’اب وہ ملزم نہیں، مجرم ہیں۔۔۔‘ جب عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدت کے دوران نکاح کے الزام پر سزا سنائی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ عدت کے دوران نکاح کے مقدمے کے فیصلے سے قبل راولپنڈی کے اڈیالہ جیل کے باہر موجود صحافی یہ اندازے لگا رہے تھے کہ اس مقدمے میں ان دونوں کو پانچ سال سے لے کر دس سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔
یہ اندازہ انھوں نے اس مقدمے میں فریقین کی طرف سے دیے گئے دلائل اور پیش کیے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ جس تیزی کے ساتھ گذشتہ 10 دنوں کے دوران سول (دیوانی) نوعیت کے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی کو چلایا گیا، اس کو دیکھ کر لگایا۔
سینیئر سِول جج قدرت اللہ نے اس مقدمے کا فیصلہ سنانے کا وقت سنیچر کو دن ایک بجے مقرر کیا تھا اور اس وقت کو دیکھتے ہوئے جیل کے حکام مخصوص صحافیوں اور دیگر چند افراد کو سماعت کی کوریج کے لیے اڈیالہ جیل کے اندر قائم عدالت میں لے گئے۔ ان صحافیوں میں رضوان قاضی بھی شامل تھے۔
انھوں نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ان سمیت دیگر صحافیوں کو پونے ایک بجے کمرۂ عدالت میں لے جایا گیا اور ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد اسلام آباد کے سینیئر سول جج قدرت اللہ کمرۂ عدالت میں پہنچے اور ان کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بھی وہاں لایا گیا۔
رضوان قاضی کا کہنا تھا کہ عمران خان جب کمرہِ عدالت میں داخل ہوئے تو پہلے عام لوگ بیٹھے ہوئے تھے جس پر عمران خان نے جیل سپرینٹینڈنٹ کی طرف دیکھ کر کہا کہ آج انھوں نے عدالت میں بیٹھنے والے لوگوں کی ’ترتیب کیوں بدلی ہے؟‘
کیونکہ اس سے پہلے سماعت کی کوریج کے لیے آنے والے صحافی وہاں بیٹھتے تھے۔
رضوان قاضی نے کہا کہ عمران خان نے صحافیوں کی طرف دیکھا اور ’امپائر کی انگلی (یعنی آؤٹ ہونے) کا اشارہ کیا۔‘
رضوان قاضی کا کہنا تھا کہ عدالت کی طرف سے اس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کافی غصے میں تھے جبکہ اس سے پہلے عمران خان کو سائفر مقدمے میں سزا سنائی گئی تو وہ مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بشری بی بی نے تو اس فیصلے کے بعد کہا کہ ’یہ غیرت اور بے غیرتی کی جنگ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کمرۂ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کے مطابق فیصلہ سننے کے بعد عمران خان صحافیوں کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عدت کیس (مجھے) ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’مجھ پر 200 کیسز بنائے گئے جو کہ آج تک کسی سیاست دان کے خلاف نہیں ہوا۔‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں توشہ خانہ کیس میں جو سزا دی گئی ’ویسا آج تک کسی دوسرے سیاست دان کے ساتھ نہیں ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ 'نہ ڈیل کی، نہ کروں گا' بلکہ اس سے بہتر ہے کہ ’میں جیل میں ہی پڑا رہوں اور مر جاؤں۔‘
عمران حان نے الزام عائد کیا کہ انھیں امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ’ایکسپوز کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے سازش کروائی اور مداخلت کی انھیں کچھ نہیں کہا گیا۔‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں ’پہلی مرتبہ کسی ٹرسٹی کے خلاف ٹرائل ہونے جا رہا ہے۔‘
عمران خان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل کیا اور ان کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنی لیکن سب کیسز ختم کر دیے گئے۔
جیل حکام کے مطابق انھوں نے سابق وزیر اعظم کا نام لیے بغیر طنزیہ انداز میں کہا کہ ’باہر سے غلام آگیا ہے اور وہ ان کی نوکری کرے گا جو اسے لے کر آئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شہباز شریف کے خلاف بھی منی لانڈرنگ کا مضبوط کیس تھا لیکن وہ بھی ختم کردیا گیا۔‘
صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان صحافیوں سے مزید گفتگو کرنا چا رہے تھے لیکن ’جیل کا عملہ وہاں پہنچ گیا اور عمران خان کو زبردستی اپنے ساتھ چلنے کا کہا۔‘
انھوں نے کہا کہ جب وہاں پر موجود صحافیوں نے جیل کے عملے سے کہا کہ انھیں مزید گفتگو کرنے کی اجازت دی جائے تو جیل کے ایک اہلکار نے جواب دیا کہ اب 'وہ (عمران خان) ملزم نہیں مجرم ہیں۔ وہ گفتگو نہیں کرسکتے۔‘
جیل اہلکار کا کہنا تھا کہ ’مجرم کو صحافیوں کے ساتھ گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی۔‘
رضوان قاضی کا کہنا تھا کہ جج کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کے دس منٹ کے بعد جیل کے حکام نے صحافیوں کو کمرۂ عدالت سے باہر نکلنے کی اجازت دی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اڈیالہ جیل میں چار مقدمات زیر سماعت تھے جن میں سے سائفر، توشہ خانہ اور مبینہ عدت کے دوران نکاح کے مقدمات کا فیصلہ آچکا ہے جبکہ 190 ملین پاونڈ کا نیب کا مقدمہ احتساب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔










