امی بمقابلہ ممی: ’پامال‘ اور ’جمع تقسیم‘ ڈراموں میں ماؤں کے مختلف کرداروں پر بحث

screengrabs

،تصویر کا ذریعہscreengrabs

،تصویر کا کیپشن'پامال' اور 'جمع تقسیم' دونوں ہی ڈراموں کی ہیروئنوں ملکہ اور لیلیٰ نے پسند کی شادی کی ہے
    • مصنف, نازش ظفر
    • عہدہ, صحافی

پاکستان میں اس وقت دو معروف ڈراموں میں ہیرو اور ہیروئن کی اداکاری سے زیادہ ناظرین ان کی ماؤں کے کرداروں پر بات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور یہ سوچنے پر بھی مجبور ہیں کہ شادی شدہ بیٹی کی زندگی میں ماں کا کردار کیا ہونا چاہیے۔

’پامال‘ اور ’جمع تقسیم‘ دونوں ہی ڈراموں کی ہیروئنوں ملکہ اور لیلیٰ نے پسند کی شادی کی اور ان دونوں کی ہی مائیں کبھی ان کی شادی شدہ زندگی میں مداخلت کرتی ہوئی نظر آئی تو کبھی نصیحتیں کرتی ہوئی نظر آئیں۔

ایک طرف ’پامال‘ میں گھر بسانے کے لیے ہر حال میں صبر اور قربانی کی نصیحت کرنے والی ملکہ کی ’امی‘ ہیں اور دوسری طرف ’جمع تقسیم‘ میں لیلیٰ کی ’ممی‘ ہیں جو چاہتی ہیں کہ شادی شدہ زندگی جیتے ہوئے بھی بیٹی اپنی شناخت قائم رکھے اور سسرال کو خوش رکھنے کے لیے ’ڈور میٹ‘ نہ بنے۔

سوشل میڈیا پر بالخصوص لیلیٰ کی ممی زوبی کی ایک تصویر دلچسپ کیپشنز کے ساتھ شئیر کی جا رہی ہے، جس میں زوبی اپنی بیٹی کے گھر میں صوفے پر نیم دراز ہیں اور اپنی جِلد کا خصوصی خیال رکھ رہی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جسے وہ اپنی بیٹی کے سسرال میں مورچہ بنا کر بیٹھی ہوں۔

ڈرامے کے ایک سین میں وہ کہہ رہی ہیں: ’میری بیٹی کی قابلیت کو خطرہ ہے، وہ بھیگی بلی بن کر کیوں بیٹھی رہتی ہے۔ اگر ہم لوگ یہاں سے چلے گئے تو میں اپنی بیٹی کو پہچان بھی نہیں پاؤں گی۔ ہماری ایک ہی بیٹی ہے میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔‘

زوبی کے یہ الفاظ پاکستانی ڈرامے کی کسی ماں کی زبان سے شاید پہلی بار سنے گئے ہیں، ورنہ اکثر بیٹیوں کے ماں باپ اس کے سسرال میں لاچارگی کی تصویر بنے ہی نظر آتے ہیں۔

https://x.com/UzmaRS

،تصویر کا ذریعہhttps://x.com/UzmaRS

لیلیٰ ایک پڑھی لکھی اور قابل لڑکی ہے جو ہر لحاظ سے کامیاب کیرئیر اور سماجی رتبے کے ساتھ جی سکتی ہے، لیکن قیس سے شادی کے بعد اس کی تمام تر توانائی ناراض ساس، سسر کو خوش رکھنے اور خاندان کے جھگڑے نمٹانے میں ہی خرچ ہو رہی ہے، جس پر زوبی اسے ہر بار سمجھاتی ہیں۔

لیلی کی ماں انھیں جاب انٹرویوز پر جانے کے لیے آمادہ کرتی ہیں، کچن اور گھرداری سے باہر اپنی شناخت قائم رکھنے اور برابری کی بنیاد پر رشتہ قائم رکھنے کے لیے کہتی ہیں۔

ادھر ’پامال‘ کی ملکہ کی ماں گیتی کے پاس بیٹی کے لیے ڈر کر رہنے، گھر بنانے اور صبر سے کام لینے کے علاوہ کوئی اور مشورہ نہیں ہوتا۔ ملکہ جب بھی شادی شدہ زندگی یا شوہر کی زیادتی کا ذکر کرنے ماں کے پاس آئی تو ماں نے نہ صرف اسے سمجھایا بلکہ اس ہی کی غلطیاں گنوا کر واپس سسرال بھیج دیا۔

وہ داماد کے سامنے بھی اپنی بیٹی کے لیے معذرت خواہانہ رویہ اپناتی ہیں۔ احترام کے نام پر سسرال کے دوسرے افراد کے تلخ رویے بھی برداشت کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔

شروع کی اقساط میں ناظرین نے ملکہ کی ماں کو ’سمجھدار‘ کردار ہی کہا، لیکن اس کہ وجہ شاید یہ ہے کہ وہ لڑکی کی ماں کو اسی روپ میں دیکھنے کے عادی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ گھر بسانے کے لیے لڑکی کی ماں کو ہی اسے سمجھانا چاہیے۔ یہ کردار انہیں ان کے ’کمفرٹ زون‘ سے باہر نہیں کرتا، لیکن یہ تاثر تب تک قائم رہا جب تک زوبی کے کردار نے انھیں چونکا نہیں دیا۔

زوبی دھڑلے سے بیٹی کے گھر میں رہتی ہیں اور یہ کہہ کر اس کا دفاع بھی کرتی ہیں کہ اگر بیٹے کے والدین کا حق ہے تو بیٹی کے والدین بھی اس کے گھر پر ایسا ہی حق رکھتے ہیں۔

یہ مکالمہ پاکستانی ڈرامے کے لیے نیا ہے، ورنہ سکرین پر بہو کو سسرال کی ’پراپرٹی‘ کے طور پر دیکھے جانے کی عادت سی ڈال دی گئی ہے۔

Drama

،تصویر کا ذریعہX

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان دو ماؤں کے دو انتہاؤں پر ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ لیلیٰ کی ماں نے ایک خودمـختار حیثیت میں برابری کی سطح پر قائم ازدواجی زندگی گزاری ہے۔ ان کے پاس بیٹی کے سامنے رونے کے لیے اپنی کوئی ’محرومی‘ نہیں جس کے واسطے دے کر وہ بیٹی کو سسرال اور شوہر کے دل میں زبردستی جگہ بنانے کو کہیں۔

دوسری طرف ملکہ کی ماں نے ایسی بیوہ کی زندگی گزاری ہے جو اپنی ضروریات کے لیے بھائی اور بھابھی کی محتاج رہیں۔

ان کی اپنی محرومیاں ان کی اور ان کی بیٹی کے درمیان ہمیشہ حائل رہی ہیں اور ان ہی کا واسطہ دے کر وہ بیٹی کو شوہر کا گھر آباد رکھنے کے لیے ہر زیادتی برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق والدین اپنی محرومی جب اولاد پر ’منتقل‘ کرتے ہیں تو انھیں زیادتی کے سامنے چپ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں یا پھر ایک طرح سے انھیں بزدل بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر زوبی اور گیتی کی حمایت اور مخالفت دونوں پائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ بحث اب سوشل میڈیا سے نکل کر عام کاروبار زندگی کا حصہ اس طرح بن گئی ہے کہ مختلف ریستورانوں میں ٹیم زوبی اور ٹیم گیتی کے نام سے مشورے دیے جا رہے ہیں۔

دونوں ماؤں میں سے کون درست ہے، اس بحث سے قطع نظر ایک بات طے ہے کہ زوبی کی صورت میں لڑکی کی ماں کا ایسا کردار شاید پہلی بار لکھا گیا ہے جو بدتمیز یا جھگڑالو نہیں ہے لیکن بیٹی کے دفاع کے لیے اس کے سسرال میں کسی سے ڈرتی یا دبتی بھی نہیں ہے۔

ٹیم امی اور ٹیم ممی کی اس لڑائی میں میں امی اور ممی کا فرق یہی ہے کہ ایک ماں کو بیٹی کا گھر ٹوٹنے کی فکر ہے، دوسری طرف دوسری ماں کو بیٹی کی شخصیت ٹوٹنے کا ڈر ہے۔

اور یہ دوسرا پہلو بدلتی دنیا میں نظر انداز کرنا آسان نہیں ہو گا۔