آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
والدین کا خیال نہ رکھنے والی اولاد کی تنخواہ سے 15 فیصد کٹوتی کا قانون: ’والدین بے توجہی کا شکار ہوں گے تو قانون اُن کے ساتھ کھڑا ہو گا‘
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ہے جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔
اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھ رہے۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی۔
گذشتہ اتوار کو ریاستی اسمبلی میں منظور کیے گئے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
اس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔ اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی پر بھی ہو گا۔
یہ بِل پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور قانون پر عملدرآمد کیسے ہو گا؟
والدین کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے اس قانون کے تحت یہ طے کیا گیا ہے کہ ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔
کلکٹر آفس والدین اور بچوں کو طلب کر کے کیس کی شنوائی کرے گا۔ شکایت کنندہ والدین کو اس موقع پر اپنی پوری آمدن کی تفصیل بھی جمع کروانی ہو گی۔
قانون کے مطابق کلکٹر آفس کو شکایت موصول ہونے کے دو ماہ کے اندر اس پر فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونٹت ریڈی نے اس بل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’والدین کے حققوق کا تحفظ خیر سگالی کے جذبے سے ہونا چاہیے۔ یہ بل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جب کوئی والدین بے توجہی کا شکار ہوں تو قانون ان کے ساتھ کھڑا ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ یہ قانون حکومت کی سماجی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بل پر ہونے والی بحث مین حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف قانون بنانا نہیں ہے بلکہ بوڑھے والدین کے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہے کہ اُن کے ساتھ بڑھاپے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔
انھوں نے کہا ’کسی بھی ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایّام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔‘
وزیر اعلی نے کہا کہ بدلتی ہوئی انسانی قدریں اور مادہ پرستی انسانی اور خاندانی رشتوں کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ کہ ’معمر والدین کا تحفظ اور وقار بحال کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ صرف قانونی اقدام سے سارے مسائل حل نہیں ہوں گے، تاہم یہ والدین سے روا رکھے جانی والی بے توجہی کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو گا۔
انھوں نے اس سلسلے میں ملک کے سرکردہ صنعت کار اور رمینڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیا کا ذکر کیا، جنھوں نے اپنے آخری ایّام ایک اولڈ ہوم میں بہت تکلیف میں گزارے۔
تلنگانہ اسمبلی نے جو نیا قانون پاس کیا ہے اس میں ایک سینیئر سٹیزن کمیشن قائم کرنے کی بھی تجویز ہے۔
اس کمیشن کی سربراہی ہائیکورٹ کے ایک سابق جج کریں گے۔
یہ کمیشن کلکٹر آفس کی جانب سے دیے گئے ابتدائی فیصلے کے خلاف والدین یا اولاد کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرے گا۔
انڈیا میں اربنائزیشن، مشترکہ خاندانوں کے بکھرنے، خواتین کے کام کرنے اور نقل مکانی کے سبب بزرگ ماں باپ کی توجہ ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔
تلنگانہ کے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ محمد ناظم علی نے اس نئے قانون کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت اچھا قدم ہے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’ضعیفی میں ماں باپ بہت بے سہارا ہو جاتے ہیں۔ انھیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
’ماں باپ اپنی فعال زندگی میں اپنے سے زیادہ بچوں کا خیال رکھ کر اُن کی پرورش کرتے ہیں ۔ لیکن اب نئے ماحول میں بچے اپنے ماں باپ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو اولڈ ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ نیا قانون اچھا ہے اور بزرگ ماں باپ کے لیے یہ بہت مفید ثابت ہو گا۔‘
ایک اور شہری عبدالحمید منان نے کہا کہ ’ماں باپ کی مدد کے لیے حکومت نے جو قانون وضع کیا ہے اس کے لیے سبھی والدین شکر گزار ہوں گے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو ضعیف ماں باپ کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔‘
’بوڑھا ہوتا ہوا ملک‘
اقوام متحدہ نے انڈیا کو ’بوڑھا ہوتا ہوا ملک‘ کے زمرے میں رکھا ہے۔
انڈیا میں اس وقت تقرییآ سات فی صد آبادی 60 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ہےـ سنہ 2050 تک یہ تعداد 20 فیصد پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
ٹاٹا ٹرسٹ اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے ادارے کی ایک مشترکہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بزرگ آبادی کے لیے پالیسی اور پروگرامز کی بہت سخت ضرورت ہے لیکن ابھی اس کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔
بعض رپورٹس مین بتایا گیا ہےاس وقت ملک میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور 15 سے 20 لاکھ بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں۔