اب پہلے کے مقابلے میں کچھ بہتر کام کر رہا ہے مگر پھیپھڑے اب بھی متاثر ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات اُس کے خون میں آکسیجن کی مقدار خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔
پروفیسر فرید کے مطابق بچی کے ہسپتال داخل ہونے کے بعد دو مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ خون میں آکسیجن کی مقدار خطرناک حد تک کم ہو جانے بعد بچی کو آکسیجن یعنی مصنوعی تنفس پر منتقل کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہی پیٹرن جاری رہا تو بچی کو وینٹیلیٹر پر منتقل کیا جا سکتا ہے تاہم اس کا فیصلہ آئندہ 24 گھنٹے میں ہو گا۔
پروفیسر فرید کا کہنا تھا کہ بچی کی صحت کے حوالے سے آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بچی کی حالت بدستور نازک ہے اور وہ ابتدا ہی سے آئی سی یو میں موجود ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں بچی کو ایمرجنسی میں لایا گیا تھا مگر ابتدائی معائنے کے بعد اسے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ فی الحال انفیکشن پر کنٹرول کے لیے بچی کو اینٹی بائیوٹکس ادویات اور انجیکشن دیے جا رہے ہیں اور اگر صورتحال میں کچھ بہتری آئی تو وہ 48 گھنٹے کے بعد ہی یہ بتانے کی پوزیشن میں ہوں گے کہ ریکوری کے کیا چانسز ہیں۔
ایف آئی آر اور میڈیکل رپورٹ میں کیا کہا گیا؟

،تصویر کا ذریعہSocial Media
اس کیس کی ایف آئی آر متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں درج کروائی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ متاثرہ بچی اسلام آباد میں تعینات ایک سول جج کے گھر میں گذشتہ چھ ماہ سے بطور گھریلو ملازمہ کام کر رہی تھیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچی کی والد کی جانب سے مذکورہ سول جج کی اہلیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’وہ (جج کی اہلیہ) روزانہ اس پر ڈنڈوں اور چمچوں سے تشدد کرتی تھیں اور کمرے میں بھوکا پیاسا پھینک دیتی تھیں۔‘
مقدمے کے مطابق بچی نے یہ بھی بتایا ہے کہ انھیں سول جج کے گھر ملازمت کے بعد سے زیادہ تر عرصہ ایک کمرے میں بند کر کے رکھا گیا تھا۔
والد کے مطابق ملازمت پر جانے کے بعد ان کا کئی ماہ تک اس سے رابطہ بذریعہ فون ہوتا تھا تاہم چند روز قبل جب وہ بچی سے ملنے جج کے گھر پہنچے تو انھیں ایک کمرے سے اس کے رونے کی آواز آئی۔
ایف آئی آر میں والد کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے ’جب ہم نے اس کمرے کا رخ کیا تو وہاں سے بچی زخمی حالت میں موجود تھی اور زارو قطار رو رہی تھی۔‘
ایف آئی آر میں بچی کے جسم پر موجود زخموں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔’بچی کے سر پر جگہ جگہ زخم تھے جن میں چھوٹے کیڑے پڑ چکے تھے۔ ان کا بازو، دونوں ٹانگیں اور ایک دانت بھی ٹوٹا ہوا تھا۔‘
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’بچی کے جسم کے دیگر حصوں پر زخموں کے علاوہ ان کے گلے پر بھی نشانات تھےجیسے کسی نے گلا گھونٹنے کی کوشش کی ہو۔‘
سرگودھا کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) فیصل کامران نے بتایا تھا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے سر سمیت جسم کے 15 مقامات پر زخموں کے نشانات ہیں۔ ’بچی کے سر پر متعدد جگہ گہرے زخم ہیں اور بروقت علاج نہ ہونے کے باعث یہ زخم خراب ہو چکے ہیں اور ان میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔‘
میڈیکل رپورٹ کے مطابق ’15 ظاہری چوٹوں کے علاوہ بچی کے اندرونی اعضا بھی متاثر ہیں۔‘











