انڈین بحریہ کے کمانڈوز نے صومالیہ میں پھنسے بحری جہاز کو قزاقوں سے کیسے بچایا؟

،تصویر کا ذریعہGA-ASI.Com
انڈین بحریہ نے جمعہ کی شام کو مطلع کیا کہ اس کے کمانڈو سکواڈ نے صومالیہ کے قریب پھنسے ہوئے کارگو جہاز سے 15 انڈینز سمیت عملے کے 21 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے۔
بحریہ نے کہا ہے کہ اس کارگو جہاز (ایم وی لیلا نورفولک) پر کیے گئے آپریشن کے دوران انھیں کوئی ہائی جیکر نہیں ملا۔
بحریہ نے تین ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں انڈین کمانڈوز ایک کارگو جہاز پر ریسکیو آپریشن کرتے نظر آ رہے ہیں۔
جہاز ہائی جیک ہونے کی خبر کب موصول ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برازیل سے بحرین جانے والے لائبیریا کے جھنڈے والے کارگو جہاز ایم وی لیلا نورفولک کے ہائی جیک ہونے کی پہلی خبر جمعرات کی شام کو آئی۔
جہاز پر موجود عملے کے ارکان کی جانب سے جمعرات کو برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کو ایک پیغام بھیجا گیا۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایک برطانوی فوجی تنظیم ہے جو سٹریٹیجک سمندری راستوں پر انفرادی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے۔
عملے کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں بتایا گیا تھا کہ پانچ سے چھ مسلح افراد بحری جہاز پر سوار ہو گئے تھے۔
جس کے بعد جمعرات کو ہی انڈین بحریہ کو یہ خبر دی گئی جس کے بعد بحری جہاز اور اس میں پھنسے عملے کے ارکان کو بحفاظت نکالنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ جیسے ہی اس واقعے کی اطلاع ملی فوج کے قائم کردہ پلیٹ فارمز نے فوری جوابی کارروائی کی۔
اس کے بعد جمعے کی دوپہر تک انڈین بحریہ کی کارروائی سے متعلق خبریں آنا شروع ہو گئیں۔
آئی این ایس چنئی کو روانہ کیا گیا

،تصویر کا ذریعہIndian Navy
اس حوالے سے سب سے بڑا اور اہم قدم آئی این ایس چنئی کو صومالیہ کے قریب پھنسے اس بحری جہاز تک بھیجنا تھا۔
انڈین بحریہ نے کہا ہے کہ آئی این ایس چنئی کو بحری قزاقوں کے خلاف گشت پر تعینات کیا گیا تھا لیکن یہ خبر آنے کے بعد اس جنگی جہاز کو مال بردار جہاز کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی انڈین بحریہ نے اپنا ایک طیارہ بھی اس سمت بھیجا جس نے کارگو جہاز کے اوپر سے پرواز کی۔
اس طیارے نے کارگو جہاز کے ساتھ بھی رابطہ قائم کیا۔
ڈرون کی نگرانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین بحریہ نے کہا ہے کہ آئی این ایس چنئی نے ایم وی لیلا نورفولک کو پانچ جنوری کی سہ پہر 3:15 پر روکا تھا۔
اس کے بعد MQ9B ڈرون کے ذریعے جہاز کی مسلسل نگرانی کی گئی۔
اس کے کچھ دیر بعد آئی این ایس چنئی پر موجود کمانڈو سکواڈ نے کارگو جہاز پر تلاشی کا عمل شروع کیا۔
کارگو جہاز نورفولک کے ریسکیو مشن کو انڈین بحریہ کے ہیڈکوارٹر میں براہ راست دیکھا جا رہا تھا۔ فوج کے سینئر عہدیداروں نے اے این آئی کو بتایا کہ ڈرون متعلقہ حکام کو لائیو فوٹیج بھیج رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIndian Navy
نیوی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں کمانڈوز ایک ایک کر کے جہاز کا جائزہ لیتے نظر آ رہے ہیں۔
ان ویڈیوز میں کمانڈوز کو جہاز میں سوار ہوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اغوا کار نہیں ملے

،تصویر کا ذریعہIndian Navy
انڈین بحریہ نے کہا ہے کہ انھیں کارگو جہاز (ایم وی لیلا نورفولک) پر کوئی ہائی جیکر نہیں ملا ہے۔
بحریہ کا اندازہ ہے کہ ان کے انتباہ کرنے کے بعد قزاقوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہو گا۔
انڈین بحریہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’کمانڈوز کو جہاز کی تلاشی کے دوران کوئی سمندری ڈاکو نہیں ملا ایسا لگتا ہے کہ انڈین بحریہ کے انتباہ کے بعد ہائی جیک کرنے والوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔‘
تلاشی کے عمل کی تکمیل کے بعد، بحریہ جہاز کے معمول کے کام کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ضروری مدد فراہم کر رہی ہے۔









