انڈیا میں ’براہمنوں کا شہر‘ جو اپنی نیلی شناخت کھو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کا ایک شہر برسوں تک اپنے منفرد رنگ کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ حاصل کر رہا تھا لیکن اب اس کا رنگ بھی ماند پڑنے لگا ہے۔
برہمہ پوری شہر جودھپور کے ایک پہاڑ کی چوٹی پر تعمیر قلعے مہران گڑھ کے دامن میں آباد ہے۔
سنہ 1459 میں یہ شہر راجپوت بادشاہ راؤ جودھا نے قلعے کے اردگرد تعمیر کرایا تھا۔ اسے انڈیا کا پرانا اور اصلی جودھ شہر مانا جاتا ہے جہاں نیلے رنگ کے گھر ہیں۔
جندال سکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر کے اسسٹنٹ پروفیسر ایستھر کرسٹین شمٹ کا کہنا ہے کہ برہمہ پوری شہر کا منفرد نیلا رنگ سترھویں صدی سے پہلے نہیں تھا۔
لیکن جب سے جودھپور کے گھروں کو نیلے رنگ سے سجایا گیا ہے، تب سے وہ اس کی شناخت ہے۔
ریاست راجستھان میں واقع جودھپور کو بلیو سٹی بھی کہا جاتا ہے اور برہمہ پوری اس کا دل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جودھ پور کا موازنہ مراکش کے نیلے شہر شفشاون سے کیا جاتا ہے، جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔
برہمہ پوری، جسے سنسکرت میں ’براہمنوں کا شہر‘ کہا جاتا ہے، اونچی ذات کے خاندانوں کی ایک کالونی کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا جنھوں نے ہندو ذات پات کے نظام میں نیلے رنگ کو پرہیزگاری کی علامت کے طور پر اپنایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برہمہ پوری کا نیلا شہر اسی طرح منفرد ہے جیسے مراکش کے شہر مدینہ میں قائم بستی جہاں 15ویں صدی میں سپین کے مسیحی حکمرانوں کے مظالم سے بھاگ کر یہودیوں نے ایک بستی بسائی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ شفشاون میں یہودیوں نے اپنے گھروں، عبادت گاہوں اور یہاں تک کہ سرکاری دفاتر کو بھی نیلے رنگ میں رنگ دیا ہے، جسے یہودیت میں مقدس آسمان کی علامت اور خدائی رنگ سمجھا جاتا ہے۔
برہمہ پوری میں گھروں کو نیلا کرنا کئی طرح سے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ برہمہ پوری کے گھروں میں استعمال ہونے والے چونے کے پلاسٹر کے ساتھ ملا ہوا نیلے رنگ کا پینٹ گھروں کے اندرونی حصوں کو ٹھنڈا کر دیتا ہے، اس کے علاوہ وہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
لیکن شفشاون کے برعکس، جودھپور میں نیلا رنگ ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
تاریخی طور پر برہمہ پوری کے باشندوں کے لیے نیلا رنگ ایک قابل عمل آپشن تھا کیونکہ اس علاقے میں قدرتی نیل آسانی سے دستیاب تھا۔ مشرقی راجستھان کا بیانا قصبہ اس وقت ملک میں نیل پیدا کرنے والے بڑے مراکز میں سے ایک تھا۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ نیل کی فصل اُگانے سے مٹی کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔

،تصویر کا ذریعہTarun Sharma
جودھ پور میں اب دوسرے رنگ نیلے رنگ کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس کی وجوہات میں ایک درجہ حرارت کا بڑھنا ہے۔ اب نیلا رنگ گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
آمدن میں اضافے کی وجہ سے لوگ شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ایئر کنڈیشنر جیسی جدید سہولیات کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گاندھی نگر میں سول انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ادت بھاٹیا کہتے ہیں کہ ’گذشتہ برسوں میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔‘
آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے ایک تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ جودھپور کا اوسط درجہ حرارت 1950 کی دہائی میں 37.5 سینٹی گریڈ سے بڑھ کر 2016 تک 38.5 سینٹی گریڈ ہوگیا۔
مسٹر بھاٹیا کا کہنا ہے کہ گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے علاوہ اس پینٹ میں کیڑے مکوڑوں کو دور رکھنے کی خصوصیات بھی موجود ہیں کیونکہ اس پینٹ کو بنانے کے لیے نیل میں کاپر سلفیٹ کو ملایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTarun Sharma
بھاٹیا شہروں میں اضافے کو بُری چیز نہیں سمجھتے لیکن وہ بتاتے ہیں کہ اس سے وہ روایات ترک ہو جاتی ہیں جو نظام اور ماحولیات کی خدمت کے لیے تیار کی گئی تھیں۔
وہ کہتے ہیں ’ماضی میں اگر کوئی جودھپور کی کسی گلی میں چلتا تھا جس کے دونوں طرف نیلے رنگ کے گھر تھے، تو آج اسی گلی مںی گزرتے ہوئے ان گھروں کوگہرے رنگوں میں رنگا دیکھ کر اسے ہلکی ہوا بھی انھیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ گرم محسوس ہو گی۔‘
اسے ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کہا جاتا ہے، جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا اثر اس وقت اور زیادہ ہو جاتا ہے جب گرمی اور سورج کی روشنی کنکریٹ، سیمنٹ اور شیشے سے ٹکرا کر ماحول میں واپس منعکس ہوتی ہے۔
گہرے رنگوں کے ساتھ اس کا اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔ جیسے جیسے شہر بڑے ہو رہے ہیں، تعمیر کے دیسی طریقوں کی جگہ سیمنٹ یا کنکریٹ کے استعمال جیسے نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں جو نیلے رنگ کو اچھی طرح جذب نہیں کرتے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
برہمہ پوری کے ایک 29 سالہ سول انجینیئر آدتیہ دوے کہتے ہیں کہ ان کا 300 سال پرانا خاندانی گھر زیادہ تر نیلے رنگ کا رہا ہے، حالانکہ کبھی کبھار وہ بیرونی دیواروں کو دوسرے رنگوں میں رنگ دیتے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیل کی قلت نے حالیہ برسوں میں اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔
گھروں کو نیلے رنگ میں رنگنے کی قیمت ایک دہائی پہلے تک تقریباً پانچ ہزار روپے تھی جو آج 30 ہزار روپے سے زیادہ ہوگئی ہے۔
دوے کہتے ہیں کہ ’آج گھروں میں کھلی نالیاں بھی ہیں جو نیلے رنگ کو آلودہ کرتی ہیں اور دیواروں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب انھوں نے پانچ سال پہلے برہمہ پوری میں اپنا گھر بنایا تھا تو انھوں نے ایک ٹائل کا انتخاب کیا تھا، جس کی بار بار تزئین و آرائش کی ضرورت نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTarun Sharma
برہمہ پوری کے کئی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر اپنی منفرد شناخت کھو رہا ہے جو دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔
دیپک سونی برہمہ پوری کے نیلے گھروں کو محفوظ رکھنے کے لیے مقامی حکام سے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شہر کے رنگوں میں تبدیلی سیاحوں کے ساتھ دھوکہ دہی ہے۔
وکہتے ہیں کہ ’ہمیں شرم آنی چاہیے کہ جب کوئی ان گھروں کی تلاش میں آتا ہے جو ہمارے شہر کی شناخت ہیں تو وہ انھیں دیکھنے کو ہی نہیں ملتے۔ بہت سے غیر ملکی جودھپور کا موازنہ شیفشاؤن سے کرتے ہیں۔ اگر شفشاون صدیوں سے اپنے گھروں کو نیلا رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟‘
سال 2018 میں دیپک سونی برہمہ پوری کے رہنے والے تھے لیکن اب جودھپور کی دیوار سے باہر رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے آبائی شہر کے انوکھے ورثے کو بچانے کے لیے مقامی حکام اور برادریوں کے ساتھ بات چیت کی تھی۔
سنہ 2019 سے انھوں نے ہر سال 500 گھروں کی بیرونی دیواروں کو نیلے رنگ میں رنگنے کے لیے برہمہ پوری کے رہائشیوں سے مقامی طور پر بھی فنڈز اکٹھے کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTARUN SHARMA
کچھ کارکنوں نے بھی برہمہ پوری کے گھروں کی بیرونی دیواروں کو نیلے رنگ میں رنگنے کے لیے فنڈز جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے برہمہ پوری کے تقریباً تین ہزار گھروں کے مالکوں کو اپنے گھروں کی بیرونی دیواروں اور چھتوں کو نیلے رنگ میں بدلنے کے لیے قائل کیا ہے تاکہ کم از کم جب کوئی برہمہ پوری میں تصویر کھینچتا ہے، تو پس منظر نیلا دکھائی دے۔
دیپک سونی کا اندازہ ہے کہ برہمہ پوری کے تقریباً 33 ہزار گھروں میں سے تقریباً آدھے اس وقت نیلے رنگ کے ہیں۔ وہ مقامی حکام اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر چونے کا پلاسٹر لگانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ گھروں کو اس رنگ میں رنگا جا سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ جس شہر کو وہ اپنا گھر کہتے ہیں، اس کے لیے وہ کم از کم اتنا تو ہی کر سکتے ہیں۔
’جودھپور سے باہر کے لوگ ہمارے شہر کی پرواہ کیوں کریں گے، اگر ہمیں اس کے ورثے کی پرواہ نہیں ہے، اور اسے بچانے کے لیے کچھ نہیں کریں گے؟‘











