آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یہاں تو شادی کے لیے ہر کسی کو اٹھارہ، انیس سال کی لڑکی چاہیے‘
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, صحافی، کراچی
اداکارہ حنا الطاف نے پاکستانی والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بیٹیوں کو معاشی طور پر آزاد ہونا سکھائیں کیونکہ یہ بہت زیادہ ضروری ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’لڑکیوں کی شادیاں اس سوچ کے ساتھ جلدی کر دی جاتی ہیں کہ ان کی خوبصورتی ختم ہو جائے گی، ان کے بال سفید ہو جائیں گے، عمر بڑھ جائے گی تو ان سے کون شادی کرے گا؟ یہاں تو شادی کے لیے ہر کسی کو اٹھارہ سے انیس سال کی لڑکی چاہیے۔‘
حنا الطاف ان دنوں ’اگر‘ نامی ڈرامے میں کام کر رہی ہیں جس میں ان لڑکیوں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے، جن کی شادیاں دیر سے ہوتی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حنا الطاف کہتی ہیں کہ’ہمارے کلچر میں جب لڑکی بائیس، تئیس سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو ہم کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس کی عمر بڑھ رہی ہے، اس کی جلدی جلدی شادی کر دو۔‘
لیکن حنا کا ماننا ہے کہ شادی تبھی کرنی چاہیے، جب لڑکی کی چوائس ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ چیز ہمیں ہمارا مذہب بھی سکھاتا ہے اور ہمیں اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ہماری سوسائٹی کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ والدین معاشی خودمختاری کے ساتھ لڑکیوں کو کوئی نہ کوئی ہنر بھی سکھائیں جو ان کے اچھے اور بُرے وقت میں کام آئے۔‘
’کئی ایسے خاندان ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اپنی لڑکی کو گھر سے باہر نہیں بھیجنا چاہتے۔ میں (ان کے فیصلے کا) احترام کرتی ہوں لیکن ایسے کئی ہنر ہیں جو لڑکیوں کو گھر میں بیٹھ کر سکھائے جا سکتے ہیں۔ اتنے سارے سوشل پورٹل ہیں جہاں پر آج لڑکیاں میک اپ بھی بیچ رہی ہیں، بیگ بیچ رہی ہیں۔‘
حنا کہتی ہیں کہ لڑکیوں پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کہ ’شادی کرو شادی کرو۔ ہم ایسی کئی شادیاں دیکھ رہے ہیں جو کہ آگے جا کر نہیں چل پاتی ہیں اور گھر ٹوٹ جاتے ہیں اور لڑکیوں کو دلدل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ‘
حنا کہتی ہیں کہ انھوں نے ڈرامہ ’اگر‘ میں جو بات بولی ہے کہ جس کی منگنی ہو جاتی ہے، وہ کالج کی سٹار بن جاتی ہے وہ بات بالکل درست ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہے۔ میں سکول میں شاید چوتھی کلاس میں تھی اور سکول میں میٹرک کی ایک لڑکی تھی جس کی منگنی ہو گئی اور اُس نے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ ہم سب بہت پُرجوش تھے اور سکول میں اُس کا نام ہر کسی کے زبان پر تھا۔‘
’ڈرامہ ’اگر‘ میں فیملی کو دکھایا گیا ہے‘
حنا الطاف کا کہنا ہے کہ وہ جب ڈرامہ ’اگر‘ کا سکرپٹ پڑھ رہی تھیں تو ڈائیلاگ بہت زبردست تھے۔
’میں نےسوچا کے یہ کردار کیے ہوئے مجھے کافی وقت ہو چکا ہے۔ پانچ، ساڑھے پانچ سال قبل میں ایسے کردار کیا کرتی تھی لیکن کہیں نہ کہیں میں نے بہت سارے ایسے سکرپٹ کر لیے تھے جس میں پہلی قسط سے لے کر ڈیڑھ قسط تک میں لڑکی خوش ہوتی تھی اور اس کے بعد ایک ٹراما (المیہ/صدمہ) اور رونا دھونا شروع ہو جاتا تھا تو میں کافی تھک گئی تھی یہ کام کرتے ہوئے۔‘
انھوں نے بتایا کہ انھیں دو پراجیکٹس کی پیشکش ہوئی تھی جس میں سے اُنھیں ’اگر‘ کا سکرپٹ پڑھ کے کافی مزہ آیا۔
’جب میں ’اگر‘ کا پلاٹ اور سکرپٹ پڑھ رہی تھی تو مجھے اپنے رول سے عشق ہو گیا۔ مجھے اس ڈرامے کی یہ بات پسند آئی کہ اس میں پوری فیملی دکھائی گئی ہے۔ میں ہوں، میری دو بہنیں ہیں، ہمارا ایک بھائی ہے اور ہماری سب کی الگ الگ زندگیاں چل رہی ہیں۔‘
’اس ڈرامے میں ایک فیملی سسٹم اور کلچر دِکھایا گیا ہے جو اب ہمارے ڈراموں میں نہیں دکھایا جا رہا۔ میں جب ’اگر‘ کے شوٹ سے واپس آتی تھی تو سوچتی تھی ہاں یار یہ اصل فیملی ڈرامہ ہے۔ اماں بھی آ رہی ہیں، بہن بھی ہے، بھائی بھی ہے، اور یہ وہ سب تھا جس کو میںب طور ایکٹر مس کرتی تھی۔‘
حنا الطاف نے ڈرامہ سیریل اگر میں حُوریا کا کردار نبھایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر‘ ڈرامے سے تفریح مل رہی ہے تو اس سے سبق بھی ملے گا۔ کہانی ابھی تک وہاں پہنچی نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز سے سبق ملنا ضروری نہیں۔
حنا نے ڈرامے میں اپنے کردار کے حوالے سے بتایا کہ ’حُوریا کا کردار لاابالی سا ہے۔ ڈائریکٹر (الیاس کاشمیری) بار بار تاکید کرتے تھے کہ اس لڑکی کو بدتمیز نہیں دکھانا۔ جو میری ساس کا کردار ادا کر رہی ہیں، میں اُنھیں کریڈٹ دینا چاہوں گی۔ آپ کی ایکٹنگ تبھی اچھی دِکھتی ہے، جب سامنے والا اس پر ریسپانس کرتا ہے۔‘
’مجھے یاد ہے کہ ایک سین، جس میں حوریا کہتی ہے کہ دیکھیں اماں آپ کی تو اب عمر بھی ہو گئی ہے۔ جس پر انھوں نے اپنے بالوں پر اس طرح ہاتھ لگایا کہ اوہ میرے سفید بال آ گئے ہیں۔ تو میری لائن میں وہ اثر نہیں تھا جتنا انھوں نے اپنے ایک انداز سے اس میں وزن ڈالا۔‘
’تعاقب کا ذمہ دار لڑکی کو ہی قرار دیا جاتا ہے‘
’اگر‘ میں حنا الطاف کے ساتھ اسامہ خان نے کام کیا ہے، جنھوں نے فرخ کا کردار نبھایا ہے۔
ڈرامے میں فرخ حُوریا کو پسند کرتا ہے، اُس کی گلی کے چکر لگاتا ہے، راستے میں روک کر بات کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر شادی کے بعد دونوں خوش و خرم رہتے دِکھائی دیتے ہیں۔
عام زندگی میں یہ حرکات نازیبا قرار دی جاتی ہیں۔ میں نے حنا الطاف سے جاننا چاہا کہ کہیں وہ اپنے کردار کے ذریعے تعاقب کرنا یا سٹاکنگ کو نارملائز تو نہیں کر رہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اِس کے خلاف ہیں۔
’ڈرامے میں فرخ گلی کے کونے پر کھڑا دکھایا گیا ہے لیکن لڑکی نے ریسپانس نہیں دیا۔ فرخ اچھا انسان ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ صحیح طریقہ نہیں۔ وہ دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ سبزی کی دکان پر والدہ سے دوستی کرتا ہے اور پھر لڑکی کا ہاتھ مانگنے آتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ڈرامے اصل زندگی سے لیے جاتے ہیں۔ بطور انسان میں پیچھا کرنے اور تانک جھانک کے خلاف ہوں۔ گلی میں کھڑی ہوئی لڑکی کو دیکھنا غلط ہے۔‘
’اس سب میں لڑکے کا کچھ نہیں جاتا البتہ جب یہ باتیں گھروں تک جاتی ہیں تو لڑکیوں کو پڑھائی سے روک دیا جاتا ہے، لڑکیوں کا گھروں سے باہر نکلنا روک دیا جاتا ہے، ان کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے، ان کی زندگی میں سٹاپ لگ جاتا ہے، لڑکی کو قصور قرار دے کر کہا جاتا ہے کہ تم نے کیوں دیکھا ضرور تم نے ہی کچھ کیا ہو گا۔‘
’جہاں تعریفیں بٹورو تو وہاں تنقید کو بھی تو سہنا پڑے گا‘
حنا کے بقول انھیں ڈرامہ سیریل ’اگر‘ پر انتہائی شاندار ریسپانس مل رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ بے حد خوش ہیں۔
’مجھے فیملی سے فون آئے۔ فیملی سے ریسپانس ملنا یعنی آپ جیت گئے کیونکہ گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے۔میرے شوہر، بڑے بھائی، خالہ سب نے کہا کہ بڑا مزہ آ رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حوریا اور اس کی ساس کی اکیویشن بہت اچھی لگ رہی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ملنے والے فیڈ بیک پر ان کا کہنا تھا کہ’ کہیں نہ کہیں ایسے لوگ ہیں، جو کہتے ہیں کہ یہ گھر کے کام کیوں نہیں کر سکتی، گھر کے کام کرنے میں کیا شرم کی بات ہے۔ لوگ اس کو تنقیدی نکتہ نگاہ سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ لوگ حوریا کی زندگی میں شامل ہو رہے ہیں۔ جہاں وہ اچھا کرتی ہے انھیں مزہ آ رہا ہے، اگر وہ نہیں کر رہی تو کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں کر رہی۔‘
انسٹاگرام پر حنا الطاف کے ساٹھ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں اور وہ اپنے یوٹیوب چینل پر بھی اپنی زندگی سے متعلق کافی چیزیں پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔
لیکن کیا سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ سے اُن پر یا اُن کی زندگی پر کوئی اثر پڑتا ہے، اس سوال کے جواب میں حنا نے کہا کہ ’آپ کے دروازے پر آ کر کوئی دو گالیاں دے کر چلا جائے تو کیسے آپ کو برا نہیں لگے گا۔ اس طرح سوشل میڈیا پر آپ کوئی کمنٹ پڑھ رہے ہیں تو کیسے محسوس نہیں ہو گا۔ ہاں اگر آپ کو تعریف مل رہی ہے اور اگر آپ کوئی غلط بیان دیں گے تو اس کی بھی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ذہنی طور پر مضبوط رہیں لیکن یہ راتوں رات نہیں ہوتا۔ جہاں تعریفیں بٹورو گے وہاں یہ بھی تو سہنا پڑے گا۔‘
’دو مرتبہ آڈیشن دیکھا ہی نہیں گیا‘
حنا الطاف کو ڈرامہ انڈسٹری میں تقریباً دس سال ہونے کو ہیں۔ انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز مقبول ڈرامہ سیریل اُڈاری‘ سے کیا تھا لیکن اُس سے پہلے صرف سترہ سال کی عمر میں وہ ایک میوزک چینل میں وی جے کے لیے دو بارآڈیشن دے چکی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’تیسری مرتبہ میں نے ہیڈ کو کہا کہ آپ کیوں نہیں دیکھ رہے؟ مجھ میں قابلیت ہے۔ انھوں نے کہا کہ تم تو ابھی چھوٹی ہو نوکری تو فل ٹائم جاب ہے، ڈسٹرب ہو جاؤ گی لیکن میں بضد تھی۔‘
حنا نے فخریہ انداز سے بتایا کہ ’ایک روز اچانک فرحان گوہر(پروگرام ہیڈ) کا میسیج آیا تم کل صبح آٹھ بجے لائیو جا سکتی ہو۔ میں نے کہا صبح آٹھ بجے؟ انھوں نے کہا ہاں! میں اس روز لائیو گئی حالانکہ مجھے ریکارڈ والے شوز کا بھی تجربہ نہیں تھا۔ وہ کامیابی سے لائیو گیا، اس کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کے بعد ڈرامہ کی آفر آنے لگی۔‘
’کچھ باتیں گھر تک محدود ہونی چاہییں‘
حنا الطاف نے دوسال پہلے کورونا کی وبا کے دوران اداکار آغا علی سے شادی کر لی تھی۔ ایک انٹرویو میں آغا علی نے کہا کہ اُنھوں نے حنا سے ایک ہی درخواست کی تھی کہ وہ کبھی موٹی نہ ہوں۔
سوشل میڈیا پر اُن کے اس بیان پر کافی تنقید ہوئی۔ اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے حنا نے کہا کہ ’لوگوں نے میری ڈرائنگ روم کی بات کو کچھ زیادہ سیریس لیا اور اس کو اپنی نظریے میں لے گئے۔ میں نے سوچا کہ ہر بات باہر نہیں ہونی چاہییں، کچھ باتیں گھر تک محدود ہونی چاہییں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وزن کم کرنے کے حوالے سے میری اور آغا کی بڑی جدوجہد رہی ہے۔ ہم ایک دوسرے کی ہمت افزائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ میرے گھر میں جم ہے اور ہم اس معاملے میں بڑے سخت گیر ہیں کہ وزن نہیں بڑھانا۔‘
’یہ بات وہ مجھے بھی کہتا ہے کہ فٹ رہو کیونکہ میرے والد شوگر کے مریض ہیں۔ میں نے اپنے والد کی جدوجہد دیکھی کہ وزن کے ساتھ زندگی کافی مشکل میں آجاتی ہے۔ اس کے بعد دس بیماریاں آپ کو گھیر لیتی ہیں، اسی لیے وزن کو کم کرنا ضروری ہے۔‘
حنا کے حاملہ ہونے کی جھوٹی خبریں
حنا اور آغا کی شادی کو صرف دو سال گزرے ہیں۔ شوبز کی دیگر جوڑیوں کے مقابلے میں یہ دونوں ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک ساتھ کم کم ہی تصاویر لگاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر میڈیا میں اُن کی علیحدگی کی خبریں گردش کرنے لگتی ہیں۔
حنا کہتی ہیں کہ ’کسی کی تصاویر اور ویڈیوز کی تعداد سے آپ ان کی زندگی کی پیمائش نہیں کر سکتے۔ تصاویر سے آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کسی کی زندگی کس طرح چل رہی ہے؟ کس کا رشتہ کیسے چل رہا ہے؟‘
اِن دونوں کی شادی کے بعد حنا کے حاملہ ہونے کی خبریں بھی یوٹیوب پر بھری پڑی ہیں۔ حنا خود سے متعلق جھوٹی خبروں پر کافی دلبرداشتہ نظر آئیں۔
اسی ضمن میں انھوں نے ایک واقعہ بتایا کہ ’میں ایک مارننگ شو میں گئی تو وہاں پوچھا گیا کہ بچوں کے بارے میں آپ نے کیا سوچا ہے؟‘
’میں نے کہا کہ جب اللہ نے چاہا تو ہم وہ خوشی دیکھیں گے۔ میری ایک رشتے دار نے ایک ویڈیو بھیجی جس میں میری مارننگ شو کی تصاویر تھیں، جس پر وائس اوور کیا گیا تھا کہ میں جلد ایک خوشخبری دوں گی اور پہلے میرے دو مس کیریج ہو چکے ہیں۔ اس سے میرا دل بہت دُکھا۔ یہ بات تو میں نے دور دور تک نہیں بولی تھی۔‘