کراچی ٹیسٹ میں کپتان اور ’دلوں کے کپتان‘ کی 196 رنز کی شراکت، پاکستان کے 317 رنز

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستان نے پہلے دن کھیل کے اختتام تک پانچ وکٹوں کے نقصان پر 317 رنز بنا لیے ہیں۔ 

کراچی میں کھیلا جا رہا یہ ٹیسٹ میچ دو میچوں کی سیریز کا پہلا میچ ہے۔ 

پاکستان کی جانب سے سابق کپتان سرفراز احمد کو ایک طویل عرصے بعد ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جنھوں نے آج 153 گیندوں پر 86 رنز بنائے۔ 

کپتان بابر اعظم نے 277 گیندوں پر 161 رنز بنائے اور یوں وہ پہلے دن کے ٹاپ سکورر رہے۔ 

سرفراز احمد اور بابر اعظم نے مجموعی طور پر 196 رنز کی شراکت قائم کر کے پاکستان کو پہلے دن کے لیے ایک خاطر خواہ سکور فراہم کیا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے مائیکل بریس ویل اور اعجاز پٹیل نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹم ساؤدی نے ایک وکٹ حاصل کی ہے۔ 

پہلے دن جب میچ کا آغاز ہوا تو پاکستان نے کھانے کے وقفے تک ہی اپنی چار وکٹیں گنوا دی تھیں اور اس کا سکور 115 پر چار آؤٹ تھا جبکہ بابر اعظم اور سرفراز احمد کریز پر موجود تھے۔ 

کھانے کے وقفے کے بعد پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ میں مزید روانی آئی اور چائے کے وقفے تک یہ سکور مزید کسی نقصان کے بغیر 224 تک پہنچ چکا تھا۔ 

چائے کے وقفے کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مستحکم انداز میں بیٹنگ شروع کی اور میچ کے اختتام تک یہ سکور 317 تک پہنچ چکا تھا۔ 

کپتان کی سنچری، ’دلوں کے کپتان‘ کی واپسی

پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے پہلے میچ میں جہاں شائقین کرکٹ کو سرفراز احمد کی چار سال بعد ٹیم میں واپسی پر خوشی ہے وہیں پاکستانی اننگز میں پہلے سیشن میں تین وکٹیں گنوا کر ڈگمگاتی بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دیتے ہوئے کپتان بابر اعظم کی سنچری نے اس پر چار چاند لگا دیے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ شائقین تو پہلے ہی بابر اعظم کے دیوانے ہیں ایسے میں جب انگلینڈ ٹیسٹ سیریز کے بعد انھیں کپتانی سے ہٹائے جانے کی چہ مگوئیوں کے درمیان وہ نہ صرف لڑکھراتی بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دیتے ہوئے سنچری سکور کر دیں بلکہ اپنی نویں سنچری بناتے ہوئے وہ دنیا کے چار ٹاپ بیٹسمین میں بھی آ جائیں تو شائقین کی خوشی کی انتہا کا عالم آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

بابر اعظم کا سنچری بنانا تھا کہ سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں نے ان کے کیریئر، ریکارڈ اور کارکردگی کے حوالے سے وہ قصیدے پڑھنے شروع کیے کہ نہ پوچھیں۔

فرید خان نامی صارف نے بابر اعظم کے سنچری سکور کرنے پر لکھا کہ ’بابر اعظم سال 2022 میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے ٹیسٹ کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انھوں نے جو روٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ پہلے ہی اس سال کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بین الاقوامی کھلاڑی ہیں۔ یہ بابر اعظم کی دنیا ہے اور ہم اس میں رہ رہے ہیں۔‘

ایک اور صارف نے ٹویٹ کی کہ ’ بابر اعظم نے چھکے کے ساتھ اپنی نویں سنچری مکمل کی، کنگ بابر کا ذکر کن الفاظ میں کریں۔‘

ایک اور صارف نے بابر اعظم کی سنچری بنانے کے بعد ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’ان کے چہرے پر سکون راحت کا ایک لمحہ ہے، چاہے کتنا بھی پروپیگنڈا چلا لو، چاہے کپتانی سے ہٹا دو، لیکن بابر اعظم کو رنز بنانے سے کسی کا باپ نہیں روک سکتا۔‘

جہاں ایک جانب صارف بابر اعظم کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں وہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کو ’دلوں کا کپتان‘ کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔

تجزیہ کار اور کرکٹ کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھنے والے مظہر ارشد نے کہا کہ ’تقریباً اپنے ڈیبیو کے 13 برس بعد سرفراز احمد اپنا پہلا ٹیسٹ میچ پاکستان میں کھیل رہے ہیں، وہ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں چار سال بعد واپس آئے ہیں، ڈومیسٹک سیزن میں وہ اچھی فارم میں نظر آئے اور گذشتہ ماہ انھوں نے سندھ کے لیے 102 رنز بنائے۔‘

جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’سرفراز احمد کا سٹرائیک ریٹ شاہد آفریدی کے بعد سب سے زیادہ ہے، ان کی ٹیسٹ میں رنز کی اوسط 36 سے زیادہ ہے۔‘

ایک صارف نے بابر اعظم اور سرفراز کو سال کی بہترین جوڑی قرار دیتے ہوئے لکھا ’واہ کیا سین ہے، سرفراز اور بابر سال کی بہترین جوڑی‘۔

جبکہ بعض صارفین بابر اعظم اور سرفراز کی کپتانی کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔