آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکہ ایران سے دو یا تین ہفتوں میں نکل جائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران میں ہمارا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے‘ اور امریکہ ’اگلے دو یا تین ہفتوں میں ایران سے نکل جائے گا۔‘ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جنگ ختم کرنے کا ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔

خلاصہ

  • معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکہ ایران سے دو یا تین ہفتوں میں نکل جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا عندیہ
  • امریکہ کا ایک ہی مقصد تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ نہیں کر سکے اور یہ مقصد حاصل کر لیا گیا ہے: صدر ٹرمپ
  • ایران جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان
  • امریکہ اور ایران پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، لیکن مذاکرات نہیں ہو رہے: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان اور چین نے پانچ نکات پر مبنی اقدامات تجویز کیے ہیں

لائیو کوریج

  1. اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے، تل ابیب میں تین افراد زخمی

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز میگن ڈیوڈ ایڈوم کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کی اطلاعات کے بعد اس کی ٹیموں کو متعدد علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے تھوڑا پہلے کہا تھا کہ اس نے ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں کی ایک نئی لہر کا پتہ لگایا ہے۔

    ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے مشرق میں بنی بریک میں ایک 11 سالہ لڑکی سمیت تین افراد کو طبی امداد دی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 11 سالہ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے۔

  2. رات بھر مشرقِ وسطیٰ میں کہاں کہاں حملے ہوئے؟

    گذشتہ رات امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ اس کی افواج ایران کے اندر زیر زمین فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پریسیشن گولہ بارود گرا رہی ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ایک فیکٹری پر حملہ کیا جو اس کے بقول کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث تھی۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ جس فیکٹری کا نشانہ بنایا گیا وہاں دوائیں تیار کی جاتی ہیں۔

    خلیجی ممالک پر حملے حاری رہے۔ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایندھن کے ڈپو کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے دو ڈرونز روکے ہیں، بحرین پر بھی حملہ کیا گیا ہے اور قطر کے ساحل کے نزدیک ایک آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    خلیجی رہنما ابھی زیادہ کچھ نہیں کہہ رہے ہیں – ان کی بنیادی توجہ اپنی سرزمین کے دفاع پر ہے – لیکن خطے کے ممالک نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اس جنگ اور اس تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

  3. آبنائے ہرمز آپ کے علاوہ سب کے لیے ضرور کھلے گی: ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا ٹرمپ کو پیغام, غنچے حبیبی آزاد، سینیئر نامہ نگار، بی بی سی فارسی

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز یقیناً دوبارہ کھلے گی، لیکن آپ کے لیے نہیں؛ یہ ان لوگوں کے لیے کھلی رہے گی جو ایران کے نئے قوانین کی تعمیل کریں گے۔‘

    اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں عزیزی نے ایران کے 1979 کے انقلاب کے بعد کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مہمان نوازی کے 47 سال ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے ہیں۔‘

    عزیزی کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ نے بالآخر ’حکومت کی تبدیلی‘ کا اپنا خواب پورا کر لیا ہے لیکن یہ تبدیلی خطے کی سمندری حکومت میں آئی ہے۔

    یاد رہے کہ سوموار کے روز ایران کے نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے خبر دی تھی کہ ملک کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

  4. اسرائیل کا لبنان کے لیے ’غزہ ماڈل‘ کیا ہے؟

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان کے اندر ایک بفر زون قائم کیا جائے گا اور اسرائیل حزب اللہ کے خلاف موجودہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی علاقے کے ایک بڑے حصے پر اپنا سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا۔

    اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ سکیورٹی بفر زون میں دریائے لیتانی تک کا علاقہ شامل ہو گا جو کہ اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس منصوبے کو اقوام متحدہ، یورپی ممالک اور کینیڈا نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ’علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    کاٹز کا کہنا ہے اس سکیورٹی زون کے قائم ہونے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے چھ لاکھ سے زائد لبنانی باشندوں کو اس وقت تک اس علاقے میں واپس آنے پر پابندی ہو گی جب تک شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جاتی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’غزہ میں رفح اور بیت حنون کے ماڈل کے طرز پر‘ اسرائیلی سرحد کے قریب لبنانی دیہات کے تمام مکانات کو مسمار کر دیا جائے گا۔

  5. قطر کے ساحل کے نزدیک تیل کے ٹینکر کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، برطانوی میری ٹائم ایجنسی

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ کے ساحل کے نزدیک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گیا ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ پروجیکٹائل بحری جہاز سے بندرگاہ کی طرف سے ٹکرایا تھا جس سے ٹینکر کو نقصان پہنچا ہے تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔

    ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس واقعے سے ’ماحولیاتی اثرات‘ کا خطرہ نہیں۔

    یہ واقعہ کویت اور سعودی عرب سے 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے والے ایک ٹینکر کے دبئی کے ساحل کے نزدیک ایرانی ڈرون حملے کا نشانہ بننے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

  6. خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ

    مئی کے مہینے میں برینٹ خام تیل کی فراہمی کے لیے مستقبل سووں میں مارچ میں ریکارڈ 64 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ یہ 1990 کی خلیجی جنگ کے بعد ہونے والا سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ ہے۔

    تیل کا عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کا ایک ماہ کا فیوچر معاہدہ یا مستقبل کا سودا ہوتا ہے۔ عام طور پر جب اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

    بدھ کے روز جون کی ڈیلیوری کے لیے برینٹ کی قیمت 1.2 فیصد اضافے کے 105.36 ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

    انٹر کیپٹل انرجی کے البرٹو بیلورین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل برینٹ کی ماہانہ قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ 1990 میں دیکھنے میں آیا تھا جب عراق کے کویت پر حملے کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سپلائی میں خلل پڑا تھا اور مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر تنازعے کے خدشات نے جنم لیا تھا۔

    البرٹو بیلورین کا کہنا ہے کہ یہ حالات ایران کے ساتھ جاری تنازع کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ مارکیٹیں بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل خطرات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

    سنگاپور مینجمنٹ یونیورسٹی کے گوہ جینگ رونگ نے کہا کہ اگر شپنگ کی روانی میں خلل پڑا اور تنازع کم نہ ہوا تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

    دریں اثنا، ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں آج صبح اس وقت تیزی دیکھنے میں آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ’دو سے تین ہفتوں‘ میں ایران سے نکل جائے گا۔

    جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں چار فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا میں کوسپی میں چھ فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  7. بغداد سے امریکی خاتون صحافی اغوا، امریکی اور عراقی حکام کی تصدیق

    عراقی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد سے ایک امریکی فری لانس صحافی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق مشتبہ اغواکاروں میں سے ایک کا تعلق ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا سے ہے۔

    ال مانیٹر نامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ شیلی کٹلسن کو منگل کی شام اغوا کیا گیا تھا۔ وہ ال مانیتر کے لیے خبریں فائل کیا کرتی تھیں۔

    عراقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے رپورٹر کے اغوا کاروں کا تعاقب کیا جس کے نتیجے میں اغوا کاروں میں سے ایک کار الٹ گئی اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران سے منسلک ملیشیا گروپ کتائب حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عراقی حکام نے حراست میں لیا ہے۔

    اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے گلوبل پبلک افیئر ڈیلن جانسن کٹلسن کا نام لیے بغیر ایک امریکی صحافی کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔

    انھوں نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا: ’محکمہ خارجہ نے پہلے اس شخص کو ان کے خلاف خطرات سے آگاہ کرنے کا اپنا فرض پورا کیا تھا اور اب ہم ان کی جلد از جلد رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ایف بی آئی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔‘

    خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی حکام نے کِٹلسن سے متعدد بار رابطہ کیا تھا تاکہ انھیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان سے آخری مربہ سوموار کی رات رابطہ کیا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا: ’رازداری اور دیگر تحفظات کی وجہ سے، ہمارے پاس اس وقت دینے کے لیے مزید کوئی معلومات نہیں۔‘

  8. ایران جنگ سے امریکہ کو روزانہ دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، ماہرین

    عالمی تنازعات کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصان پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران جنگ سے امریکہ کو روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت کے منصوبے کی ڈائریکٹر سٹیفنی سیویل کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں اور فوجی اخراجات، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات کی مد میں اس جنگ سے امریکیوں کو پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

    سیویل کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجے عوامی قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہت بڑی رقم کا اضافہ ہو رہا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے مارچ کے آغاز میں کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔ سیویل کے خیال میں درحقیقت یہ لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    ہارورڈ یونیورسٹی کے دفاعی بجٹ کی ماہر لنڈا بلائمز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس جنگ پر پہلے ہی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دو ارب ڈالر لاگت آ رہی ہے۔

    سیویل کا کہنا ہے کہ جنگی اخراجات کا بوجھ ہمیشہ اوسط امریکی پر پڑتا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں اوپر جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی، کاروبار میں غیر یقینی صورتحال اور انشورنس کی لاگت میں اضافے جیسے طویل مدتی اثرات بھی پڑیں گے۔

    وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ایران میں جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا جائے گا جو سیویل کے بقول ایک بہت خطیر رقم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعی اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جنگ جاری ہے۔‘

  9. ایران جنگ کا خاتمہ نظر آ رہا ہے، امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے اور جنگ کا خاتمہ نظر آ رہا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ’آگے چل کر براہ راست ملاقات کا بھی امکان ہے۔ ہم اس کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔‘

    تاہم انھوں خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو محض وقت حاصل کرنے کے لیے تاخیری حربے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی ٹائم لائن نہیں دے سکتے تاہم روبیو کے مطابق ’ہمیں فنش لائن دکھائی دے رہی ہے۔‘

    روبیو نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو دوبارہ اس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ آیا یہ اتحاد ’جس نے کچھ عرصے تک اس ملک کی اچھی خدمت کی ہے کیا وہ اب بھی اپنا مقصد پورا کر رہا ہے۔‘

  10. ایران سے انخلا، ریجیم چینج، معاہدے کی بھیک: صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کیا کہا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں امریکی مہم جلد ختم ہو جائے گی۔

    اوول آفس میں صدر ٹرمپ کی بات چیت کا خلاصہ:

    • ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ ’بہت جلد [ایران] سے نکل جائے گا‘ اور کہا کہ امریکی فوجی کارروائی ’دو یا تین ہفتوں‘ میں ختم ہو جائیں گی۔
    • ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کیے گئے فضائی حملے کے طے شدہ اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کا بنیادی ہدف حاصل کر لیا گیا ہے اور امریکہ اب بس ’کام ختم کر رہا ہے۔‘
    • ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اب ایرانی آسمانوں پر امریکہ کا راج ہے اور کئی سینئر سیاسی اور فوجی رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد تہران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف بھی حاصل ہو چکا ہے۔ انھوں نے تہران کے نئے رہنماؤں کو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں ’بہت کم بنیاد پرست‘ اور ’معقول‘ قرار دیا۔
    • ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی رہنما جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ ’معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں‘۔ یاد رہے کہ ایران اس دعوے کی پہلے بھی تردید کر چکا ہے۔
    • انھوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بغیر ثالثی کے بھی ختم ہو سکتی ہے۔
    • جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرے گا ایندھن کی قیمتین نیچے آ جائیں گی۔
  11. امریکہ اگلے ’دو سے تین ہفتوں میں‘ ایران سے ’نکل‘ جائے گا، صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اگلے ’دو سے تین ہفتوں میں‘ ایران سے ’نکل‘ جائے گا۔

    منگل کے روز اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ایک ہی ’مقصد‘ تھا - کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ نہیں کر سکے اور امریکی صدر کے مطابق انھوں نے وہ حاصل کر لیا ہے۔

    ’ہمارا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے۔‘ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ’شاید دو ہفتوں کے اندر، یا اس سے دو چار دن زیادہ لگ جائیں کام ختم ہونے میں۔‘

    ’ہم ان کی ہر ایک چیز تباہ کر دینا چاہتے ہیں – لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم اس سے پہلے کوئی معاہدہ کر لیں۔‘

    اوول آفس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ، ’ضروری نہیں کہ ایران کوئی معاہدہ کرے۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران سے نکل جائے گا جب اسے یقین ہو جائے کہ ایرانی حکومت ’سالوں تک‘ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتی۔

    ’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایران سے امریکہ کے انخلا کا تہران کے ساتھ معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔

    ’وہ معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں‘

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران میں بمباری کے نتیجے میں سب کچھ تباہ ہو گیا ہے اور ان کے پاس اب اپنے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں بھی نہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ’اب لڑ نہیں پا رہے۔ وہ اب ہم پر فائر بھی نہیں کر رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ’ان کا جنگی ساز و سامان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے‘ اور ’فائر کرنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا دعوی ہے کہ ایران کے پاس اب بحریہ یا فوج بھی نہیں ہے۔

    ’وہ ہار رہے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ہار رہے ہیں۔ وہ ایک معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں۔‘

  12. ایران کے پاس جنگ ختم کرنے کا ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں: مسعود پیزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔

    صدر پیزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔

    یہ بیان پیزشکیان اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا، جس کی تفصیلات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے جاری کیں۔

    پیزشکیان کے مطابق ان شرائط میں ’لازمی ضمانتیں‘ شامل ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو روکا جا سکے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم نے کبھی بھی کشیدگی یا جنگ کی خواہش نہیں کی‘، اور مزید کہا کہ ’صورتحال کو معمول پر لانے کا حل ان کے جارحانہ حملوں کا خاتمہ ہے۔‘

  13. شامی صدر: نشانہ بننے تک جنگ میں شامل نہیں ہوں گے, پال ایڈمز، سفارتی نامہ نگار

    شام کے صدر احمد الشراع نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں شام غیر جانبدار رہنے کے لیے پرعزم ہے، جب تک کہ اسے خود نشانہ نہ بنایا جائے۔

    لندن کے چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک میں خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ شام میں ایران کی مداخلت نے سابقہ اسد حکومت کو شامیوں کو بے گھر کرنے میں مدد دی۔

    انھوں نے کہا، ہمیں تہران میں ایران سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن دمشق میں ایران سے مسئلہ ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی موجود نہیں ہیں۔

    الشراع نے کہا کہ شام ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بجائے ایک مذاکراتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور خود کو اس تنازع میں گھسیٹے جانے سے بچائے گا۔

    انھوں نے تسلیم کیا کہ خطے کی صورتحال اس قدر غیر یقینی ہے کہ شام کو نشانہ بنائے جانے کا امکان موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک اور جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں‘ اور مزید بتایا کہ ان کی حکومت کی ترجیحات شام کی تعمیر نو، تبدیلی اور شامی مہاجرین کی واپسی ہیں۔

  14. امریکہ اور ایران پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، لیکن مذاکرات نہیں ہو رہے: ایرانی وزیر خارجہ, غنچہ حبیب زادہ - بی بی سی فارسی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ’مذاکرات نہیں بلکہ پیغامات کا تبادلہ ہے، جو براہِ راست یا خطے میں ایران کے دوستوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔‘

    عراقچی نے کہا کہ انھیں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی جانب سے ’پہلے کی طرح براہِ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب نہیں دیا۔ یہ بیان اس رپورٹ کے باوجود سامنے آیا ہے جس میں تسنیم نیوز ایجنسی جو ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہے، نے 26 مارچ کو ایک ’باخبر ذریعے‘ کے حوالے سے کہا تھا کہ ایران نے اس منصوبے پر اپنی شرائط کے ساتھ جواب دیا ہے۔

    عراقچی کے مطابق ’جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط واضح ہیں‘، اور ایران یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ دوبارہ حملے نہ ہوں اور اسے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ بھی ملے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران عارضی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا بلکہ ’مکمل طور پر جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، نہ صرف ایران میں بلکہ پورے خطے میں‘۔

  15. اصفہان کی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا, رچرڈ اروائن براؤن اور جوشوا چیتھم

    بی بی سی ویریفائی وسطی ایران کے شہر اصفہان میں ہونے والے متعدد دھماکوں کی ویڈیوز کا تجزیہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ایک ویڈیو، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی شیئر کیا، میں ایک بڑے دھماکے کے بعد آگ اور دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے، جس کے بعد مزید کئی ثانوی دھماکے ہوتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایک اسلحہ گودام کو امریکی بمبار طیاروں نے نشانہ بنایا۔

    ہم نے اس دھماکے کی جگہ کا تعین شہر کے جنوبی حصے میں دو فضائی اڈوں کے درمیان ایک محفوظ احاطے میں کیا ہے۔

    ہم نے اس اور دیگر تصدیق شدہ ویڈیوز ماہرین کے ساتھ شیئر کیں، جنھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    میکنزی انٹیلیجنس سروسز اور انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ثانوی دھماکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ گولہ بارود گرمی کے باعث خود بخود پھٹ رہا تھا۔

    کرین فیلڈ یونیورسٹی کی دھماکہ خیز کیمسٹری کی پروفیسر جیکی اخوان کے مطابق، اگرچہ ویڈیوز میں طاقتور دھماکوں کی واضح جھٹکے والی لہریں نظر نہیں آئیں، لیکن کچھ ویڈیوز میں دکھائی دینے والا بھورا دھواں نائٹرس آکسائیڈ کی موجودگی کا ثبوت ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی طاقتور دھماکہ خیز مادہ جلتا ہے۔

    دفاعی انٹیلیجنس کمپنی جینز اور رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے جسٹن برونک کے مطابق، ایسی تنصیبات جو غالباً زیرِ زمین ہوتی ہیں، کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی بھاری بنکر بسٹر بموں کی ضرورت ہوتی ہے۔

  16. اٹلی: فوجی اڈوں کے استعمال کی درخواستوں کا جائزہ کیس بہ کیس کی بنیاد پر لیا جاتا ہے, ڈیوائڈے گھگلیونے، روم

    اٹلی نے چند روز پہلے امریکہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں سسلی میں واقع سیگونیلہ ایئر بیس کو فوجی طیاروں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں میں شمولیت کے حوالے سے روم کے محتاط رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

    ان خبروں کے بعد، اطالوی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس کے فوجی اڈوں کے استعمال کی تمام درخواستوں کا جائزہ ہر کیس کی بنیاد پر، موجودہ بین الاقوامی معاہدوں اور پارلیمانی رہنمائی کی مکمل پاسداری کے ساتھ لیا جاتا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کوئی کشیدگی پیدا نہیں ہوئی، اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مکمل و مؤثر تعاون پر مبنی قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اٹلی موجودہ معاہدوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔

  17. ٹرمپ کی پوسٹس میں بڑھتی بے صبری بتا رہی ہے کہ وہ خود کو مشکل میں پھنسا دیکھ رہے ہیں, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ اتحادی ممالک، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے، ’آبنائے ہرمز جائیں اور بس تیل لے آئیں۔‘

    یہ بات ان کے کچھ انتہائی پُر جوش حامیوں کو تو پسند آ سکتی ہے لیکن ایک ایسی جنگ کے دوران جس کا اختتام نظر نہیں آ رہا، ایسی بات کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

    اگر فرض کر لیا جائے کہ صدر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مغربی اتحادی ایرانی ٹینکروں یا تیل کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کر کے ایرانی تیل کا کنٹرول حاصل کر لیں، تو وہ بنیادی طور پر اپنا پرانا مطالبہ ہی دہرا رہے ہیں: کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ممالک آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ’مشکل کام کر لیا گیا ہے‘ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت کم ممالک کو ان کی بات پر یقین ہے۔

    ابھی تک کوئی بھی ملک ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر قائم گرفت کو چیلنج کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی جہاز بھی ایسا نہ کر سکے۔

    امریکی صدر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ٹھیک جا رہے ہیں، مگر اس کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

    ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس میں بے صبری کا لہجہ بڑھ رہا ہے۔ آج ہی انھوں نے اپنی پوسٹ میں فرانس کو ’بہت غیر مدد گار‘ قرار دیا۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ کو معلوم ہو چکا ہے وہ مشکل میں پھنس چکے ہیں۔

  18. خلیجی خطے میں تقریباً ایک ہزار برطانوی فوجی تعینات کر دیے گئے

    برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی خلیجی خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ اب تک تقریباً ایک ہزار برطانوی فوجی اہلکار خطے میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ اس تعداد میں وہ فوجی بھی شامل ہیں جو قبرص میں تعینات ہیں۔

    ہیلی نے خطے میں اتحادیوں کے لیے فضائی دفاع کے اضافی نظام بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔

    برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں اپنے حملے ’بڑھا‘ رہا ہے اور انھیں توقع ہے کہ جنگ ’مزید کئی ہفتے‘ جاری رہے گی۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے خلیجی ممالک کو پیغام دیا: ’برطانیہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے، برطانیہ کے بہترین اہلکار مشرق وسطیٰ کے آسمانوں کا دفاع کر رہے ہیں۔‘

    جان ہیلی نے مزید بتایا کہ خلیجی ممالک نے ان کے دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس اہم بحری راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اتحادی مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے تعاون کی ضرورت ہو گی۔

    انھوں نے کوئی ٹائم لائن یا مزید تفصیلات دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کو کم کرنا ضروری ہے۔

  19. امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران میں ہلاک پاکستانی شہری کی میت پاکستان کے حوالے کر دی گئی, محمد کاظم، کوئٹہ

    امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری یاسر خان کی لاش بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں پاکستانی حکام کے حوالے کردی گئی۔

    یاسر خان چند روز قبل ایران کے شہر بندرعباس میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    چاغی میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے تصدیق کی کہ یاسر شاہ کی لاش تفتان میں ایرانی حکام نے پاکستانی حکام کے حوالے کی۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے قانونی کارروائی مکمل کر کے لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔

  20. آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کا سب سے ممکنہ راستہ اب بھی مذاکرات ہی ہے, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک معروف محاورے کا حوالہ دیا جائے تو ’تمام پتے‘ ایران کے ہاتھ میں ہیں۔

    باوجود اس کے کہ ایران کے پاس روایتی بحریہ اب موجود نہیں رہی اور اس کی بحریہ کے سربراہ بھی ہلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم ایک چیز ایسی ہے جو ایران سے چھینی نہیں جا سکتی؛ اس کا جغرافیہ۔

    سٹریٹیجک طور پر اس انتہائی اہم سمندری راستے کے ساتھ ایران کا صوبہ ہرمزگان واقع ہے۔ یہ صوبہ مشرق میں خلیجِ عمان سے لے کر مغرب میں عسلویہ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں اسرائیل نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا تھا۔

    خلیج کے تمام ممالک میں سب سے طویل ساحل ایران کے پاس ہے۔ اس کے ساتھ قشم، لارک، ہرمز اور ابو موسیٰ سمیت متعدد جزائر موجود ہیں۔

    ایران چاہے تو ان میں سے کسی بھی جزیرے کو ڈرون حملے کرنے، سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے یا بحری جہازوں سے ٹکرا کر پھٹ جانے والی کشتیوں کے حملے کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    ماضی میں ہرمزگان اور اس سے ملحقہ جزائر کے اپنے دوروں کے دوران میں نے دیکھا کہ اس سر زمین کی ساخت دفاع کے لیے کس قدر موزوں ہے۔ یہ چٹانی، پہاڑی علاقہ ہے جس میں بے شمار غار، سرنگیں اور قدرتی پناہ گاہیں موجود ہیں۔

    امریکہ ہر ایک میزائل اور ڈرون لانچ سائٹ کو تباہ کر دے، یہاں تک کہ اپنے فوجی بھی اس سر زمین پر اتار کر ’یہ بات یقینی بنا لے کہ کام مکمل ہو گیا ہے،‘ اس کے باوجود ایران اپنے ہتھیاروں کا ذخیرہ دوبارہ بنا لے گا، غالباً چین اور روس کی مدد سے۔

    اسی لیے، آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کا سب سے ممکنہ راستہ مذاکرات ہی ہے۔