جب بچے کے نام پر شروع ہونے والی لڑائی طلاق اور عدالت تک پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
اکثر جوڑے بچے کی پیدائش پر اس کا نام رکھنے کے لیے کافی وقت لیتے ہیں اور اس دوران چند جوڑوں میں بحث بھی ہو جاتی ہے لیکن آپ نے شاید ایسا پہلے کبھی نہ سنا یا دیکھا ہو کہ کوئی جوڑا اپنے بچے کا نام رکھنے کے معاملے پر عدالت پہنچ گیا۔
انڈین ریاست کرناٹک کا ایک جوڑا تین برس سے اپنے بیٹے کے نام پر اتفاق نہ کر پایا تو آخر کار انھیں یہ معاملہ عدالت لے کر جانا پڑا۔
صرف یہ ہی نہیں بیٹے کے نام پر شروع ہونے والی یہ لڑائی اس حد تک بڑھ گئی کہ طلاق لینے کی باتیں بھی ہونے لگیں۔
یہ سب سنہ 2021 میں شروع ہوا۔ خاتون (جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) نے بیٹے کو جنم دیا اور ڈیلیوری کے بعد کچھ ہفتوں کے لیے اپنے والدین کے گھر چلی گئیں۔
انڈیا میں بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کا آرام کے لیے اپنے والدین کے گھر چلے جانا عام بات ہے۔ جس کے بعد شوہر کچھ دن بعد جا کر اپنی بیوی اور بچے کو واپس گھر لے آتا ہے۔
لیکن جب 21 سالہ خاتون نے بیٹے کے لیے اپنے شوہر کی جانب سے تجویز کردہ نام کو مسترد کر دیا تو بچے کے باپ کو شدید غصہ آیا اور وہ کبھی اپنی بیوی کو واپس گھر نہ لایا۔
خاتون نے بچے کے لیے ’آدی‘ نام منتخب کیا جو جوڑے کے ناموں کے کچھ حروف کو ملا کر بنایا گیا۔
خاتون کو اپنے والدین کے گھر رہتے ہوئے مہینوں اور پھر برسوں بیت گئے تو انھوں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ضلع میسور کی مقامی عدالت میں خاتون نے اپنے شوہر سے نان نفقہ لینے کی درخواست دائر کی کیونکہ وہ بچے کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔
خاتون کے وکیل ایم آر ہریش نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ خاتون طلاق کا مطالبہ کرنے لگیں۔
یہ کیس ابتدائی طور پر مقامی عدالت میں دائر کیا گیا تھا لیکن پھر اسے ’پپیلز کورٹ‘ جسے ’لوک عدالت‘ بھی کہا جاتا ہے، میں منتقل کر دیا گیا۔ اس عدلت میں ثالثی کی مدد سے معاملات کو حل کیا جاتا ہے۔
ججز کی طرف سے متعدد کوششوں کے باوجود دونوں میاں بیوی میں سے کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن پھر انھیں عدالت کی جانب سے تجویز کردہ نام پر رضامندی ظاہر کرنا پڑی۔
پبلک پراسیکیوٹر سومیہ ایم این کے مطابق بچے کا نام اب ’آریا وردھنا‘ ہے جس کا مطلب ’شرافت‘ ہے۔
انڈیا میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ بچے کا نام رکھنے کے معاملے پر عدالت کو مداخلت کرنا پڑی ہو۔
گذشتہ برس ستمبر میں کیرالہ کے ایک بچے کو اس بنا پر سکول میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ اس کا برتھ سرٹیفیکیٹ خالی تھا۔
بچے کی ماں نے عدالت سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ بچے (جس کی عمر اب چار برس ہے) کو رجسٹر کروانے کی کوشش کرتی رہیں ہیں تاہم حکام نے فارم مکمل کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ بچے کا والد (جن کی اب اپنی اہلیہ سے علیحدگی ہو چکی ہے) وہاں موجود نہیں تھا۔
عدالت نے اپنے حکمنامے میں برتھ رجسٹریشن آفس کو ہدایت کی کہ بچے کی ماں کی جانب سے تجویز کردہ نام کو قبول کیا جائے اور برتھ سرٹیفکیٹ میں باپ کا نام شامل کیا جائے۔













