’پتلی ٹانگیں اور ابھری ہڈیاں‘: ماڈلز کے انتہائی دُبلا نظر آنے پر فیشن برانڈ زارا کے دو اشتہارات پر پابندی

،تصویر کا ذریعہZARA
ماڈلز کے غیر صحت مند حد تک دبلا نظر آنے پر معروف برطانوی فیشن برانڈ زارا کے دو اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی برطانیہ میں اشتہارات کی نگرانی کرنے والے ادارے سٹینڈرڈز اتھارٹی (اے ایس اے) کی جانب سے لگائی گئی ہے۔
فیصلے میں میں کہا گیا ہے کہ فوٹو شوٹ کے دوران ایک ماڈل کے بالوں کا پیچھے کی طرف سختی سے بندھا ہوا جوڑا انھیں انتہائی نخیف ظاہر کر رہا تھا۔
اے ایس اے کی جانب سے یہ اعتراض بھی لگایا گیا ہے کہ ایک اور تصویر میں ماڈل کے پوز اور قمیض کے گہرے گلے کے ڈیزائن کی وجہ سے ان کی اُبھری ہوئی ہنسلی کی ہڈیاں نمایاں ہوئیں۔
اے ایس اے نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ اشتہارات موجودہ شکل میں دوبارہ نظر نہ آئیں۔ زارا کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے اشتہارات کو ذمے داری سے تیار کرے۔
فیصلے کے بعد زارا نے ان اشتہارات کو ہٹا دیا اور ایک بیان میں کہا کہ اشتہارات کی تیاری کے وقت دونوں ماڈلز کے پاس میڈیکل سرٹیفکیٹ موجود تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوٹو شوٹ کے وقت وہ صحت مند تھیں۔
دونوں اشتہارات فیشن برانڈ کی ریٹیلیر ایپ اور ویب سائٹ پر شائع کیے گئے تھے۔
ایک اشتہار شارٹ ڈریس کے لیے تھا جس میں اے ایس اے کے مطابق ماڈلز کی ٹانگوں کو پتلا دکھانے کے لیے شیڈوز استعمال کیے گئے۔ اے ایس اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تصاویر میں ماڈل کے بازو اور کہنیاں بھی غیر متناسب لگ رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہZara
اے ایس اے نے زارا کے دو مزید اشتہارات کی بھی تحقیقات کیں لیکن ان پر پابندی نہیں لگائی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
زارا کا کہنا ہے کہ ان اشتہارات سے متعلق اُنھیں کوئی شکایت تو موصول نہیں ہوئی تاہم ان تصاویر کو بھی ہٹا دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تصاویر میں انتہائی معمولی روشنی استعمال کی گئی جب کہ کچھ ایڈیٹنگ کے علاوہ زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس کے آغاز میں دیگر ریٹیلیرز کے اشتہارات میں بھی ماڈلز کے حد سے زیادہ دُبلے نظر آنے پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
جولائی میں ماڈل کے انتہائی دُبلا نظر آنے پر فیشن برینڈ مارک اینڈ سپینسر کے ایک اشتہار پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
اس پابندی کے وقت اے ایس اے نے کہا تھا کہ اشتہار نے ماڈل کے پوز، کپڑوں کے انتخاب اور نوکیلے جوتوں کی وجہ سے ان کی پتلی ٹانگوں کو نمایاں کیا جو اس اشتہار کو غیر ذمہ دارانہ بناتا ہے۔
رواں برس کے آغاز پر کپڑوں کے ایک اور بڑے برانڈ ’نیکسٹ‘ کے ایک اشہتار پر بھی اسی نوعیت کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ نیکسٹ نے نگراں ادارے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اشتہار میں کام کرنے والی ماڈل کا جسم صت مند اور متناسب تھا۔
نیکسٹ کے اشتہار پر پابندی کے وقت بی بی سی کے قارئین نے سوال اُٹھایا تھا کہ ایسے اشتہارات پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی جس میں ماڈلز غیر صحت مند حد تک موٹی نظر آتی ہیں۔










