آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حرا خان، ’وہ پاگل سی لڑکی‘: ’اپنے ڈراموں میں اُن لڑکیوں کی بات کرنا چاہتی ہوں، جن کو لوگوں کے منھ بند کروانے آتے ہیں‘
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستانی اداکارہ حرا خان اُن چند خوش نصیب فنکاروں میں سے ایک ہیں جنھیں اپنے کریئر کے آغاز پر اور کم عمری میں ہی اپنے کام کی بدولت بے حد شہرت ملی۔
لندن سکول آف اکنامکس سے ڈیجیٹل انوویشن اینڈ مینیجمنٹ میں گریجوئیشن کرنے والی حرا انٹرن شپ کی تلاش میں تھیں جب سنہ 2018 میں وہ اچانک ’مِس ویٹ‘ کے مقابلے تک پہنچیں اور ٹائٹل اپنے نام کیا۔
حرا کے بقول ’مِس ویٹ‘ کے بعد تو اُن کی زندگی یکسر بدل گئی۔
’مجھے ڈراموں کے لیے کالز آ رہی تھیں۔ اسی دوران ہم ٹی وی کے ایک کاسٹنگ ڈائریکٹر سے تعارف ہوا۔ تین سال بعد اُن کی طرف سے ایک پراجیکٹ ’پھانس‘ کے لیے کال آئی۔‘
رومی کا کردار
حرا نے اپنے پہلے پراجیکٹ ’پھانس‘ کے بعد اے آر وائی کے میگا پراجیکٹ ’میرے ہم سفر‘ میں رومی کا کردار کیا جو بظاہر ایک بگڑی ہوئی تیز طرار لڑکی کا کردار تھا لیکن حرا نے اِس کردار کی حرکات اور ڈائیلاگز انتہائی اعتماد اور خوبصورتی کے ساتھ نبھائے اور اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’میں بہت ڈری ہوئی تھی کہ ’پھانس‘ میں بھی اِسی طرح کا کردار تھا کہ چھوٹی بہن تھی جو شیطان سیرت سی تھی اور پہلے پہل رومی کا کردار بھی ایسے ہی لگ رہا تھا کہ اپنی ماں کے بعد وہی ویمپ ہے جو ہالا کو چلا رہی ہے اور تنگ کر رہی ہے۔‘
اِن خدشات کے باوجود اُنھیں رومی کا کردار بے حد پسند آیا اور انھوں نے سوچا کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرا مرکزی کردار نہیں، بس مزہ آئے گا، یہ کام کرنے میں۔‘
انھوں نے بتایاکہ رومی کے کردار کے لیے وہ انڈین فلم ’جب وی میٹ‘ میں کرینہ کپور کے ’گیت‘ کے کردار سے متاثر تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مجھے لگتا تھا کہ رومی کی حرکتیں کچھ کچھ گیت سے ملتی ہیں۔ شروع میں مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ رومی ایک کیریکٹر ہے۔ اُس کے چلنے کا ایک طریقہ ہے۔ وہ بار بار آ کے کھاتی ہے تو جب میں اُس کیریکٹر میں آ گئی تو یہ سب چیزیں خودبخود ہونے لگ گئیں۔‘
رومی کے کردار کی مقبولیت کی وجہ سے اب حرا کو ڈراموں میں مرکزی کرداروں کی پیشکش ہو رہی ہے۔ مرکزی کردار میں اُن کا ایک ڈرامہ ’وہ پاگل سی‘ نشر بھی ہو چکا ہے۔
’لوگ مجھے رُومی کے طور پر جانتے ہیں‘
حرا کے کردار ’رومی‘ کو شائقین میں بے پناہ مقبولیت ملی اور اُن کے بقول ڈرامہ ختم ہو جانے کے بعد بھی اُس کا فیڈ بیک آ رہا ہے۔ انھوں نے اپنے شائقین کے کچھ قصے بتائے۔
’مجھے یاد ہے کہ ایک سین میں، میں سڑک پہ چل رہی ہوتی ہوں اور وقاص کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ اُس دن اتنے سارے لوگ آ کر کہنے لگے آپ رومی ہیں؟ آپ رومی ہیں؟ ایسا ہی مالز میں ہوتا ہے اور میری بلڈنگ میں، میں لفٹ سے اوپر جا رہی ہوتی ہوں تو ساری آنٹیز کہتی ہیں کہ ہم تمھارا ڈرامہ دیکھتے ہیں رات کو اور ہمیں پتا چلا کہ تم یہاں رہتی ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرے ہم سفر‘ میرے لیے تو زندگی بدل دینے والا تجربہ ہے۔ لوگ مجھے رومی کے طور پر جانتے ہیں۔ اکثر کو تو میرا نام بھی نہیں پتا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اوہ رومی آ گئی۔
انھوں نے بتایاکہ وہ چھوٹے بچوں میں بھی مقبول ہیں۔
’میں ایک دوسرے ڈرامہ کا آؤٹ ڈور شوٹ کر رہی تھی کہ بارش میں ایک بائیک پر چار بچے اور میاں بیوی رُک گئے کیونکہ اُن کے بچوں کو میرے ساتھ تصویر لینی تھی۔‘
’آپ کی بیٹی ہیروئن بنے گی‘
ڈرامہ ’میرے ہم سفر‘ کی کاسٹ میں ثمینہ احمد، صبا حمید اور وسیم عباس جیسے سینیئر اداکار شامل تھے، جنھوں نے اس ڈرامے میں رومی کی دادی، والدہ اور والد کا کردار ادا کیا۔
رومی کا کردار نبھانے والی حرا خان نے اِن لوگوں کے ساتھ کام کے تجربے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نئِے فنکار کا خواب ہوتا ہے کہ آپ زندگی میں ایک دفعہ ایسے لوگوں کے ساتھ کام کریں۔ خدا کا شکر ہے کہ میں خوش قسمت رہی کہ میرا دوسرا پراجیکٹ ہی اِن لوگوں کے ساتھ تھا۔‘
انھوں نے بتایاکہ اُن کی والدہ اداکار وسیم عباس کی فین ہیں۔ ’وہ کہا کرتی تھیں کہ اگر وسیم صاحب کوئی ڈرامہ کر رہے ہیں تو وہ یقیناً اچھا ڈرامہ ہو گا۔‘
حرا نے بتایا کہ ’ہم سیٹ پر بیٹھے ہوئِے تھے کہ وسیم سر نے کہا کہ اپنی اماں کے لیے ایک ویڈیو بناؤ۔ اُس ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ آپ کی بیٹی ہیروئن بنے گی اور بہت آگے جائے گی۔ آپ میری بات لکھ کے رکھ لیں۔بہت محنتی بچی ہے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’جب مجھے میرا لیڈ میں پہلا ڈرامہ ملا اور اُس کے بعد میں سیٹ پر آئی تو میں نے وسیم سر کو گلے لگایا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم بہت آگے جاؤ گی۔ دیکھو یہ پراجیکٹ ختم بھی نہیں ہوا اور تمھیں ایک اور پراجیکٹ مل گیا۔‘
وہ اپنی پوری زندگی انڈسٹری کو دینے والے سینیئر فنکاروں کے نظم و ضبط سے بے حد متاثر ہیں اور کہتی ہیں کہ اُنھیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
’صبا جی اپنا کام اچھی طرح کریں گی اور اِس بات کو یقینی بنائیں گی کہ وہ اپنا سو فیصد دے رہی ہیں لیکن اگر آپ سُست ہیں اور اُن کے سکرین کا کام خراب ہو رہا ہے، اُن کے سیٹ کا کام خراب ہو رہا ہے، پھر وہ آپ کو نہیں چھوڑیں گی۔‘
’ہانیہ نے کہا ابھی تھکنے کا وقت نہیں‘
’میرے ہم سفر‘ میں ثمین کا کردار نبھانے والی اداکارہ زویا انور کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’زویا وہ انسان ہیں، جسے میں رات کو تین بجے بھی کال کروں گی کہ مجھے بے چینی یا گھبراہٹ ہو رہی ہے تو وہ میری کال لے گی اور میری بات سُنے گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
اداکارہ ہانیہ عامر کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’میں کئی بار کہہ چکی ہوں اور جتنا کہوں گی کم ہے کہ وہ آج جس مقام پر ہیں، وہ اِس سے بھی زیادہ کی مُستحق ہیں کیونکہ وہ انسان اتنی اچھی ہے کہ باقی ساری چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔‘
انھوں نے ایک واقعہ بتایا کہ ایک روز وہ ڈرامہ سیریل ’وہ پاگل سی‘ کے شوٹ سے ’میرے ہم سفر‘ کے شوٹ پر آئیں اور کافی تھکی ہوئی تھیں کیونکہ دو ڈراموں کے ساتھ کمرشلز بھی چل رہے تھے۔
حرا نے بتایا کہ اتنے مصروف شیڈول کی وجہ سے وہ نہ صحیح سے سو پا رہی تھیں اور نہ کھا پا رہی تھیں۔ ہانیہ نے اُن کی تھکاوٹ کو بھانپ لیا اور اُنھیں اپنے ساتھ گھر لے گئیں۔
’ہانیہ نے مجھے کہا کہ تم نے ابھی کام شروع کیا ہے اور ابھی تھکنے کا وقت نہیں۔ تم نے کام کرنا ہے اور بہت اوپر جانا ہے۔‘
حرا نے بتایا کہ ہانیہ عامر نے انھیں اپنے گھر پر کھانا کھلایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہوں اور پھر گھر بھی ڈراپ کیا۔
حرا خان نے بتایا کہ اس شہر میں کسی نے ان کے لیے ایسا نہیں کیا جو ہانیہ نے کیا۔
’ببر شیرنی‘ اور پُراعتماد لڑکیوں کے مثبت کردار
حرا اپنے ہر انٹرویو میں اپنی والدہ کا ذکر انتہائی فخر سے کرتی ہیں جنھوں نے اُن کے والد سے علیحدگی کے بعد تن تنہا اپنے گھر اور بچوں کو سنبھالا اور سب کو بیرون ملک تعلیم دلوائی۔
حرا کا ماننا ہے کہ ان کی والدہ کی طرح ہر عورت کو مالی اور ذہنی طور پر بااختیار ہونا چاہیے۔
حرا کے بقول وہ اپنی والدہ کو ’ببر شیرنی‘ کہتی ہیں۔
حرا نے ایک انٹرویو میں اظہار کیا تھا کہ وہ مضبوط لڑکیوں کے کرداروں میں دلچپسی رکھتی ہیں جس کی ایک جھلک ہمیں ان کے حالیہ ڈرامے ’وہ پاگل سی‘ میں بھی نظر آئی لیکن کیا وہ اپنے کریئر میں دیگر کرداروں کو بھی چانس دیں گی۔
اس سوال پر حرا خان نے کہا کہ ’میں ایک اداکارہ ہوں اور میں اپنی زندگی میں ہر طرح کے کردار کروں گی۔ ایک روتی ہوئی لڑکی جو اپنے گھر تک محدود ہے اُس کی نمائندگی پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔‘
’میں اُن لڑکیوں کی بات کرنا چاہتی ہوں جو کسی کی غلط بات برادشت نہیں کرتی ہیں، جو ذہنی طور پر مضبوط ہوتی ہیں، جن کو لوگوں کے منہ بند کرانے آتے ہیں اور وہ بُری لڑکیاں نہیں ہوتی ہیں۔‘
معاشرے اور سکرین میں ایسی بااختیار لڑکیوں کو منفی انداز سے دیکھے اور دِکھائے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمارے معاشرے میں ایک لڑکی جو صاف گو ہے، پُر اعتماد ہے، اُس کو پتا ہے کہ اُس کو زندگی میں کیا چاہیے وہ اکثر و بیشتر ایک منفی کردار بن جاتی ہے تو اِس پر بھی روشنی ڈالنا چاہیے کہ اگر ایک لڑکی کی تربیت ایسی ہوئی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ اپنی زندگی سے کیا چاہتی ہے اور اِس پر کھل کر بات کرتی ہے تو وہ ایک منفی کردار نہیں بلکہ وہ ایک مثبت لڑکی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر منفی تبصرے
حرا نے بتایا کہ ’مِس ویٹ‘ کا مقابلہ جیتنے کے بعد جب وہ سپاٹ لائٹ میں آئیں تو اِس سے اُن کی ذاتی زندگی کافی متاثر ہونا شروع ہو گئی اور آس پاس کے لوگوں میں تبدیلی سمیت سوشل میڈیا پر منفی تبصرے شروع ہو گئے۔
’آس پاس کے لوگ یہ سوچ کے بدل رہے تھے کہ شاید میں بدل رہی ہوں لیکن میں تو ویسی ہی تھی۔‘
’انسٹاگرام پر میری ذاتی چیزوں پر تبصرے ہو رہے تھے کہ میرے والد کیوں نہیں آتے میرے انٹرویوز میں۔ میں اُن کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتی، اُن کے ساتھ رہتی کیوں نہیں۔ میرے والدین کی علیحدگی پر لوگوں نے بہت بولنا شروع کر دیا۔ اِن تمام چیزوں نے ذاتی سطح پر مجھے بہت متاثر کرنا شروع کر دیا اور یہ صحیح نہیں۔‘