آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہارمر کی سپن کے سامنے پاکستانی بلے باز بے بس، جنوبی افریقہ نے راولپنڈی ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کر دی
جنوبی افریقہ نے راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر دو میچز کی سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی ہے۔
چوتھے روز پاکستان نے میچ جیتنے کے لیے جنوبی افریقہ کو 68 رنز کا ہدف دیا، جو اس نے دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔
جمعرات کو کھیل کے چوتھے دن پاکستان کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 138 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
پاکستان کی جانب سے بابر اعظم اور محمد رضوان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 94 کے سکور سے دوسری اننگز دوبارہ شروع کی تو بابر نصف سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد ہارمر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس وقت پاکستان کا سکور 96 تھا۔
جب سکور 105 پر پہنچا تو پاکستان کو اسی سکور پر مزید تین وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ہارمر نے ہی ایک اوور میں محمد رضوان اور اس سے اگلے اوور میں نعمان علی کو آؤٹ کر کے جنوبی افریقہ کی میچ پر گرفت مضبوط کر دی۔
آؤٹ ہونے والے آٹھویں بلے باز شاہین آفریدی تھے جو رن آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کے ایک بہتر مجموعے تک پہنچنے کی آخری امید اس وقت دم توڑ گئی جب سلمان علی آغا 28 رنز بنانے کے بعد کیشو مہاراج کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ کیشو نے ہی ساجد خان کو آؤٹ کر کے پاکستانی اننگز کا خاتمہ کیا۔
جنوبی افریقی ٹیل اینڈرز کے برعکس پاکستان کا مڈل اور لوئر آرڈر وکٹ پر رکنے میں ناکام دکھائی دیا اور پاکستان کے آخری چھ بلے باز سکور میں صرف 44 رنز کا ہی اضافہ کر سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ اس میچ میں دوسرا موقع تھا کہ پاکستانی بیٹنگ بری طرح ناکام ہوئی۔ پہلی اننگز میں بھی پاکستان کا لوئر آرڈر کیشو مہاراج کی سپن بولنگ کا سامنا کرنے میں ناکام رہا تھا اور پاکستان کی آخری پانچ وکٹیں مجموعی سکور میں 17 رنز کا ہی اضافہ کر سکی تھیں۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے سائمن ہارمر نے چھ، مہاراج نے دو جبکہ ربادا نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا اور پہلی اننگز میں کپتان شان مسعود، عبداللہ شفیق اور سعود شکیل کی نصف سنچریوں کی بدولت 333 رنز بنائے تھے۔
اس کے جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پہلی اننگز میں ٹیل اینڈرز کی ذمہ دارانہ بلے بازی کی بدولت 404 رنز بنانے اور پاکستان پر71 رنز کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔
اس اننگز میں ایک موقع پر 235 کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ میزبان ٹیم پہلی اننگز میں برتری لینے میں کامیاب رہے گی لیکن موتھسامی نے پہلے کیشو مہاراج کے ساتھ 70 اور پھر کگیسو ربادا کے ساتھ دسویں وکٹ کے لیے 98 رنز کی شراکت بنا کر اپنی ٹیم کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ جہاں میچ پر اس کی گرفت مضبوط ہوتی گئی۔
موتھسامی اور ربادا نے اس دوران نصف سنچریاں مکمل کیں۔ دونوں بلے بازوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا بہترین سکور بھی بنایا۔ موتھسامی 89 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ ربادا 71 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہونے والے آخری بلے باز تھے۔
تیسرے دن پاکستان کی جانب سے سب سے عمدہ کارکردگی اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے آصف آفریدی کی رہی جنھوں نے مزید چار وکٹیں لے کر اننگز میں چھ وکٹیں لینے کا کارنامہ سرانجام دیا۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے اس میچ کے لیے ٹیم میں دو جبکہ پاکستان نے ایک تبدیلی کی گئی۔
جنوبی افریقہ نے ویان ملڈر اور سبرائن کی جگہ مارکو جینسن اور کیشو مہاراج کو ٹیم میں شامل کیا جبکہ پاکستان نے حسن علی کی جگہ بائیں ہاتھ کے سپنر آصف آفریدی کو کھلایا، جن کا یہ پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔
بابر اور رضوان سے جڑی اُمیدیں جو پوری نہ ہو سکیں
چوتھے دن کھیل شروع ہوا تو بابر اعظم اپنی نصف سنچری سے صرف ایک رن کی دُوری پر تھے اور پاکستانی فینز یہ توقع کر رہے تھے کہ بابر اعظم ایک لمبی اننگز کھیل کر پاکستان ٹیم کو اس مشکل سے نکالیں گے لیکن بابر اپنے سکور میں صرف ایک رنز کا ہی اضافہ کر پائے اور سٹارمر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
بابر اعظم کے پویلین لوٹنے کے بعد محمد رضوان اور سلمان علی آغا نے پاکستانی اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن یہ شراکت داری بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکی اور محمد رضوان بھی کی سٹارمر کی گیند پر 64 گیندوں پر 18 رنز بنا کر آٰؤٹ ہو گئے۔
بابر اعظم اورمحمد رضوان کی مایوس کن کارکردگی پر سوشل میڈیا پر اُن کے فینز بھی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ بابر اعظم سیٹ ہونے کے بعد آؤٹ ہوئے اور ایسے وقت میں وکٹ گنوا بیٹھے، جب پاکستان کو اُن کی سب سے زیادہ ضرور تھی۔
سعد بٹ نامی صارف لکھتے ہیں کہ ایک اور ٹیسٹ میچ جو پاکستان آسانی سے جیت سکتا تھا، صرف سکل کا ہونا لازمی نہیں بلکہ گیم کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔
فہد بخت لکھتے ہیں کہ اپنے ہوم گراؤنڈ میں 138 پر آل آؤٹ ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔ لمبی شراکت داری نہ ہونا، گیم کو نہ سمجھنا، یہ وہ عوامل ہیں جو پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں زوال کا باعث بن رہے ہیں۔
ورلڈ مینٹور نامی صارف لکھتے ہیں کہ 95 رنز پر پانچ وکٹیں گری تھیں، لیکن 138 پر پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔ یہ پاکستان کرکٹ ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ جب پاکستان ٹیسٹ میچز میں جیتنے والی پوزیشن میں آ کر ٹیسٹ میچ ہارتا رہا ہے۔ گذشتہ برس پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف بھی دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں دو، صفر سے شکست ہوئی تھی۔
ان دونوں میچز میں بھی پاکستان کی ٹیم نے آغاز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن اچانک جلد وکٹیں گرنے کے باعث پاکستان کی پوزیشن کمزور ہوتی رہی۔
اسی طرح رواں برس کے آغاز پر ویسٹ انڈیز نے بھی پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں شکست دی تھی۔
اس وقت اس بارے میں اپنے اعلامیے میں پی سی بی نے کہا تھا کہ آصف آفریدی پر پابندی کے فیصلے تک پہنچنے کے لیے ان کے اعتراف جرم، اظہارِ ندامت اور ماضی کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا اور آصف آفریدی کی طرف سے دی گئی اس درخواست پر بھی غور کیا جس میں انھوں نے غیرارادی طور پر قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے معاملے پر ہمدردانہ طور پر غور کرنے کی استدعا کی تھی۔
اس وقت پی سی بی کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک بین الاقوامی کرکٹر کو دو سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی خوشی نہیں لیکن ہم اس طرح کے جرائم کو بالکل برداشت نہ کرنے کی پالیسی رکھتے ہیں۔‘
آصف آفریدی نے اپنے فرسٹ کلاس کریئر میں 57 میچوں میں 198 وکٹیں حاصل کی ہوئی ہیں۔
2023 کے بعد سے ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی قابلِ ذکر رہی ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف سکواڈ میں آصف آفریدی کی شمولیت کے بعد پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے عبوری کوچ اظہر محمود نے کہا تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس ڈومیسٹک سیزن میں 53 جبکہ رواں برس 27 وکٹیں لیں اور ان کے خیال میں مقامی کرکٹ میں 80 وکٹیں لینے والے بولر کو موقع دینا بنتا ہے۔
اظہر محمود کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عمر صرف ایک ہندسہ ہے اور اہم بات ایک میچ میں 20 وکٹیں لینے کی صلاحیت ہے۔ آصف ایک باصلاحیت باؤلر ہے جس کا مستقبل روشن ہے۔ چاہے وہ ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلے ہوں لیکن انھوں نے خود کو مقامی سطح پر ثابت کیا ہے۔‘