شاہین آفریدی کا پہلے سے زیادہ ’خطرناک ورژن‘ اور بنگلہ دیش کے خلاف ’معجزاتی‘ جیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
جب ایشیا کپ شروع ہوا تو چہ میگوئیوں سے گرم بازار کے مبصرین و ماہرین کی اکثریت کے ہاں پاکستان کسی شمار قطار میں نہ تھا۔ کوئی افغانستان کو دوسری بہترین ایشیائی ٹیم قرار دے رہا تھا تو کوئی سری لنکا ہی کی بلائیں لیے جا رہا تھا۔
’ماہرین‘ کے مطابق پاکستان کی یہ ٹیم بیٹنگ میں نہایت کمزور تھی، بولنگ میں بھی ناقابلِ تسخیر نہیں تھی اور اس کپتان کو تو ان کے خیال میں الیون کا حصہ بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
اپنے قیمتی اوقات میں سے ’چند‘ لمحات ٹی وی سکرینوں کو عنایت کرنے والے مبصرین کبھی کسی کھلاڑی پر ’پرچی‘ کا لیبل چپکا رہے تھے تو کبھی کسی کے ٹیلنٹ کا ٹھٹھا اڑا رہے تھے۔
اور پھر جو شائقین کی تعداد دو برس پہلے اس کرکٹ ٹیم کو میسر تھی، آج وہ بھی نہیں۔ تمام تر جمع تفریق کے بعد، یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً کوئی بھی سلمان آغا کی ٹیم کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔
پاکستان کرکٹ کی دقت اس کا کھیل نہیں، اس کے تماشائی ہیں۔ بدقسمتی اس کی یہ بھی ہے کہ ان ہی تماشائیوں میں سے کچھ مبصرین بھی ہو جاتے ہیں اور گاہے بگاہے ماہرین بھی کہلائے جانے لگتے ہیں۔
بڑے ٹورنامنٹس میں ٹیموں کی قسمت اس بل پر طے ہوتی ہے کہ ان کے 11 کھلاڑی ایک ٹیم کے طور پر کیسے دکھائی دیتے ہیں۔ انفرادی صلاحیتیں اپنی جگہ اہم مگر مشکلات سے نکلنا کوئی ٹیم تبھی سیکھتی ہے جب 11 فرد ایک ٹیم بن جائیں۔
طویل ٹورنامنٹس میں مشکلات کا آنا ناگزیر ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف بھی پاکستان کا مشکل میں آنا ناگزیر تھا۔ یہ پچ استعمال شدہ تھی اور یقیناً یہاں بیٹنگ دشوار ہونا تھی۔ حالیہ پاکستانی ٹاپ آرڈر کا گیم پلان یہاں چل نہیں سکتا تھا۔
غلطی پاکستان سے اندازے کی بھی ہوئی کہ یہاں 170 کے مجموعے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی حالانکہ دبئی کی استعمال شدہ پچ پر 150 بھی ایک ناقابلِ تسخیر مجموعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اندازے کی غلطی نے پاکستان کو مسابقت سے 15 رنز پیچھے ہی روک دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنگلہ دیشی بولنگ نہ صرف ڈسپلن میں بے مثال تھی بلکہ تھنک ٹینک کی فراہم کردہ سٹریٹیجی نبھانے میں بھی خوب رہی۔ پاکستان کی پہلی چاروں وکٹیں لگ بھگ ویسے ہی گریں جیسے کاغذ پر طے کی گئی ہوں گی۔
پاکستانی ٹاپ آرڈر کی صلاحیتیں سست پچز پر جارحیت کے لیے ویسے بھی زیادہ موثر نہیں اور پھر بنگلہ دیشی بولنگ کی درستی جب پچ کی سستی کے ہمرکاب ہو رہی تو مشکل بھی دوچند ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مشکل ہر ٹیم پر آتی ہے مگر تگڑی ٹیم وہی ہوتی ہے جو کھیل کے بیچوں بیچ اس مشکل سے نکلنے کی راہ کھوجنا جانتی ہو۔
پاکستانی لوئر آرڈر نے اس مشکل سے نکلنے کی راہ ڈھونڈی، جو پچ سے مطابقت نہ رکھنے والے ٹاپ آرڈر بیٹنگ پلان نے پیدا کی تھی۔ بلاشبہ پاکستان کا حتمی مجموعہ فاتحانہ نہیں تھا مگر امید افزا بہرحال تھا کہ، اپنے بہترین پر، پاکستانی بولنگ اس کا دفاع کرنے کے قابل تھی۔
بڑی خوش بختی پاکستان کی یہ ہے کہ عین اس لمحے جب بولنگ اٹیک کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت پڑی، شاہین آفریدی اپنی بہترین فارم میں آ گئے ہیں۔ اس سے بھی نمایاں بات یہ ہے کہ شاہین کا یہ ورژن ان کے ابتدائی کرئیر سے زیادہ ’خطرناک‘ ہے۔
اب شاہین کو دستیاب ’ہتھیار‘ بڑھ چکے ہیں۔ پہلے وہ عموماً ایک ہی طرح کی سوئنگ اور اپنی پیس پر بھروسہ کیا کرتے تھے مگر اب وہ اچھی پیس کے ساتھ سوئنگ کی ورائٹی آزمانے کے قابل ہیں۔ بنگلہ دیشی ٹاپ آرڈر کا پالا اگر ان سے نہ پڑتا تو یہ ہدف ہرگز مشکل نہ ہو پاتا۔
گو بیٹنگ میں سلمان آغا ابھی تک اپنی مشکلات سے نہیں نکل پائے لیکن بطور کپتان وہ بھی اپنے بہترین پر دکھائی دیے۔ سیف حسن جس بیٹنگ فارم میں ہیں، اس کا توڑ صرف حارث رؤف ہی ہو سکتے تھے اور انھیں پاور پلے کے اندر ہی نمٹا دینے کو جو سٹریٹیجی بنائی گئی، قابلِ تحسین تھی۔
جو ٹیم ورک پاکستان نے اس میچ میں دکھایا، وہ نہ صرف ایک ’معجزاتی‘ جیت رقم کر گیا بلکہ اس ٹیم کا اعتماد بھی سیروں بڑھا گیا کہ اگر یہ ایسی مشکلات سے بھی نکل کر جیتنا سیکھ چکی ہے تو یہ چیمپیئن ٹیموں میں شمار ہونے کی دوڑ دوڑ سکتی ہے۔
کسی بھی ٹیم میں جب چہرے بدلتے ہیں تو شائقین کی آرا بھی بدلتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے ’قطبیت زدہ‘ ماحول میں بہت سے شائقین نے اس ٹیم کا بائیکاٹ ہی کر ڈالا تھا لیکن جیسی پرفارمنس کے بل پر یہ ٹیم فائنل تک آئی ہے، اب اسے نظر انداز کرنا بھی حماقت سے ارزاں نہ ہو گا۔













