آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان وائٹ واش: ’یہ تو ہونا تھا، قدرت کا نظام ہے‘
انگلینڈ نے پاکستان کو کراچی میں جاری تیسرے ٹیسٹ میں شکست دے کر سیریز تین صفر سے اپنے نام کر لی ہے۔
پاکستان کو سنہ 1959 کے بعد پہلی مرتبہ ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آخری مرتبہ پاکستان کو 1959 میں تین میچز کی سیریز میں آسٹریلیا نے ہوم گراؤنڈ پر شکست دی تھی جب اُنھوں نے دو صفر سے سیریز جیتی تھی۔
اس سے قبل انگلینڈ نے راولپنڈی اور ملتان ٹیسٹ میچوں میں بھی پاکستان کو ہرایا تھا۔
پاکستان نے اپنی دو اننگز میں بالترتیب 304 اور 216 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں انگلینڈ نے جواباً 354 اور 170 رنز بنا کر سیریز اپنے نام کر لی۔
پاکستان کی جانب سے بولرز نے تو خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم بلے باز کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور دونوں اننگز میں کسی بلے باز کا سب سے زیادہ سکور 78 رہا جو بابر اعظم نے پہلی اننگز میں بنایا تھا۔
انگلینڈ کے بلے باز ہیری بروک کو پلیئر آف دی میچ اور پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا جنھوں نے تیسرے ٹیسٹ میں 111 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کسی اور پلیئر کا سکور ان سے زیادہ نہیں رہا۔
انگلینڈ کی تاریخی فتح پر جہاں انگلینڈ سمیت پاکستانی مداح بھی بہترین کرکٹ کی تعریف کر رہے ہیں تو وہیں پاکستانی ٹیم بھی سخت تنقید کی زد میں ہے۔
صحافی ارفع فیروز ذکی نے لکھا کہ انگلینڈ نے پاکستان کو شکست نہیں دی بلکہ وائٹ واش کر کے شرمندہ کر دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان پہلی مرتبہ ہوم گراؤنڈ پر چار میچز ہار کر وائٹ واش ہوا ہے۔ یہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کے بدترین دن ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان سیریز تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل تھی مگر پاکستان مارچ 2022 میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ ہار گیا تھا۔
بہرام قاضی نے لکھا کہ 17 برس بعد انگلینڈ کا پاکستان کا ٹیسٹ دورہ پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر پہلا وائٹ واش دے گیا اور بابر ہوم گراؤنڈ پر یکے بعد دیگرے چار ٹیسٹ شکستیں جھیلنے والے پہلے پاکستانی کپتان بن گئے ہیں۔
انعم فاروق رشید نے لکھا کہ پاکستان میں وائٹ واش انتہائی ذلت آمیز ہے۔ ٹیم انگلینڈ بہت ہی اچھی ہے اور وہ ٹیسٹ کرکٹ بھی ٹی 20 کی طرح کھیلتے ہیں مگر ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہماری کارکردگی اچھی نہیں تھی۔
اُنھوں نے لکھا کہ پلیئنگ الیون اور اس کی حکمتِ عملی میں کئی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
ہارون نے لکھا کہ آپ ’کوچز‘ کے بھیس میں 1990 کے سابق کرکٹرز کے ہوتے ہوئے کوئی معنی خیز سیریز یا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکتے۔ پاکستان کو ایک پروفیشنل غیر ملکی کوچ فوری طور پر بھرتی کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے جواب میں سعود نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان میں کسی کوچ کی پروفیشنل کوچنگ کی صلاحیت نہیں۔ پورے سیٹ اپ میں پروفیشنلزم صفر ہے۔ یہ تو ہونا تھا۔ قدرت کا نظام ہے۔