فیفا فٹبال ورلڈ کپ:’یہ صرف قطر کا نہیں، تمام عربوں اور مسلمانوں کا ورلڈ کپ ہے‘

    • مصنف, شائما خلیل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، قطر

دوحہ میں گہما گہمی کے مرکز سوق واقف میں اس وقت جوش محسوس کیا جا سکتا ہے۔

جب آپ مارکیٹ میں گھومتے ہیں تو آپ کو مختلف زبانوں میں بولنے والے فینز اپنی ٹیم کی سپورٹ میں جھنڈے لہراتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہر تھوڑی دیر بعد کوئی ایک گروپ اچانک سے شور مچانے لگتا ہے۔

میکسیکو، مراکش اور ارجنٹائن کے مداح خاص طور پر بہت پرجوش ہیں اور یہاں ریستورانوں میں بیٹھے شیشہ اور کھانے سے محظوظ ہو رہے ہیں۔

ایک مصور لیونل میسی کی تصویر پر آخری برش لگا رہے ہیں۔ یہاں آپ کو بہت سے ایسے بچے دکھائی دیں گے جو قطر کی قومی جرسی پہنے ہوئے ہوں گے۔

ناصر جنھوں نے ہم سے اپنا آخری نام شیئر نہیں کیا، نے مارکیٹ میں مداحوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر سے لوگ یہاں موجود ہیں۔ ہم قطریوں کے لیے یہ ایک فخر کا لمحہ ہے۔‘

پھر جیسے ہی افتتاحی تقریب کا آغاز ہوتا ہے تو سب کی نظریں بڑی سکرینز پر جم جاتی ہیں۔

ناجی راشد النعیمی نے مجھے بتایا کہ ’میں یہ بیان بھی نہیں کر سکتا کہ میں کیا محسوس کر رہا ہوں۔ میرا چھوٹا سا ملک آج دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔‘

وہ مارکیٹ میں ’قطری داما کلب‘ کے سربراہ ہیں۔ داما ایک شطرنج کی طرح کی روایتی بورڈ گیم ہے۔ ہم ایک بڑے سے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ان کے تمام دوست ٹی وی کے گرد جمع تھے۔

النعیمی نے مجھے بتایا کہ ’ہم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت جدودجہد کی ہے۔ اس حوالے سے ہمیں بہت ساری مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘

وہ اور ان کے دوست ہمیں افتتاحی تقریب کی علامتی اہمیت کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ ہمیں قطر کی تاریخ اور اس خلیجی ریاست کی ترقی کی داستان کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں۔

قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی اور ان کے والد سابق امیر حماد بن خلیفہ الثانی جیسے ہی سٹیڈیم میں پہنچتے ہیں تو تماشائی تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں سابق سربراہ کو جوانی میں صحرا میں فٹبال کھیلتے دکھایا جاتا ہے۔

اب تک فٹبال سے زیادہ یہاں تنازعات بھاری رہے ہیں۔ ان میں تازہ ترین سٹیڈیمز میں بیئر کی فروخت پر پابندی تھی جو ٹورنامنٹ سے صرف دو روز قبل لگائی گئی۔

اس حوالے سے بھی خوف موجود رہا کہ ایل جی بی ٹی مداحوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا کیونکہ ملک میں شریعت کے قانون کی سخت پاسداری کی جاتی ہے۔ قطر میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے اور یہاں دوسرے ممالک سے آنے والے کارکنوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر بھی سوال کیے گئے ہیں۔

تاہم آپ کو ان قطری مداحوں میں بیٹھ کر یہ ہر گز محسوس نہیں ہو گا کہ یہ سب سے زیادہ متنازع ورلڈ کپس میں سے ایک ہے۔

سلیم حسن الموحنادی نے مجھے بتایا کہ ’یہ ایک خواب کی طرح تھا، اب ہم اسے اپنے سامنے دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے بہت فخر ہے۔ جن لوگوں نے ہم پر تنقید کی۔۔۔ ہم نے انھیں کچھ نہیں کہا۔ آج ہم نے انھیں دکھا دیا ہے۔‘

سعد البدر نے قطر اور اکواڈور کے درمیان میچ دیکھتے ہوئے کہا کہ ’اس (تنقید) سے مجھے دکھ ہوا۔ 12 سال سے ہم پریشان تھے کہ پتا نہیں یہ ہو بھی پائے گا یا نہیں اور اب یہ ہمارے سامنے ہے۔‘

اس چھوٹے لیکن انتہائی امیر خلیجی ملک کے لیے حالات آسان نہیں رہے اور اب اسے بہت کچھ ثابت کرنا ہو گا۔

اگلے مہینے میں قطر کو دنیا کا مرکزی ملک بننے اور اپنی ثقافی، مذہبی اور قدامت پسند شناخت برقرار رکھنے کے درمیان توازن رکھنا بہت اہم ہو گا۔

یہ ایک بڑا دن ہے نہ صرف میزبان ملک کے لیے بڑے پورے خطے کے لیے جہاں یہ ٹورنامنٹ پہلی مرتبہ منعقد ہو رہا ہے۔

الموہنادی نے مجھے بتایا کہ ’یہ ورلڈ کپ صرف قطر کا نہیں۔ یہ تمام عربوں اور مسلمانوں کا ہے۔‘