اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ، پانچ نکاتی اعلامیہ اور چین کا ممکنہ کردار: ایران جنگ رُکوانے کے لیے چین ’ضامن‘ بن سکتا ہے؟

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 15 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو اب پانچ ہفتے مکمل ہونے والے ہیں اور اب اس کشیدگی کے تناظر میں دنیا بھر کی نگاہیں چین کی جانب ہیں۔

گذشتہ روز پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد جاری کردہ پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیے میں فوری جنگ بندی، مذاکرات کے آغاز، شہری انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کے تحفظ اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں کی سکیورٹی پر زور دیا گیا ہے۔

اگرچہ یہ اعلامیہ وسیع سفارتی تجاویز تو پیش کرتا ہے مگر اس میں چین کی براہ راست ثالثی کا کوئی واضح ذکر نہیں۔ خیال رہے کہ چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور خلیج کی سمندری راہداریوں پر انحصار کرتا ہے، مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ بحران کو اپنے معاشی مفادات کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔

مگر اس کے باوجود بیجنگ کا رویہ خاصا محتاط دکھائی دیتا ہے۔ چین نے نہ تو مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے اور نہ ہی اب تک کُھل کر فریقین کے درمیان ثالثی کی کوئی کوشش کی ہے۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران، امریکہ مذاکرات میں چین کا کیا کردار ہے، خاص طور پر جب پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، اپنی صحت کی خرابی کے باوجود، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے ہم منصبوں سے مشاورت کے بعد فوراً بیجنگ پہنچ گئے؟

چین اب تک کھل کر ثالثی کیوں نہیں کر رہا اور اگر ایرانی حکومت کو ’ضامن‘ کی ضرورت ہو تو کیا چین یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہو گا؟

اسحاق ڈار کا دورہِ بیجنگ اور پانچ نکاتی اعلامیہ ہمیں کیا اشارے دیتا ہے؟

پاکستانی سیاستدان اور خارجہ امور کے ماہر مشاہد حسین سید کے مطابق، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیجنگ کا دورہ جو سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ اسلام آباد میں مشاورت کے بعد ہوا، تین اہم نکات کی عکاسی کرتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پہلا، یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان موجودہ صورتحال میں ایک مرکزی اور اہم کھلاڑی ہے اور اس کی رسائی اہم دارالحکومتوں تک ہے۔

ان کے مطابق دوسرا، یہ پاکستان اور چین دونوں کی طرف سے ایک واضح پیغام ہے کہ دونوں ممالک سٹریٹجک مسائل پر اعلیٰ ترین سطح پر بہت قریبی ہم آہنگی اور مشاورت رکھتے ہیں۔ یہ ان کے قریبی تعلقات اور علاقائی و عالمی کلیدی مسائل پر مفادات کی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔

تیسرا، اسحاق ڈار کے دورے کی اہمیت یہ ہے کہ چین اور پاکستان امریکہ اور ایران دونوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ’دیکھیں، ہم مدد کے لیے موجود ہیں اور جنگ ختم کروانے کے لیے پُل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے بیجنگ میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد جاری کردہ پانچ نکاتی بیان بہت احتیاط سے تیار کیا گیا ہے، جس میں کسی ملک کا نام لے کر تنقید نہیں کی گئی بلکہ ایسے عالمی اصولوں پر زور دیا گیا ہے جو بین الاقوامی سیاسی نظام کے استحکام کے لیے اہم ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، ایک جامع امن تصفیہ، فوری جنگ بندی، اور سویلین انفراسٹرکچر پر بمباری کا خاتمہ وغیرہ۔

مشاہد حسین کے مطابق، پاکستان اور چین نے اس اعلامیے کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے حامی بنے بغیر غیر جانبدار اور اصولی موقف اختیار کر سکتے ہیں اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

’موجودہ صورتحال میں یہ ایک ایسا کردار ہے جو پاکستان اور چین کے علاوہ کوئی اور ملک ادا نہیں کر رہا۔‘

بیجنگ میں تائے ہو انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو چیئرمین ’ایشیا نیریٹیوز سب سٹیک‘ اینار ٹینگن کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ بیجنگ ایک ’وسیع تر سفارتی حکمت عملی‘ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ اسے ’درمیانی طاقتوں کے ایک اُبھرتے ہوئے سفارتی نیٹ ورک‘ کا حصہ بھی قرار دیتے ہیں ۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب، ترکی اور مصر سے مشاورت اور اس کے بعد بیجنگ میں بات چیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک کثیر سطحی سفارتی نظام تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اینار کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں چین کا موجودہ کردار اس کی بالواسطہ ہم آہنگی کی ترجیح سے مطابقت رکھتا ہے۔ ’چین مرکزی ثالث کا کردار نہیں ادا کر رہا بلکہ وسیع اتفاق رائے ترتیب دینے والے نیٹ ورک کو استحکام فراہم کرنے والے عنصر کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘

’اس تناظر میں اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ خلیج کی سلامتی کے خدشات، علاقائی ڈی ایسکلیشن کی ترجیحات اور چین کے غیر جارحانہ گورننس فریم ورک کو ہم آہنگ کرنے کی ابتدائی کوشش ہے۔‘

اینار اگرچہ اسے ایک ’ابتدائی قدم‘ قرار دیتے ہیں تاہم وہ زور دیتے ہیں کہ یہ ’کثیر القطبی سفارتی بنیاد کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے، نہ کہ یک طرفہ ثالثی کی طرف۔‘

پاکستان، چین تعلقات پر نظر رکھنے والے خارجہ امور کے ماہر اور قائداعظم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر محمد شعیب کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار کے دورہِ چین میں بیجنگ سے زیادہ پاکستان کی کوشش نظر آتی ہے کیونکہ پاکستان چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ فریق ثالثی کی اس کوشش میں شامل ہوں تاکہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں چین کے شامل ہونے سے امن کے عمل کی ساکھ بڑھتی ہے اور یہ پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ وہ اپنے قریبی سٹریٹیجک ساتھی کو اعتماد میں لے رہا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ چین مکمل ضمانت دینے والا ملک نہیں بن سکتا، لیکن وہ ایران پر کسی حد تک اثر ڈال سکتا ہے اور امن کے عمل کو مضبوط کر سکتا ہے۔

پروفیسر محمد شعیب کے مطابق اگر چین ثالثی کے اس عمل میں کسی بھی حیثیت میں شامل ہوتا ہے تو یہ عمل کثیر جہتی بن جائے گا، جس میں مسلم ممالک، علاقائی ممالک اور بڑی طاقتیں شامل ہوں گی۔

ایران امریکہ مذاکرات میں چین کا ممکنہ کردار کیا ہو سکتا ہے؟

چیئرمین پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید کے مطابق خلیج کی موجودہ صورتحال میں چین ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ چین کے وسیع تر معاشی مفادات ہیں۔ ’چین نہ صرف ایران بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے خلیجی ممالک کا بھی اہم تجارتی شراکت دار ہے، جس کے باعث اس کے خطے میں نمایاں اقتصادی، سیاسی اور تزویراتی مفادات وابستہ ہیں۔‘

مشاہد حسین سید کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ چین موجودہ صورتحال سے کسی حد تک فائدہ بھی اٹھا رہا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ عالمی مالیاتی نظام میں پیٹرو ڈالر سے پیٹرو یوآن کی طرف منتقلی کی بات ہو رہی ہے۔

وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد فیس کی مثال دیتے ہیں جس کی ادائیگی، اُن کے مطابق، ڈالر کے بجائے یوآن میں کی جا رہی ہے۔ مشاہد کے مطابق یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو عالمی مالیاتی توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

مشاہد کے مطابق چین وسیع تر تناظر میں بھی ایک اہم فریق ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں وہ صدر ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو متوقع دورہ چین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بیجنگ یہ چاہے گا کہ اُس وقت تک تنازع ختم ہو چکا ہو۔‘ مشاہد کا ماننا ہے کہ چین، جو خود کو گلوبل ساؤتھ کا رہنما اور ایران کا قریبی دوست سمجھتا ہے، ایسے حالات میں ٹرمپ کا پرتپاک استقبال نہیں کرنا چاہے گا جب ایران پر بمباری جاری ہو۔

تاہم مشاہد حسین سید کے مطابق ’چین ہمیشہ احتیاط سے قدم اٹھاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امریکہ اس وقت ایک مشکل اور غیر یقینی صورتحال میں پھنسا ہوا ہے جہاں اس کے لیے جیت کا کوئی واضح راستہ نہیں۔ اور ایسی صورتحال میں چین کسی ایسے بحران میں الجھنا نہیں چاہتا جس کا انجام واضح نہ ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ چین صرف اسی صورت میں براہِ راست ثالثی یا فعال کردار ادا کرے گا جب دونوں فریق اس کی خواہش ظاہر کریں اور وہ بھی اپنی (چین کی) شرائط پر اور اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ اس تنازع میں چین کے اپنے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔

اینار ٹینگن کہتے ہیں کہ فی الوقت اِس بحران میں چین کا کردار روایتی ثالث کا نہیں ہے۔ ’چین اور پاکستان کی مشترکہ پانچ نکاتی تجویز دراصل بیجنگ کے وسیع تر سفارتی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے، جس کے مطابق امن دباؤ یا طاقت کے ذریعے مسلط نہیں کیا جاتا بلکہ مشاورت، اتفاقِ رائے اور بتدریج اعتماد سازی کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے۔‘

اُن کے مطابق یہ نقطہ نظر چین کے ’تین عالمی اقدامات‘ اور اس کے ابھرتے ہوئے عالمی نظم و حکمرانی کے تصور سے مطابقت رکھتا ہے، جو مغربی دنیا کے طاقت کے اظہار اور مشروط سفارتکاری کے تاریخی ماڈل کو مسترد کرتا ہے۔‘

اینار کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے نزدیک ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ بحران محض پالیسی اختلاف نہیں بلکہ اعتماد کے مکمل خاتمے کا نتیجہ ہے۔ ’چین کا مؤقف ہے کہ ماضی میں امریکہ نے مذاکراتی عمل کو دباؤ بڑھانے اور عسکری اقدامات کے لیے استعمال کیا، جس سے ایران کا سفارتکاری پر اعتماد ختم ہو گیا۔‘

’اسی لیے چین کا موجودہ کردار دانستہ طور پر محدود ہے: وہ نتائج مسلط کرنے کے بجائے صرف ایک عملی فریم ورک فراہم کر رہا ہے تاکہ مختلف ممالک کو مشاورتی عمل میں شامل کیا جا سکے۔‘

چین کھل کر ثالثی کیوں نہیں کر رہا؟

اینار ٹینگن کے مطابق بیجنگ کا محتاط رویہ محض خاموشی نہیں بلکہ ایک ’سوچی سمجھی حکمت عملی‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اعتماد کے بغیر ثالثی بے معنی ہوتی ہے اور ایران ماضی کے تجربات کی بنیاد پر مغربی مذاکراتی عمل کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے، اس لیے چین کسی ایسے عمل کا نمایاں حصہ بننے سے گریز کر رہا ہے جو ناکامی کا شکار بھی ہو سکتا ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ چینی سفارتی ماڈل مغربی یا نوآبادیاتی مداخلت سے مختلف ہے۔ اُن کے مطابق چین امن کو بیرونی طاقت کے ذریعے نافذ کرنے کے بجائے خودمختاری اور سلامتی کے باہمی احترام سے جڑا عمل سمجھتا ہے۔

اینار کے مطابق چین ایک ایسے تنازع میں خود کو مرکزی کردار میں لانے سے گریز کر رہا ہے جہاں فریقین اپنی سخت ترین پوزیشنز پر قائم ہیں۔ اس کے بجائے وہ خود کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر رہا ہے جہاں علاقائی ممالک جیسے پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

’مختصراً، چین کھل کر ثالثی کرنے سے یا اس عمل کی قیادت سے اس لیے گریز کر رہا ہے کہ اس کے نزدیک قبل از وقت مرکزی کردار ادا کرنا اس کی طویل مدتی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ چین کو درپیش چیلنجز صرف حکمت عملی تک محدود نہیں بلکہ ساختی نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق سب سے بڑی رکاوٹ ایران اور امریکہ کے درمیان گہرے اعتماد کا فقدان ہے، جسے ثالثی اکیلے دور نہیں کر سکتی۔

ان کے مطابق چین جبری سفارتکاری کو مسترد کرتا ہے، جس سے اس کی طویل مدتی ساکھ تو مضبوط ہوتی ہے، تاہم وہ فریقین کو کسی معاہدے پر مجبور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اینار خطے کی پیچیدہ صورتحال کو بھی ایک اہم عنصر قرار دیتے ہیں جہاں صرف ایران-امریکہ تعلقات ہی نہیں بلکہ خلیجی سلامتی، اسرائیل کی پالیسی اور علاقائی اتحاد بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

اینار کہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کشیدگی کم کرنے کے اشارے دے رہی ہے، تاہم ایران ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ان پر مکمل اعتماد نہیں کرتا، جس کے باعث ایک ایسا باہمی عدم اعتماد پیدا ہو چکا ہے جہاں حقیقی سفارتی کوششیں بھی محدود اثر رکھتی ہیں۔

ان کے بقول ایک اور مسئلہ توقعات کا خلا ہے، کیونکہ بہت سے مبصرین اب بھی چین سے روایتی سپر پاور ثالث کے کردار کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ بیجنگ کا ماڈل مختلف ہے۔

اس حوالے سے مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ چین اس بحران میں ’انتظار کرو اور دیکھو‘ والا محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے۔ ’وہ (چینی) چاہتے ہیں کہ دیگر ممالک ان سے فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی درخواست کریں یعنی انھیں دعوت دیں، تاکہ دعوت ملنے کے بعد ہی وہ کہیں، ’ٹھیک ہے، ہم جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

مشاہد کا ماننا ہے کہ چین خود بخود آگے بڑھ کر یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ’ہم مدد کرنا چاہتے ہیں‘۔ وہ (چین) کہتا ہے کہ ’چلو، واقعات کو وقوع پذیر ہونے دو‘ کیونکہ دونوں طرف کے موقف سخت ہو چکے ہیں۔ جب تک چین کو ایک ’ون-ون والا منظرنامہ‘ نظر نہیں آتا، وہ اس جنگ میں مداخلت نہیں کرے گا جو اب واضح طور پر امریکہ کے لیے ایک لامتناہی اور ناقابل فتح جنگ بن چکی ہے۔

فعال ثالث کا کردار ادا کرنے میں چین کو درپیش چیلینجز کے متعلق مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ چین کو فکر ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست اور خلیجی ریاستوں کی رقابتیں ایک دلدل کی مانند ہیں اور بظاہر امریکی پہلے ہی اس دلدل میں پھنس چکے ہیں۔

ان کے مطابق چین اس مشکل اور پیچیدہ سیاستی جال میں غیر ضروری طور پر الجھنا نہیں چاہتا، جہاں روایتی دشمنیاں، نئی دشمنیاں، حسد اور تنازعات ہیں اور مسائل کو ذاتی نوعیت کا بنا دیا جاتا ہے۔

’اس لیے چین بہت احتیاط برت رہا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ نہیں جلانا چاہتا کیونکہ اس پر الزام لگ سکتا ہے کہ وہ کسی ایک فریق کا ساتھ دے رہا ہے یا جانبدار ہو گیا ہے۔‘

خارجہ امور کے ماہر اور قائداعظم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر محمد شعیب کا کہنا ہے کہ چین پورے خطے میں سب سے بڑا تجارتی اور سٹریٹیجک پارٹنر ہے، خاص طور پر سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ۔

وہ کہتے ہیں کہ چین کو خطے میں توازن قائم رکھنا ہے کیونکہ سعودی عرب کو یہ یقین ہے کہ اگر ایرانی حکومت اقتصادی طور پر قائم ہے تو اس میں کسی حد تک چین کا کردار بھی ہے کیونکہ ایرانی تیل کی فروخت کا تقریباً 80-85 فیصد حصہ چین کو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے چین بڑا محتاط ہے تاکہ سعودی عرب، دبئی یا باقی خلیجی ممالک کو یہ نہ لگے کہ وہ ایران کو سہولت دے رہا ہے۔

وہ چین کی جانب سے سعودی عرب اور ایران کو قریب لانے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت بھی چین نے پہل نہیں کی تھی۔ ’دونوں فریق چاہتے تھے کہ دشمنی کم ہو اور چین نے بس ایک کردار ادا کیا، یہ نہیں کہ چین نے انھیں اٹھا کر ایک ساتھ بٹھایا۔‘

ان کے مطابق تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک پیچیدہ خطہ ہے۔ جس میں مذہبی، فرقہ وارانہ اور تہذیبی تنازعات موجود ہیں۔ ’یہودی اور مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں، شیعہ اور سنی آپس میں لڑ رہے ہیں۔۔۔ اگر آپ چینی ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ یہاں سب سے بڑا کھلاڑی گذشتہ ساٹھ سال سے امریکہ رہا ہے، تو اگر امریکہ نے کچھ حاصل نہیں کیا تو چین بھی کچھ حاصل نہیں کرے گا۔‘ اسی لیے چین بڑا محتاط اور سفارتی رویہ اپنا رہا ہے۔

پروفیسر شعیب کہتے ہیں کہ چین زیادہ کچھ نہیں کر رہا۔۔۔ بیجنگ نے آخری مرتبہ اپنی پوزیشن اس وقت ظاہر کی جب شام کے معاملے میں ویٹو کیا۔۔۔ پھر جب یورپی یونین نے ایران پر پابندیاں لگائیں تب بھی چین نے محض ایک سفارتی ردعمل دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ چین نہیں چاہتا کہ ایران ایٹمی طاقت بنے، لیکن ایران کے یورینیم افزودگی کے قانونی حق کو تسلیم کرتا ہے۔

ان کے مطابق ایران پر پابندیاں ہیں اور چینی کمپنیاں بھی پابندیوں اور تجارتی خطرات کے پیش نظر ایران کے ساتھ کام نہیں کرتیں۔ اسی لیے چین کوشش کرتا ہے کہ وہ کسی ایسے تنازع کا حصہ نہ بنے جس پر امریکی ردعمل آئے۔

پروفیسر شعیب کے مطابق یہی وہ تمام وجوہات ہیں کہ چین کھل کر کوئی کردار ادا نہیں کر رہا اور وہ ایسا کرے گا بھی نہیں۔

کیا چین ’ضامن‘ بن سکتا ہے؟

عالمی میڈیا میں ایران امریکہ معاہدے میں تیسرے فریق کی ضمانتوں کے متعلق خاصی بات کی جار ہی ہے۔۔۔ کیا چین یہ کردار ادا کر سکتا ہے اور کیا تہران اور واشنگٹن دونوں اسے قبول کریں گے؟

مشاہد حسین سید کے مطابق تیسرے فریق کی ضمانت کے معاملے میں آج سب سے بڑا مسئلہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے۔ ’یہ اعتماد کا خلا اس لیے پیدا ہوا ہے کہ ایران امریکہ کے ہاتھوں دو بار دھوکہ کھا چکا ہے۔ امریکہ نے دو بار ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے۔‘

’اس لیے ایران نہ تو امریکہ کی جانب سے کی گئی باتوں پر یقین کرے گا اور نہ ہی اس کی نجی یقین دہانیوں کو خاطر خواہ سمجھے گا۔ ایران کو ایک مضبوط ضامن کی ضرورت ہے۔‘

مشاہد حسین سید کا ماننا ہے کہ چین یہ کردار کو ادا کر سکتا ہے کیونکہ وہ ایک معاشی سپر پاور ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور خطے میں ایک اہم معاشی فریق ہے۔ اس تناظر میں چین کا ضمانت دینے والا کردار تہران اور واشنگٹن دونوں کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔

پروفیسر شعیب کہتے ہیں کہ چین کا محدود کردار امن کے عمل کو مضبوط کرنا اور ایرانیوں سے رابطہ رکھنا ہے۔ ’چین مکمل ضمانت دینے والا نہیں بن سکتا لیکن وہ ایران پر اثر ڈال سکتا ہے اور امن کے عمل کو مضبوط کر سکتا ہے۔‘

اس حوالے سے اینار کا ماننا ہے کہ تیسرے فریق کے طور پر ضمانت دینے کا تصور نظریاتی طور پر چین کے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتا، تاہم عملی طور پر یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ چین اپنی معاشی طاقت، ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اور عدم مداخلت کی پالیسی کے باعث اعتماد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ صلاحیت نہیں بلکہ قبولیت ہے۔

’ایران چین کو ایک ایسے بڑے ملک کے طور پر دیکھ سکتا ہے جو مغربی دباؤ کے نظام سے باہر ہے، مگر امریکہ کے لیے اپنے حریف کو اس کردار میں قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان اس قدر گہرا ہے کہ کسی ایک ملک کی ضمانت کافی نہیں ہو گی۔ ایک مؤثر اور قابلِ عمل حل کے لیے ممکنہ طور پر ایک کثیرالطرفہ نظام درکار ہو گا جس میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتیں شامل ہوں۔