'میں عورت کے جسم میں بے چین تھا'، جنس تبدیلی سے مرد بن جانے والے سکول ٹیچر کی کہانی

انڈیا

،تصویر کا ذریعہموہرسنگھ مینا

    • مصنف, موہر سنگھ مینا
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، جے پور

مجھے اپنے ساتھ اپنے جسم کے اعضا سے پریشانی ہوتی تھی۔ میں عورت کے جسم میں بے چینی محسوس کرتا تھا۔ لیکن اب، جیسا کہ مجھے جینا تھا، میں ایسا ہو گیا ہوں۔ اب میں بہت خوش ہوں۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ 28 برس کے آراو سیکس ری اسائنمنٹ سرجری کے ذریعے ایک عورت (میرا دیوی) سے مرد بن گئے ہیں۔

سنہ 1994 میں اتر پردیش کی سرحد سے متصل راجستھان کے ضلع بھرت پور کی تحصیل ڈیگ میں ایک خاندان میں پانچویں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔

پانچ بہنوں میں سب سے چھوٹی کا نام میرا دیوی تھا۔ لیکن میرا کی کہانی باقی بہنوں سے خاصی مختلف ہے۔ وہ تعلیم بھی حاصل کر رہی تھیں مگر لڑکوں کے روپ میں۔ میرا ایک لڑکے کی طرح زندگی گزارتی رہی، لڑکے کی طرح کپڑے پہنتی اور خود کو لڑکا ہی دیکھتی۔

سنہ 2018 میں 24 برس کی عمر میں میرا دیوی راجستھان کے محکمہ تعلیم میں فزیکل ٹیچر تعینات ہو گئیں۔ انھیں تحصیل دیگ میں ناگلہ موتی کے گورنمنٹ سیکنڈری سکول میں پوسٹنگ ملی۔ یہاں تک تو کہانی بالکل معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی۔

لیکن سنہ 2018 میں 4 نومبر کو میرا دیوی نے 28 برس کی عمر میں ناگلا موتی گاؤں کی لڑکی سے شادی کر لی، جس کے بعد ملک بھر میں ان کے چرچے ہو رہے ہیں۔ اس شادی سے پہلے انھوں نے اپنی جنس دوبارہ تفویض کرنے کی سرجری کروائی اور اپنا نام آراو رکھ لیا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہموہر سنگھ مینا

خاندان کو جنس تبدیل کرنے پر آمادہ کیا: ’بھائی نہ تھا تو اب جنس کی تبدیلی کے بعد بہنوں کے لیے بھائی کی کمی بھی دور ہو گئی ہے‘

اگرچہ آج بھی وہ سکول کے ریکارڈ میں خاتون فزیکل ٹیچر میرا دیوی کے نام سے ملازمت کر رہے ہیں۔ لیکن اب ان کی اصل شناخت مرد نام آراؤ کے طور پر ہے۔

آراو بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ ’مجھے پہلے ہی ایک مسئلہ تھا۔ مجھے اپنے اور اپنے جسم کے ساتھ مسائل تھے‘۔ ’سنہ 2010 میں، میں نے جنس کی تبدیلی کے بارے میں پڑھا تھا اور پھر سوچا کہ مجھے پہلے نوکری ملے گی، تب ہی میں جنس کی تبدیلی کے لیے گھر والوں کو راضی کروں گا۔‘

آراو بتاتے ہیں کہ ’سنہ 2018 میں نوکری کے بعد انٹرنیٹ پر سرچ کرکے معلومات اکٹھی کیں۔ بہت سے لوگوں سے بات کی اور پھر گھر والے بھی مان گئے۔ سنہ 2019 میں، میں نے دہلی کے ایک ہسپتال سے علاج شروع کیا۔ میرا علاج دسمبر 2021 میں مکمل ہوا‘۔

ان کے مطابق ’اب میں بہت خوش ہوں اور خاندان بھی بہت خوش ہے۔ بھائی نہ تھا تو اب جنس کی تبدیلی کے بعد بہنوں کے لیے بھائی کی کمی بھی دور ہو گئی ہے‘۔

علاج کے تقریبا تین سال

میرا سے آراؤ بننے والا مرد

،تصویر کا ذریعہموہر سنگھ مینا

آراو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنہ 2019 سے دسمبر 2021 تک، انھوں نے نیو دہلی کے ایک نجی انسٹیٹیوٹ میں جنس کی تبدیلی کرائی۔ علاج کے تمام اخراجات کو ملا کر اس پورے عمل پر تقریباً 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’جنسی تبدیلی کے عمل میں پہلی چیز ایک ماہر نفسیات کے ساتھ مشاورت ہے۔ ان کے بہت سے سوالات ہیں کہ آپ اسے کیوں کروانا چاہتے ہیں، وجہ کیا ہے، کوئی دباؤ یا کچھ اور۔ لیکن مسئلے کو بھانپتے ہوئے انھیں ماہر نفسیات کی طرف سے بالآخر سرٹیفکیٹ مل گیا۔ سارا عمل اسی بنیاد پر شروع ہوتا ہے۔‘

’پہلا ہارمون تھراپی شروع ہوتا ہے۔ ہارمون تھراپی کے بعد جسم کے اعضا کے مطابق تین مختلف سرجری کی جاتی ہیں۔ اس میں دو سرجری کے ذریعے چھاتی کو نکالا جاتا ہے، حساس حصے کی بھی دو طرح کی سرجری ہوتی ہے۔ ’ان سرجریوں کے لیے ران، پیٹ یا ہاتھ سے جلد لی جاتی ہے۔ میں نے اپنی ران کی جلد دی ہے۔ سرجری کے بعد، آپ کو چھ ماہ سے ایک سال تک آرام کرنا ہوگا‘۔

داڑھی اور مونچھیں

آراو نے علاج کے ساتھ ساتھ آنے والی جسمانی تبدیلیوں کو دیکھا اور محسوس کیا۔

ان تبدیلیوں سے اس کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لڑکی کی آواز سے لڑکے کی آواز میں تبدیلی آتی ہے اور داڑھی اور مونچھوں کے لیے ہارمون تھراپی دی جاتی ہے۔ یہ عمل بتدریج تبدیلیوں کی وجہ بن جاتا ہے‘۔

جب داڑھی اور مونچھوں کی بات آتی ہے تو انسانی حلیے میں سکون محسوس ہوتا ہے اور اعتماد بھی آتا ہے۔

چہرے، ہونٹوں اور آنکھوں کے اوپر کے حصے میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے چہرے پر ہلکی سی تبدیلیاں آتی ہیں اور پھر یہ لڑکوں جیسا لگتا ہے۔

'مجھے اپنے لیے جینا تھا'

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

طالبہ کی محبت کے لیے خاتون ٹیچر کی جنس تبدیل کرنے کی خبر پر آراو کو بہت غصہ آیا۔ انھوں نے کہا ’پہلے مجھے اپنے لیے جینا تھا۔ شادی بعد میں تھی۔ چونکہ مجھے عورت کے جسم سے جلن آتی تھی اس لیے مجھے لگا کہ میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’میرا گھر ڈیگ میں ہے اور میری اہلیہ کلپنا کا گھر ناگلا موتی کے ایک گاؤں میں ہے۔ دونوں کے گھر والوں کی پہلے سے ایک دوسرے سے شناسائی تھی۔ ان کے مطابق جس سکول میں وہ پڑھا رہے تھے، وہاں پر ہی کلپنا طالبہ تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ممکن ہے کہ کلپنا میری طرف مائل ہو۔ لیکن میں ہمیشہ استاد اور طالب علم کے رشتے میں رہا ہوں۔ ہمارے پاس استاد کا پیشہ ہے اور میں نے ہمیشہ اس رشتے کا احترام کیا ہے‘۔

میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں آراو کی اہلیہ کلپنا نے کہا ہے کہ ’میں اپنے ٹیچر سے پہلے سے ہی محبت کرتی تھیں۔ اگر انھوں نے یہ سرجری نہ بھی کروائی ہوتی تو بھی میں شادی کے لیے تیار ہو جاتی‘۔

آرو نے کہا کہ علاج کے دوران کلپنا بھی میرے ساتھ نیو دہلی گئی تھیں۔ دونوں گھر والوں نے ہماری شادی کی باتیں شروع کر دیں اور ہم نے ان کی مرضی سے شادی کر لی۔‘

ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟

جنس تبدیلی کا عمل انڈیا میں میں ایک عام رواج نہیں ہے۔ اس متعلق سماجی دباؤ اور اس کی عدم قبولیت کی وجہ سے خواہش مند لوگ شاذ و نادر ہی یہ سرجری کرواتے ہیں۔

جے پور کے سوائی مان سنگھ ہسپتال کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے چیئرمین ڈاکٹر راکیش کمار جین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چاہے پیدائش سے کوئی مرد عورت کی طرح برتاؤ کرے یا عورت مرد کی طرح برتاؤ کرے، وہ چاہتے ہیں کہ وہ اسی میں رہے۔ جنس تبدیل کی جائے‘۔

ڈاکٹر راکیش جین کہتے ہیں، ’اگر ہم عورت سے مرد بن جاتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں ایک طویل عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس عمل میں ہم خواتین کی چھاتی کو نکال دیتے ہیں۔ ان کے نپل کا سائز چھوٹا کر دیتے ہیں۔

عورتوں کے اعضا نکالے جاتے ہیں۔ جیسے بچہ دانی اور بیضہ دانی کو نکالنا۔ اس جگہ پر موجود بافتوں سے عضو تناسل کی تعمیر نو کی جاتی ہے۔ اگر یہاں ٹشوز کم ہوں تو ران اور دیگر مسلز سے ٹشو لیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہارمون تھراپی، سائیکو تھراپی کا بھی بڑا حصہ ہے۔ وہ آواز، بال سمیت مردوں کی طرح تبدیلیاں لاتے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے انسان میں بہت زیادہ اعتماد آتا ہے۔‘

ڈاکٹر راکیش جین کہتے ہیں کہ ’لوگ ضرور پوچھنے آتے ہیں۔ لیکن ہم نے ابھی تک صنفی تفویض نہیں کی ہے۔‘ ہمارے پاس ایسے لوگ ضرور آتے ہیں جن کے پاس اندام نہانی یا عضو تناسل نہیں ہوتا، پھر ہم ان کی اندام نہانی اور عضو تناسل بناتے ہیں۔

خاندان اور عملے کی مدد

انڈیا

،تصویر کا ذریعہموہر سنگھ مینا

آراو کہتے ہیں کہ ’میں پہلے بھی ایسے ہی رہتا تھا۔ سکول میں میڈم کی بجائے سر کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ سکول کا عملہ جانتا تھا کہ میں ایک آدمی ہونے میں ہی سکون محسوس کرتا ہوں۔ سکول کے عملے کے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں۔‘

ڈیگ تحصیل کے ایڈیشنل چیف بلاک ایجوکیشن آفیسر مہیش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا دیوی ناگلا موتی کے گورنمنٹ سیکنڈری سکول میں فزیکل ٹیچر کے طور پر کام کرتی ہیں، انھوں نے اپنا نام میرا دیوی سے بدل کر آراو رکھنے کے لیے محکمانہ درخواست دی ہے۔ ہم نے ان کی درخواست آگے بھیج دی ہے۔‘

آراو کے والد فوج میں رہ چکے ہیں اور اب زراعت کرتے ہیں۔ والدہ آنگن واڑی میں تھیں، لیکن اب ریٹائر ہو چکی ہیں۔ کلپنا کے والد بھی کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ کلپنا کی تین بہنیں ہیں اور آراو کی سرجری سے قبل پانچ بہنیں تھیں۔

آراو کے والد ویری سنگھ نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ’بہت چھوٹی عمر سے آراو نے کبھی بھی لڑکی کی طرح شلوار سوٹ نہیں پہنا۔ ہمیشہ لڑکوں کے ساتھ کھیل کود بھی کیا کرتا تھا۔‘

آراو کہتے ہیں کہ ’میں سکول میں بالکل مردانہ لباس پہنتا تھا اور اسی طرح رہتا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

آراو اور کلپنا دونوں کھلاڑی

کلپنا کبڈی کی کھلاڑی ہیں اور فی الحال سنہ 2023 میں دبئی میں ہونے والی پرو کبڈی کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

آراو کہتے ہیں کہ کلپنا نے ریاستی سطح پر چار بار کبڈی کے مقابلوں میں حصہ لیا ہے۔ وہ راجستھان دیہی اولمپکس میں بھرت پور کی کپتان رہ چکی ہیں۔ گذشتہ برس انھوں نے مہاراشٹرا میں قومی سطح پر کھیلا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کلپنا کا امراوتی میں 7 نومبر کو کبڈی میچ تھا۔ لیکن شادی کی وجہ سے 4 تاریخ کو یہ میچ نہیں ہو سکا۔

ان کے مطابق ’میں کرکٹ اور ہاکی کا کھلاڑی رہا ہوں۔ قومی سطح پر سات میچ کھیلے ہیں اور تمغے جیتے ہیں۔ اس وقت سکول میں وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ سکول میں بچوں کو کبڈی کے کھیل کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ آراو کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ کلپنا میری طرح جسمانی تربیت کی ٹیچر بنے۔ کلپنا کے ہر فیصلے پر خاندان کی حمایت ہمیشہ حاصل رہے گی۔

آراو کہتے ہیں کہ ’جب کوئی شخص خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر قبول نہیں کرتا ہے تو سماج کو اس کی جنس تبدیل کرنے میں تعاون کرنا چاہیے۔ اس کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔‘