نیویارک شہر کا امتیازی رنگ جو قدرتی طور پر چڑھ جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
- مصنف, مِریم بی ویئنر
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
جون کی ایک صبح ساڑھے سات بجے میں نیویارک کے تجارتی علاقے مینہیٹن کے جنوبی کونے میں واقع بیٹری پارک سے ایک فیری (کشتی) پر سوار ہوئی تو مجھے لگا کہ دن چڑھے کی حدّت میں سانس لینا دوبھر ہو جائے گا۔ انجن کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ملاحوں نے ساحل پر لنگر سے بندھی اور سمندر کے پانی سے بھیگی ہوئی بھاری رسی کو کھینچ کر اس کے لچھّے بنائے اور ایک طرف کو رکھ دی۔ فیری نے ہچکولے لینا شروع کیے اور منزل کی طرف چل پڑی۔
ساحل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مجھے نیویارک شہر سمٹتا ہوا لگا۔ زندگی سے بھر پور شہر کا نہ تھمنے والا شور، زیر زمین ٹرین کے نظام کی چنگھاڑ، اور کاروں کے غیر ہم آہنگ ہارن کی آوازیں کہیں دور گُم ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
ہم جیسے ہی ایلس آئلینڈ (جزیرۂ ایلس) کے جنوبی ساحل کی جانب موڑے تو میری نظر سٹیچو آف لبرٹی یعنی مجسمۂ آزادی پر پڑی جو بڑی شان سے اپنے سامنے پھیلے بحرِ اوقیانوس کو تک رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں موجود مشعل کا بھڑکتا شعلہ دھوپ میں جھلملا رہا تھا۔ میں زندگی میں کئی بار یہ سٹیچو دیکھ چکی ہوں، مگر آج یہ منظر کچھ اور ہی لگ رہا تھا۔
نیشنل پارک سروس کی رینجر برایانا پلاگ جو سٹیچو آف لبرٹی نیشنل مونیومنٹ پر ایک سال سے زیادہ عرصے سے تعینات ہیں کہتی ہیں ’مجھے سیاحوں کا ردعمل اچھا لگتا ہے۔۔۔ کبھی کبھار صبح کے وقت ہم بھی سیاحوں کے ساتھ کشتی پر سوار ہوتے ہیں اور جیسے ہی ان کی نظر مجسمۂ آزادی پر پڑتی ہے تو بڑی بیتابی سے وہ کشتی کی اسی جانب بڑھتے ہیں اور اس سے فیری جھک سی جاتی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ سیاحوں کے اس ردعمل میں کبھی کمی آئے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
ناقابلِ بیان رنگ
جب میں اپنی گردن تانے اس 34 میٹر اونچے (چبوترے سمیت تیرانوے میٹر) آزادی کے مجسمے کے سامنے کھڑی ہوئی تو میں اس کے رنگ کو جو اب ایک علامت بن چکا ہے، بیان کرنے کے لیے الفاظ تلاش کرتی رہی۔
تانبے کا اصل رنگ سبزی مائل ہو چکا ہے اور اس کی گہرائی کا انحصار آپ کے زاویہ نگاہ پر ہے۔ پلاگ نے مجھے مشورہ دیا ’آپ اس رنگ کو بس ’سٹیچو آف لبرٹی گرین‘ یعنی مجسمۂ آزادی کا سا سبز ہی کہیں تو بہتر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
عالم کو منور کرتی آزادی
فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرِک آگوسٹ بارتھولڈی نے جب مجسمۂ آزادی تراشا تو اس کا باضابطہ نام ’لبرٹی اینلائٹننگ دا ورلڈ‘ یعنی عالم کو منور کرتی آزادی رکھا۔
انھوں نے پیرس کے آئفل ٹاور کے لیے شہرت رکھنے والے الیکزینڈر گیستاؤ آئفل کے بنائے ہوئے ایک بڑے ڈھانچے کو تانبے کی پتلی چادریں پہنائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ اٹھارہ سو چھیاسی میں جب یہ مجسمہ نیو یارک کی بندرگاہ میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے بیڈلوئی آئلینڈ پہنچا تو اس کا رنگ و روپ بالکل الگ تھا۔ اس کا سرخی مائل نارنجی نوکیلا تاج اور لہراتی پوشاک اطراف کے نیلگوں پانی کے مقابلے میں چمک رہی تھی۔
مگر یہ نکھار زیادہ عرصہ نہیں چل سکا۔ افتتاح کے بعد چند برس کے اندر نمکین سمندری ہوا کے زیر اثر لیڈی لبرٹی نے بھی نیا روپ دھار لیا۔

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
نیویارک کی ندرت
جیسے لوہے کو زنگ لگتا ہے بالکل ویسے ہی آکسیجن کی آمیزش یا عمل تکسید کے نتیجے میں تانبے پر زنگار یا سبز تہہ جمنے لگتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ تہہ شوخی مائل سبز ہو جاتی ہے۔
پلاگ نے بتایا کہ ’رنگار کے رنگ کا انحصار کیمیائی تعملات پر ہوتا ہے، مثلاً یہ کہ اس میں امونیا، گندھک یا نمک کی مقدار کتنی ہے۔‘ ان کے بقول نیویارک کی ہوا میں فضائی آلودگی کی وجہ سے گندھک تھوڑی زیادہ ہے، اور پھر سمندر کی وجہ سے نمکیات بھی ہیں، ’البتہ امونیا کم ہے، اسی لیے مجسمہ نیلا ہونے کی بجائے سبز زیادہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
حریت کا رنگ
لیڈی لبرٹی کا مجسمہ امریکا کے اعلٰی معیارات کا علمبردار ہے۔ اس کے ہاتھ میں موجود لوح پر چار جولائی 1776 کی تاریخ کندہ ہے، وہ دن جب امریکا نے آزادی حاصل کی، اور اس کے ہاتھ میں پکڑی مشعل روشن خیالی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس کے پاؤں میں پڑی ٹوٹی ہوئی زنجیریں جبر و استبداد سے نجات کی علامت ہیں (بہت سے افراد اس کا تعلق 1865 میں امریکا میں غلامی کے خاتمے سے بھی جوڑتے ہیں) اور ان لاکھوں تارکین وطن کے لیے جو ایلس آئلینڈ جاتے ہوئے اس کے پاس سے گزرے، یہ مجسمہ امید اور امکان سے لبریز ایک نئی زندگی کی شروعات تھا۔
مجسمے میں موجود تانبے کو دولت سے جوڑا جاتا ہے۔ نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر پاسکل والِش کہتے ہیں ’جب سٹیچو آف لبرٹی فرانس سے یہاں آیا تھا تو اس کا تانبا بالکل نئے سکے کی طرح چمک رہا تھا۔ وہ اسے جمہوریت کے لیے ایک روشن مشعل کے طور پر دکھانا چاہتے تھے۔ مگر ہمارے اردگرد کے عناصر اسے کھا گئے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب اس کا رنگ بدلا تو اسے آزادی سے منسوب کر دیا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
ہر سو سبز زنگار
نیویارک میں یہ رنگ ہر طرف نظر آتا ہے چاہے شہر کے تجارتی مرکز میں بنی عمارتیں ہوں یا دوسرے حصوں میں بنے رنگدار شیشوں سے مزیّن فلک بوس ٹاور۔ میرے اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکیوں پر لگی پٹیاں بھی اسی رنگ کی ہوگئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
خوبصورت اور کارآمد ملمع
یہ زنگار تابنے کو نہ صرف خوش نما رنگ بخشتا ہے بلکہ اسے مزید گلنے سے بھی بچاتا ہے۔ اپنی پائیداری کی وجہ سے تانبا صدیوں سے عمارتوں میں استعمال ہونے والی اہم دھات ہے۔ اس کے رنگ کا بدلاؤ بہت سی عمارتوں کی طرز سے میل کھا جاتا ہے۔
نیویارک شہر کے افق پر نظر آنے والی انیسویں اور بیسویں صدی کی اینٹوں اور مرصّع پتھروں سے بنی عمارتیں خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔ اوپر کی تصویر میں دکھائی گئی 72 منزلہ یہ عمارت آرٹ ڈیکو ہے جو اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت ہے۔ اس کی چھت، نالیاں اور چھجّے تابنے سے بنائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
شہر کا اٹوٹ انگ
یہ رنگ صرف تانبے پر ہی نظر نہیں آتا، بلکہ معماروں نے ایک مخصوص رنگ استعمال کر کے مصنوعی طور پر شہر کے افق پر مجسمۂ آزادی کا سا امتزاج پیدا کر دیا ہے۔
والِش کہتے ہیں کہ ’ڈیزائن ہماری نفسیات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ تانبا جب ایک عرصے تک قدرتی عناصر سے تعامل کرتا ہے تو اس کا رنگ سبزی مائل ہو جاتا ہے۔ مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر اب لوگ اس رنگ کو شعوری طور پر اپنے اردگرد اشیا رنگنے کے لیے استعمال میں لائیں۔‘
لیکن مجسمۂ آزادی کا سبز، رنگ سے کچھ بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو مجسمے کے تانبے اور نمکین ہوا کی باہم آمیزش سے وجود میں تو آیا ہے مگر یہ وہ رنگ ہے جس نے نئی دنیا میں آنے والے ہزاروں تارکین وطن کا پہلی بار خیر مقدم کیا۔ یہ نیویارک شہر کی ایک سو تیس برس کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
اس میں کچھ ایسا ہے جس کا احاطہ عام رنگ نہیں کر سکتا۔

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
رنگوں کی نفسیات
والِش کے مطابق رنگوں کی نفسیات کا تعلق ماضی کے تجربات سے ہوتا ہے۔ اور اگر لوگ مجسمۂ آزادی کے رنگ سے کوئی نسبت محسوس کرتے ہیں تو ایسا لاشعوری طور پر ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
تانبا دورِ حاضر میں
نیویارک شہر اب بھی ارتقا پذیر ہے اور حالیہ برسوں میں معماروں نے تابنے کی طرح کے تعمیراتی سامان کو جدید طریقوں سے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ آرکیٹکٹ گریگ پاسکویریلی کے بقول ’ایسا لگتا ہے جیسے روایتی تعمیراتی سامان کی افادیت کو جدید عدسے کی مدد سے پھر دریافت کر لیا گیا ہے۔‘
وہ کہتےہیں ’ہم نے ہر دھات کا جائزہ لیا، لیکن جب تانبے کی باری آئی تو ہم نے سوچا کہ یہ واقعی اپنی خوبصورتی رکھتا ہے، بالکل نئے چمکتے ہوئے سکّے کی طرح جو وقت کے ساتھ زنگار چھڑنے کی وجہ سے پہلے گہرا کتھئی ہو جائے گا اور پھر اس کا رنگ مجسمۂ آزادی جیسا ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
فطرت سے قربت
پاسکویریلی کہتے ہیں کہ تابنے جیسا ٹھوس ساز و سامان شیشے کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔ انھیں امید ہے کہ نیویارک کے شہریوں کے فطرت سے تعلق کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وہ کہتے ہیں ’اگر آپ سینٹرل پارک کے سبز رنگ کو دیکھیں تو آپ کو ایک تعلق نظر آئے گا۔ اسے رنگا نہیں گیا ہے، یہ مصنوعی رنگ کی طرح ہموار بھی نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ اس میں ایک عنصر کی سی زندگی محسوس ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
تشریح کی متقاضی ایک علامت
صبح کے نو بجے لبرٹی آئلینڈ سیاحوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے لبرٹی سٹیچو کے چبوترے کے گرد چکر لگایا تو لوگوں کو تصویریں کھینچتے دیکھا۔ پلاگ کہتی ہیں ’یہ مجسمہ فن کا ایک شہ پارہ ہے۔ ہر ایک کے نزدیک اس کی اپنی ایک تشریح ہے۔ ہر ایک اسے اپنی نسبت سے دیکھتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMiriam B Weiner
امید کا رنگ
میں شہر میں جس جگہ بھی جاؤں، مجسمۂ آزادی کا سبز رنگ یہاں کی عمارتوں کی چھتوں، چھّجوں، کھڑکیوں کی پٹیوں، چھت کی نالیوں، غرض ہر ہر انگ سے جھکتا ہے۔ اس میں مجھے رنگ سے زیادہ ایک امید نظر آتی ہے۔ وہ امید جس کے سہارے دنیا بھر سے آنے والے تارکینِ وطن نے نیویارک کو اپنا گھر بنایا۔
سٹیچو آف لبرٹی سب کے لیے آزادی اور عدل کی علامت بن چکا ہے، مگر اس کا نیلگوں سبز رنگ اب نیویارک کی علامت ہے۔
۔











