ارجنٹائن اور میسی ڈھیر: سعودی عرب میں چھٹی کا تحفہ، تفریحی مقامات میں داخلے کی فیس ختم

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے خلاف ملک کی فتح کے بعد قومی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سعودی سرکاری چینل کے حوالے سے بتایا 86 سالہ شاہ سلمان نے کہا ہے کہ ’کل (یعنی آج) بدھ کو تمام نجی اور سرکاری شعبوں کے ملازمین اور تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے چھٹی ہوگی۔‘

یہ اہم فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سعودی عرب میں بعض طلبہ کے حتمی امتحانات جاری ہیں۔ اب لگتا ہے کہ ان امتحانات کو ری شیڈول کرنا پڑے گا۔

دوحہ میں لیونل میسی کے پینلٹی گول کے بعد سعودی فٹبال ٹیم نے ارجنٹائن کو ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے بڑے اپ سیٹس میں سے ایک سے دوچار کیا۔

پہلے صالح الشہری نے گول کر کے سکور برابر کیا اور پھر سالم محمد الدوسری نے دوسرے گول سے سعودی عرب کی فتح کو یقینی بنایا۔

میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد سے ہی ریاض میں جشن شروع ہوگیا۔ شہریوں نے اپنی گاڑیوں پر قومی پرچم لہراتے ہوئے ریلی نکالی اور شائقین اپنے احباب کے ساتھ جھومتے نظر آئے۔

سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان میچ کے بعد کافی پُرجوش ہیں اور وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے ساتھ ٹی وی کے سامنے خوشی سے کھڑے ہیں۔

سعودی عرب میں رائل کورٹ کے معاون اور جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی آلشیخ نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ ریاض کے تمام بڑے تھیم پارکس اور تفریحی مقامات میں داخلے کی فیس ایک روز کے لیے ختم کر دی جائے گی۔

بہت کم لوگوں کو یہ امید ہوگی کہ عالمی رینکنگ میں 51 نمبر کی ٹیم دو مرتبہ کے عالمی چیمپیئن کو ہرا دے گی اور سٹار فٹبالر میسی، جنھیں سات مرتبہ نمایاں کارکردگی کے لیے بیلن ڈی او کے انعام سے نوازا گیا، کے جارحانہ کھیل سے خود کو بچا لے گی۔

سعودی عرب کا اگلا میچ پولینڈ کے خلاف سنیچر کو ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ ارجنٹائن کے لیے بڑا جھٹکا ہے

اسے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے بڑے اپ سیٹس میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ میچ سے قبل سب یہی بات کر رہے تھے کہ یہ لیونل میسی کا سال ہوسکتا ہے اور ارجنٹائن 1986 کے بعد دوبارہ عالمی چیمپیئن بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کو لگتا تھا کہ اس میچ میں سعودی عرب کی جیت کا کوئی امکان نہیں۔

عالمی رینکنگ میں ارجنٹائن تیسرے نمبر پر ہے۔ اس نے ماضی میں 36 مرتبہ ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں فتح حاصل کی تھی۔ ادھر سعودی عرب نے ورلڈ کپ میں صرف تین میچ جیتے تھے۔ یہ ٹیم صرف 1994 میں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ پائی تھی۔

مگر سعودی عرب کی فتح نے تمام پیشگوئیاں غلط ثابت کر دیں۔ اس جیت نے 1982 میں سپین کے خلاف شمالی آئرلینڈ کی فتح، 1950 میں برطانیہ کی امریکہ سے ہار، 2002 میں جنوبی کوریا کی اٹلی سے جیت اور 1990 میں ارجنٹائن کی کیمرون سے ہار یاد دلا دی۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں کئی اپ سیٹ دیکھے گئے ہیں مگر تجزیہ کار نیلسن گریسنوٹ کے مطابق ارجنٹائن کی سعودی عرب سے ہار سب سے بڑا ’شاک‘ یعنی جھٹکا ہے۔

گریسنوٹ کے تجزیے میں ٹیم کے کھلاڑیوں کی انفرادی مضبوطی اور مقابلے میں دونوں ٹیموں کے جیت یا ڈرا کے امکانات کو دیکھا جاتا ہے۔

کسی میچ کو اپ سیٹ اس وقت خیال کیا جاتا ہے جب وہ ٹیم جیت جائے جس کی جیت کا امکان سب سے کم ہو اور وہ کسی مضبوط ٹیم کو ڈھیر کر دے۔

سعودی عرب ایشیا کی پہلی ٹیم ہے جس نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں ارجنٹائن کو شکست سے دوچار کیا جبکہ یہ 1990 میں کیمرون کے بعد پہلی غیر یورپی ٹیم ہے جس نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

جولائی 2019 میں برازیل کے خلاف دو ایک کی ہار کے بعد یہ ارجنٹائن کی پہلی شکست ہے۔ اس نے بیچ میں 36 میچ جیتے۔

سعودی عرب نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں چوتھی فتح حاصل کی ہے۔ اس نے کل 17 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 11 بار اسے ہار کا سامنا کرنا پڑا اور دو میچ ڈرا ہوئے۔