کیا برطانیہ میں شراب نوشی سے ہونے والی ریکارڈ اموات کی وجہ کووڈ ہے؟

شراب نوشی

،تصویر کا ذریعہThinkstock

    • مصنف, فلِپا روکسبی
    • عہدہ, نامہ نگار، امورِصحت

گزشتہ برس برطانیہ میں شراب کی وجہ سے ہونے والی اموات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ کورونا کی وبا کے دوران شراب نوشی میں اضافہ ہے۔

برطانیہ کے دفترِ شماریات کے مطابق سنہ 2021 میں ملک میں شراب سے مرنے والے افراد کی تعداد نو ہزار 641 تھی۔ اس کے مقابلے میں سنہ 2019 میں سات ہزار 565 اموات ریکارڈ کی گئیں، یعنی شراب سے ہونے والی اموات میں 27 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

قومی دفترِ شماریات کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایسے لوگ جو پہلے ہی بہت زیادہ شراب پیتے تھے، کووڈ کے دوران انھوں نے شراب نوشی میں مزید اضافہ کر دیا۔

شراب نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پھیلانے والی خیراتی تنظیم ’ڈرنِک اوّیئر‘ نے کہا ہے کہ شراب نوشی سے ہونے والی اموات میں یہ اضافہ ’تباہ کن‘ اور ’ناقابلِ قبول‘ ہے۔

یاد رہے کہ دفترِ شماریات نے سنہ 2021 کی اموات کے جو اعداد وشمار دیے ہیں، ان میں صرف ان اموات کی بات کی گئی ہے جو براہ راست شراب کی وجہ سے ہوئیں۔ ان میں زیادہ تر وہ اموت ہیں جو زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے گردوں میں پیدا ہونے والی خرابی کے باعث ہوتی ہیں۔

یہ تعداد ان اموات کا ایک تہائی ہیں جن کا تعلق شراب سے ہوتا ہے، یعنی باقی دو تہائی اموات کے پیچھے بھی شراب نوشی کا ہاتھ ہوتا ہے تاہم انھیں شراب نوشی کا بالواسطہ سبب سمجھا جاتا ہے۔

برطانیہ کے تمام علاقوں، یعنی سکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ، انگلینڈ اور ویلز کے مجموعی اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2021 میں شراب نوشی سے ہونے والی ہر ایک لاکھ اموات میں سکاٹ لینڈ کا تناسب سب سے زیادہ جبکہ انگلینڈ کا سب سے کم رہا۔

دفترِ شماریات سے منسلک ماہر، جیمز ٹکر کے مطابق ’تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے لوگ جو کورونا کی وبا سے پہلے ہی زیادہ شراب پی رہے تھے، انھوں نے وبا کے دوران شراب کے استعمال میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔‘

وبا سے پہلے کے برسوں میں دیکھا گیا تھا کہ مردوں میں شراب نوشی سے مرنے کے امکانات خواتین سے دوگنا ہوتے ہیں۔ سنہ 2019 تک کے سات برسوں میں برطانیہ میں شراب نوشی سے ہونے والی اموات کی شرح ایک خاص سطح سے اوپر نہیں گئی تھی، تاہم سنہ 2020 اور 2021 میں اس شرح میں اضافہ ہو گیا۔

شراب نوشی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تازہ ترین اعداد وشمار پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈرِنک اّویئر کی کیرن ٹائرل کہتی ہیں کہ ’یہ اعداد وشمار نہایت پریشان کن ہیں، اس میں دیے گئے ہرعدد کے پیچھے دراصل ایک پورے خاندان کا المیہ پوشیدہ ہے۔‘

’یہ بات قبول نہیں کی جا سکتی کہ دنیا کے ایک امیر ترین ملک (برطانیہ) کے پسماندہ علاقوں میں شراب نوشی سے مرنے والے مردوں کا تناسب امیر علاقوں کے مقابلے میں چار گنا ہے۔‘

کیرن ٹائرل کا مزید کہنا تھا کہ ان خبروں کو نظر انداز کیا گیا کہ کووِڈ کے دوران زیادہ شراب پینے والوں نے اس میں مزید اضافہ کر دیا ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حکومت کی طرف سے شراب نوشی کم کرنے میں مدد نہیں فراہم کی جا رہی تھی۔

اب ان کی تنظیم نے زور دیا ہے کہ برطانیہ بھر میں ایک ایسی ہمہ جہت حکمتِ عملی کی ضرورت جس سے معاشرے اور سرکاری سہولیات پر شراب نوشی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ شراب نوشی کم کرنے کا ایک طریقہ اس پر ٹیکس میں اضافہ ہو سکتا ہے تاکہ سستی اور زیادہ نشہ آور شراب کی پیدوار کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

شراب نوشی پر تحقیق کرنے والے ادارے ’انسٹی ٹیوٹ آف الکوحل سٹڈیز‘ کی سربراہ ڈاکٹر کیتھرین سیویری کا کہنا ہے کہ ’کاروباری طبقے کی مخالفت کے باوجود، ہم اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ شراب نوشی کے حوالے سے اپنی اس حکمت عملی کو نرم کر دیں جس سے لوگوں کی زندگی بچانے میں مدد ملتی ہے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے وہ الکوحل پر ٹیکس کے موجودہ پیچیدہ اور پرانے نظام کو تبدیل کرنے کے عزم پر قائم ہے۔